اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بنگلہ کہانی۔۔۔۔۔۔۔”مکاں کے اک ستون نے مکاں گرا کے رکھ دیا“

57237a8d 9cbe 476b 9d50 2bcfd444635c

بنگال کوئی عام صوبہ نہ تھا بلکہ بہادر اور نڈر لوگوں کے رہنے کی یہ جگہ تھی۔اگرچہ دوسرے علاقوں کی طرح اس سرزمین کو بھی انگریز کے ناپاک قدموں نے آلودہ کیا لیکن اس صوبے نے انگریز سے مقابلہ بھی خوب کیا۔ صوبے دار شائستہ خان نے 1668 ء میں بنگال میں انگریزوں کو شکست فاش سے دوچار کیا اور اگر انگریز سفیر مغل دربار میں زمین پر لیٹ کر تاوان پیش کر کے معافی نہ لے لیتا تو انگریزوں کا صفایا یقینی ہو چلا تھا۔یہ وہی سرزمین ِبنگال ہے جس کے بہادر سپوت نواب سراج الدولہ، کلکتہ کے فورٹ ولیم کی دیواریں توڑ کر اندر داخل ہوئے تو پتا چلا کہ کمپنی کے ارکان تو دریائے ہگلی کے راستے فرار ہو چکے ہیں جبکہ فوجیں ہتھیار ڈالنے کے لیے دست بدستہ کھڑی ہیں۔ اپنوں کی غداری کی بدولت 1757 ءمیں،اس مرد مجاہد نے شکست کھا کر جام شہادت نوش کر لیا۔ 1764ء میں میر قاسم نے بکسر کے مقام پر انگریز سے جہاد کیا۔ ایک ہزار انگریز مقتول ہوا لیکن غداروں نے پھر پلاسی کی تاریخ کو دہرا یا اور میر قاسم کی فتح شکست میں بدل گئی۔

انگریز سے خلاصی کی آخری کوشش جنگ آزادی 1857 ء، جسے غدار، غدر کہتے ہیں، کی ابتدا کا شرف بھی بنگال ہی کو حاصل ہوا۔ اب جب قوم کو احساس ہوا کہ جنگی کے بجائے سیاسی ذریعے سے آزادی کی کوشش کی جائے تو اس کے لیے1906ء میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس نئی جماعت کی جنم بھومی بننے کا شرف بھی بنگال ہی کے شہر ڈھاکہ کو حاصل ہوا۔ 23 مارچ1940ء کو لاہور میں قرار دادِ پاکستان منظور کی گئی تو یہ قرارداد پیش کرنے کا سہرا، شیر بنگال مولوی فضل حق کے سر رہا۔ ان کے علاوہ حسین شہید سہروردی اور خواجہ ناظم الدین بھی تحریک پاکستان کے اہم ”بنگالی لیڈر“تھے۔ اگست 1946 ءمیں ہندؤوں اور سکھوں کی طرف سے تشدد کی پہلی لہر کا مقابلہ کرنے کی سعادت بھی بنگال ہی کو نصیب ہوئی۔ جب کلکتہ، بہار اور نواکھلی میں ان کے خون کی ہولی کھیلی گئی اور لگ بھگ سات ہزارمسلمانوں کو جام شہادت نوش کرنے کا موقع ملا۔
پاکستان بنا تو بنگال کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ مغربی بنگال ہندوؤں کو دیا گیا اور مشرقی بنگال مسلمانوں کے حصے میں آکر مغربی پاکستان کا مشرقی پاکستان کہلایا۔ حصول پاکستان کی فتح کے ساتھ ہی ہم سقوط ڈھاکہ کی شکست کی طرف رواں ہو گئے۔ پہلے تو کئی سال تک دستور کے بغیر ہی کار سلطنت جاری رہا۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کے پہلے آٹھ وزرائے اعظم میں سے چار ”بنگالی“ تھے۔ لیکن یہ خبر بھی درست ہے کہ انھیں چلنے نہیں دیا گیا۔ خواجہ ناظم الدین اور محمد علی بوگرہ کو تو گورنر جنرل ملک غلام محمد نے چلتا کیا اور سہروردی کو اس طرح مجبور کیا گیا کہ انھوں نے دست بدست استعفی پیش کر کے خلاصی حاصل کی اور جہاں تک بیچارے نور الامین کی بات ہے تو ان کی وزارت عظمی اصل میں وزارت صغریٰ ہی کہلائی جا سکتی ہے کہ پورے سترہ دن پر محیط تھی۔زبان کے علاوہ، مالیاتی اور سیاسی حقوق پر بھی مشرقی اور مغربی پاکستان میں اختلاف پایا جاتا تھا بہرحال مختلف فارمولوں سے گزر کر جب دستور ساز اسمبلی دستور کی تکمیل کے قریب پہنچی اور قوم کو یہ خوشخبری سنائی گئی کہ بابائے قوم کی برسی (25 دسمبر1954ء) کے موقع پر قوم کو دستور کا تحفہ دیا جائے گا۔دشمن آئین و انصاف، گورنر جنرل ملک غلام محمد کو یہ صورت حال ایک آنکھ نہ بھائی اور24،اکتوبر 1954 ء کو اس نےدستور سازاسمبلی ہی کو منسوخ کر دیا۔

news 1512517574 6623Khawaja Nazimuddin and Suhrawardyحسین شہید سہروردی اور خواجہ ناظم الدین

نئی مجلس قانون ساز اسمبلی نے وزیر اعظم چودھری محمد علی کی قیادت میں آئین کی تکمیل کر لی اور 23مارچ1956 ء سے دستور نافذ العمل ہو گیا لیکن 17، اکتوبر1958 ءکے سیاہ دن صدر مملکت میجر جنرل اسکندر مرزا اور کمانڈر انچیف جنرل ایوب خانن نے باہم ساز باز کر کے پاکستان کا پہلا ہمہ گیر مارشل لا لگا دیا۔ تمام اہم مقامات پر فوج نے قبضہ کر لیا۔ دونوں صوبوں اور مرکز کی اسمبلیاں اور کابینہ توڑ دی گئیں۔ نو سالہ محنت سے تیار ہو کر56ء میں نافذ ہونے والے دستور کو معطل کر دیا گیا :
اسکندر و چنگیز کے ہاتھوں سے جہاں میں سو بار ہوئی حضرت انسان کی قبا چاک
نظریہ ضرورت کے خالق جسٹس منیر نے کیس کی سماعت کے دوران مارشل لا کو انقلاب کہتے ہوئے قرار دیا کہ کامیاب انقلاب خود ہی دستور و قانون ہوتا ہے۔ کمانڈر انچیف جنرل ایوب نے اس سنہری اصول کو پلے باندھ لیا اور 27، اکتوبر 1958ء کی آدھی رات کو صدر اسکندر مرزا کو گرفتار کر کے ایک ”نیا کامیاب انقلاب“ برپا کر دیا اور صدر مملکت کی کرسی پر بھی خود قابض ہو گئے۔ایوب خان کی مارشل لائی کابینہ میں ۴ جرنیلوں سمیت قائد و شہید ِ جمہوریت ذولفقار علی بھٹو بھی شامل تھے۔ صدر ایوب نے جون 1962 ءمیں نیا آئین نافذ کیا جس کے تحت وہ مارچ65 ء تک صدر نامزد ہو گئے۔تمام اختیارات صدر کی ذات میں جمع کر دئے گئے تھے صوبوں کے اختیارات بہت محدود کر دیے گئے۔ براہ راست انتخابات کے بجائے بنیادی جمہوریت کا فلسفہ تراشا گیا۔ایوب اس نئے سیاسی نظام میں اپنی جگہ بنانے کے لیے کنونشل مسلم لیگ بنا کر اس کا صدر بن بیٹھا۔

اگرچہ ایوبی دور کے ابتدائی حصے میں کئی اچھے کام مثلا مہنگائی میں کمی اور صنعتوں کا قیام وغیرہ انجام دیے گئے لیکن جرنیلی جبر و استبداد نے ایوب خان کو ناپسندیدہ بنا دیا۔ایوب خان نے صحافت و سیاست کا گلا گھونٹ دیا۔ جماعتوں پر پابندی اور سیاست دانوں کو نا اہل یا پابند سلاسل کیا گیا۔ عدالتوں کو پابند کیا گیا کہ وہ مارشل لا حُکّام یا فوجی عدالتوں کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دے سکتیں۔ 1964ء کے صدارتی اور صوبائی انتخابات میں دھاندلی اور پاک بھارت جنگ کے بعد معاہدہ تاشقند میں ناکامی کے الزام نے ان کی مقبولیت کو خاک میں ملا دیا۔ کرپشن میں اضافے، انتظامیہ میں فوجی عمل دخل اور فوجوں کی مراعات میں بے تحاشا اضافے اور مارشل لا کی طوالت نے عوام کو حکومت سے بیزار کر دیا۔ ملک کے طول و عرض میں متحدہ اپوزیشن نے احتجاجی تحریک شروع کر دی۔جس پر ایوب خان نے اپنے ہی بنائے ہوئے آئین کو معطل کر کے ایمرجنسی نافذ کر دی۔فروری 1966 ء میں متحدہ اپوزیشن کا لاہور میں اجلاس ہوا۔ جس میں شیخ مجیب الرحمن نے اپنے مشہور چھے نکات پیش کیے۔

دوسری جماعتوں نے ان نکات سے اختلاف کرتے ہوئے انھیں علیحدگی کا منصوبہ قرار دے دیا۔حکومت نے تمام اپوزیشن لیڈروں کو گرفتار کر لیا۔معاہدے تاشقند پر احتجاج کر کے استعفی دینے والے سابق وزیر خارجہ مسٹر ذو الفقار علی بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی بنا کر ایوب مخالف تحریک میں شامل ہو گئے۔ان دنوں ایوب نے جنرل یحی خان کو کمانڈر انچیف بنا دیا۔ مجیب الرحمن اور دیگر پینتیس افراد کو ”اگرتلہ سازش کیس“ میں گرفتار کر لیا۔جب حکومت تحریک کو نہ دبا سکی تو 1968ء کے آخر میں تمام سیاسی لیڈروں کو رہا کر کے انھیں گول میز کانفرنس کی دعوت دی گئی۔ جس کے نتیجے میں ایمرجنسی اٹھا دی گئی۔ ایوب خان ملک میں صدارتی کے بجائے پارلیمانی نظام اور بنیادی جمہوریت کے بجائے براہ راست بالغ رائے دہی کی بنیاد پر الیکشن اور آئندہ صدارتی انتخابات میں شرکت سے اجتناب پر راضی ہوئے۔23 مارچ 1969 ء کو فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اپنے عہدے سے الگ ہوئے اور اقتدار کمانڈر انچیف جنرل آغامحمد یحیٰی خان کے سپرد کر دیا جو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ انھی کے دورحکومت میں پاکستان ٹوٹنے کا سانحہ پیش آیا:
وہ زندگی سے کیا گیا، دھواں اڑا کے رکھ دیا   مکاں کے اک ستون نے مکاں گرا کے رکھ دیا
یکم جنوری 1970 ء سے سیاسی سرگرمیوں پر سے پابندی اٹھا لی گئی جبکہ دسمبر میں الیکشن منعقد ہونے تھے۔ بنگال کے اکثر طبقات پاکستان سے ذہنی رشتہ توڑ چکے تھے پاکستان آرمی کے بنگالی جوان اور افسران،مغربی پاکستان کے جوانوں اور افسروں سے روکا پھیکا رویہ رکھتے تھے شیخ مجیب اور اس کے چھ نکات سے ہمدری عام تھی۔ شیخ مجیب نے11 جنوری کو پلٹن گراؤنڈ میں عوامی لیگ کے عظیم الشان جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 1956کے آئین میں برابری کا اصول مان کر غلطی کی تھی۔اب ہم اس کی مزاحمت اور بنگالی حقوق کی حفاظت کریں گے۔ عوامی لیگ نے دوسری سیاسی جماعتوں کے جلسے جلوسوں میں گڑ بڑ پیدا کرنے کی کامیاب کوششیں کیں۔

اس طرح تمام جماعتوں کی انتخابی مہم ناکام ہوئی اور ہر طرف عوامی لیگ کا طوطی بولنے لگا۔ عوامی لیگ نے مختلف طبقات کو اپنے ساتھ ملا کر جلوس و ہڑتال اور پرتشدد کاروائیوں سے انتطامیہ کی ناک میں دم کر دیا۔فائرنگ اور بم دھماکوں سے ہر طرف خوف و ہراس کے سائے چھا گئے۔جون1970 میں ون یونٹ توڑ کر صوبائی حکومتیں بحال کر دی گئیں البتہ ریاستوں کو مختلف صوبوں میں ضم کر دیا گیا۔ ان حالات میں دسمبر کا مہینہ آ گیا۔7دسمبر1970ء کو پاکستان کی تاریخ کے پہلے عام انتخابات ہوئے۔ قومی اسمبلی کے، 300 اراکین میں سے 162،مشرقی پاکستان جبکہ138 مغربی پاکستان میں سے منتخب ہونے تھے۔ پولنگ فوج کی ”نرم نگرانی“ میں ہوئی۔ مشرقی پاکستان کی کل162میں سے161،سیٹیں عوامی لیگ نے جیت لیں۔مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی ۲۸ سیٹوں کے ساتھ سرفہرست تھی لیکن دونوں اکثریتی پارٹیوں کو دوسرے بازو میں کوئی سیٹ نہ حاصل ہو سکی تھی۔اس صورت حال کے شراکت داروں کے ذہن دیکھیے: شیخ مجیب کا کہنا تھا کہ ہم چھ نکات کی بنیاد پر الیکشن جیتے ہیں اور ان کے مطابق آئین کی تشکیل ضروری ہے اور الیکشن کے نتائج کو سبوتاژ کرنے والوں کو بنگالیوں کی لاٹھیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بھٹو کا کہنا تھا کہ ہمارے بغیر کوئی آئین سازی نہیں ہو سکتی اور ہم بنگالیوں کے علٰیحدگی کے منصوبے کی حمایت نہیں کر سکتے۔صدیق سالک کے بیان کے مطابق فوجی ذہن ایک فوجی آفیسر کے الفاظ سے یوں جھلکتا ہے ”آپ فکر نہ کریں۔ ہم ان کالے حرامیوں کو اپنے اوپر ہر گز حکومت نہ کرنے دیں گے“

images 1بھٹو اور شیخ مجیب

۔چاہیے تو یہ تھا کہ انتخابی نتائج کے بعد جلد قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جاتا لیکن اس میں تاخیر ہوتی رہی۔ مجیب الرحمن نے اعلان کیا کہ زیادہ سے زیادہ 14فروری تک قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے لیکن ذوالفقار بھٹو اسمبلی سے باہر کوئی سمجھوتہ چاہتے تھے اس لیے وہ اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد کے حق میں نہ تھے۔ جنوری1971ء سے مارچ تک، یحی مجیب اور پھر بھٹو شیخ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ فروری71کے وسط میں حکومت نے اعلان کیا کہ اسمبلی کا اجلاس 3 مارچ1971 ء کو ڈھاکہ میں ہو گا۔ دو روز بعد ذولفقار بھٹو نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اعلان کیا ”اگر پیپلز پارٹی کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم کراچی سے خیبر تک طوفان برپا کر دیں گے“شیخ مجیب اور مغربی پاکستان کی انتظامیہ نے بار ہا درخواست کی کہ اگر ملتوی کرنا ہے تو ساتھ ہی نئی تاریخ مقرر کر دیں۔ لیکن حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس بغیر کسی نئی تاریخ کے ملتوی کر دیا۔ جس پرعوامی لیگ کی طرف سے پر تشدد اور اشتعال انگیز احتجاج شروع ہوگیا۔

download 2

فوج کی فائرنگ سے کئی آدمی ہلاک ہو ئے تو تحریک میں تیزی آ گئی۔2 اور3 مارچ کو ڈھاکہ اور پورے صوبے میں ہڑتال اور پھر چند روز کی مہلت دینے کے بعد عدم تعاون کی تحریک کا آغاز کر دیا۔25 مارچ1971ء کی شب شیخ مجیب کو گرفتار کر کے،سرچ لائٹ کے نام سے فوجی آپریشن شروع کیا گیا۔23 مارچ 1971ء کو پاکستانی فوج کے ایک باغی افسر میجر ضیا الرحمان نے آزاد مشرقی پاکستان کا اعلان چٹاگانگ میں کیا۔ دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے باغیوں سے تعاون کا اعلان کر دیا اور کلکتہ میں بنگلہ دیش کی جلاوطن حکومت قائم کی گئی۔ایسٹ بنگال رجمنٹ اور ایسٹ پاکستان رائفلز نے بغاوت کر دی۔

انھیں پاکستان آرمی کے سابق کرنل عطا الغنی عثمانی نے مُکتی باہنی کی صورت منظم کیا۔ عوامی لیگ کے رضاکاروں، یونیورسٹی کے طلبہ اور عام بنگالیوں کو مکتی باہنی میں شامل کر کے انھیں تربیت دی گئی۔ بھارتی افسران بھی اس میں شامل تھے۔ تاہم بندوقوں کی دونوں جانب بظاہر پاک فوج کے جوان و افسران تھے۔مارچ سے لے کر مئی تک یہ فوجی آپریشن چلتا رہا اور مختلف شہر باغیوں کے قبضے سے چھڑائے بھی گئے۔اس عرصے میں ہزاروں کی تعداد میں باغی جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں فوجی مارے گئے۔باغیوں نے غیر بنگالیوں کو بڑی بے دردی سے قتل کیا۔ مکتی باہنی مختلف تخریبی کاروائی کرتی رہی۔ کہیں بارودی سرنگ بچھا دیتے، کبھی دستی بم،اور کبھی ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ کردیا،ریل کی پٹڑیاں اکھاڑ دیں یا بجلی کی تنصیبات اڑا دیں۔اگست اور ستمبر سے انھوں نے فوجی قافلوں پر حملے اور اہم شخصیات کو قتل کرنا شروع کیا۔مارچ میں فوجی آپریشن شروع ہو تے ہی ہندوستان نے مشرقی پاکستان میں مداخلت کے لیے سفارتی اور جنگی دونوں محاذ وں پر تیاری شروع کر دی۔جون کے مہینے سے انڈیا نے سرحدوں پر بمباری کے علاوہ سرحدوں کے اندر جنگی اہمیت کے مقامات پر قبضہ اور مورچہ بندی شروع کر دی ہماری طرف سے واویلے کے علاوہ کوئی موثر کاروائی نہ کی گئی۔
بنگال میں پاک فوج کے صرف 2 ڈویژن فوج موجود تھی نومبر کے وسط میں ایسٹرن کمانڈ نے مغربی پاکستان سے دو ڈویژن فوج مزید طلب کی تو وہاں سے صرف آٹھ پلٹن بھیجنے کا وعدہ ہوا۔ پانچ پلٹنیں نومبر کے آخر میں پہنچیں جبکہ تین پہنچ ہی نہ سکیں جبکہ مقابلے میں آٹھ ڈویژن فوج موجود تھی۔ مکتی باہنی کی تعداد اس کے علاوہ تھی۔ محب وطن رضا کاروں کو جن میں اکثریت جماعت اسلامی کے کارکنان کی تھی جنھیں الشمس اور البدر کے نام سے منظم کیا گیا انھوں بہت قربانیاں دیں۔ جس کا خمیازہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش آج تک بھگت رہی ہے۔
پاک آرمی کی ہائی کمان کی پیشہ ورانہ لیاقت کا حال یہ تھا کہ ایسٹرن کمان کو بنگالی رجمنٹوں اور یونٹوں کو ختم کر کے ان کی نفری کو دوسری یونٹوں میں ضم کرنے کی بروقت اجازت، بار بار مانگنے کے باوجود نہیں دی گئی۔ اسی طرح آپریشن کے بعد باغیوں کے لیے عام معافی کی اجازت اپریل سے مانگی جاتی رہی لیکن اس کی اجازت کوئی چار ماہ بعد جا کر دی گئی جب باغی انڈیا میں پناہ حاصل کر کے مکتی باہنی میں شمال ہو چکے تھے۔
پاک فوج کی ہائی کمان کا اخلاقی حال یہ تھا کہ کمانڈر ایسٹرن کمانڈر ٹکا خان سے چارج لیتے وقت جنرل نیازی نے پوچھا ”اپنی داشتاؤں کا چارج کب دو گے“۔(میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا)جون میں جب صدر یحی خان کو بار بار مشرقی پاکستان بلایا جا رہا تھا تو بہت دیر کر کے جب وہ راولپنڈی سے کراچی پہنچے تو بقول ایک میجر جنرل کے ”اس کتیا“ کے چنگل میں ایسے پھنسے کہ ڈھاکہ جانا ہی بھول گئے۔سی ایم ایچ کی نرسوں نے جب متوقع شکست کے پیش نظر عرض کیا کہ ہمیں مکتی باہنی کے غنڈوں کے ہتھے چڑھنے سے پہلے مغربی پاکستان بھجوا دیں کیونکہ وہ عورتوں کے ساتھ بہت برا سلوک کرتے ہیں تو جنرل نیازی کا جواب یہ تھا۔ خدانخواسہ ہمیں شکست ہو گئی تو مکتی باہنی کے ہاتھ آنے سے پہلے ہم خود آپ کو ہلاک کر دیں گے۔(میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھاصفحہ۰۰۱،۱۷۱،۲۰۲،۱۱۲)
تین دسمبر سے جب کھلی جنگ شروع ہوئی تو ابتدا ہی میں ڈھاکہ کا اکلوتا ہوائی اڈہ ناکارہ ہو گیا اور کوئی جہاز اڑان کے قابل نہ رہا۔ بحریہ میں چند کشتیاں تھیں۔برّی فوج کو تعداد اور ایمونیشن کی کمی لاحق تھی۔رسد کے راستے مسدود ہونے سے وہ راشن کی کمی کا بھی شکا ر ہو رہے تھے۔عوام الناس کی اکثریت مخالف تھی۔ لمبے عرصے کی انتظامی ڈیوٹی اور مارچ سے جاری فوجی آپریشن اور مقامی آبادی کی تخریبی کاروائیوں نے پہلے ہی پاک آرمی کو تھکا رکھا تھا۔جنگ کے بالکل ابتدائی دنوں ہی سے پاکستانی فوجوں نے پسپائی شروع کر دی تھی۔ جنرل نیازی کی طرف سے ہر طرف سب ٹھیک ہے کی رپورٹ جا رہی تھی۔ ۷ دسمبر کو پہلی دفعہ انھوں گورنر ڈاکٹر مالک کے سامنے فوج کی پسائی کا اعتراف بچوں کی طرح آنسو بہا کر کیا۔ گورنر نے ۷ دسمبر کو صدر مملکت کو تار بھیج کر خراب صورت حال سے آگاہ کیا اور درخواست کی کہ وہ جنگ بندی اور سیاسی تصفیے کی کوشش کریں۔کوئی جواب نہ پا کر اگلے دن انھوں نے ایک اور تار بھیجا لیکن جواب ندارد۔!!

نو دسمبر1971 کو نیازی نے صدر کو نازک صورت حال سے آگاہ کیا۔اب صدر نے گورنر مالک کو کسی مناسب فیصلے کا اختیار دے دیا۔ اگلے دنوں میں ڈاکٹر مالک نے ڈھاکہ میں موجود اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری کو خط لکھا جس میں اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے کرنے، بھارتی فوجوں کی واپسی، پاکستانی فوجوں کی باعزت واپسی اور جنگ بندی وغیرہ کی بات کی گئی۔ ذولفقار بھٹو نے اس خط پر بہت واویلا مچایا کہ میں تو چین اور امریکہ کو مداخلت پر آمادہ کر رہا تھا لیکن میری کوششیں ضائع ہو گئیں ۔ اس پر مرکزنے جنگ بندی کی درخواست کی تردید کر دی تو معاملہ رک گیا۔ اس دوران مغربی پاکستان سے افواہ چلی کہ چین اور امریکہ ہماری مدد کو آ رہے ہیں۔ لیکن ان ملکوں کے نمائندوں نے ایسی کسی کاروائی سے لا علمی کا اظہار کیا۔ اس انتظار میں چند روز گزر گئے۔ڈھاکہ میں ایمونیشن اور راشن ایک ماہ کے لیے کافی تھا لیکن نفری نہ تھی، فوج، پولیس اور رضاکاروں کو ملا کر بھی نفری بہت کم تھی۔21 دسمبر کو جنرل نیازی کی خواہش پر گورنر کی طرف سے صدر کو تار بھیجا گیا لیکن14 دسمبر تک کوئی جواب نہ آیاتو گورنر ڈاکٹر مالک نے استعفی دے دیا۔اسی دن انڈیا کے جہازوں نے ڈھاکہ پر بمباری کی جس سے گورنر ہاؤس کے مرکزی ایوان کی چھت اڑ گئی۔ ڈاکٹر مالک ان کے وزرا اور اعلی سرکاری افسران نے ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل سے رجوع کیا جسے ریڈ کراس نے غیر جانبدار علاقہ قرار دیا تھا۔ یہ تحریری اقرار کرنے پر کہ ہمارا دونوں ملکوں سے کوئی تعلق نہیں انھیں یہاں پناہ ملی۔
14 دسمبر کوجنرل نیازی نے صدر کو جنگ بندی کے لیے درخواست کی۔ وہاں سے جواب آیا آپ جو مناسب کارروائی کریں آپ کو اجازت ہے۔ جنرل نیازی اور جنرل فرمان، امریکی قونصلر سے ملے اور انڈین آرمی چیف جنرل مانک شاہ کے نام پیغام لکھا گیا جس میں بعض تحفظات مثلا بیماروں اور زخمیوں کی حفاظت،پاکستانی مسلح افواج کا تحفظ اور مکتی باہنی سے عوام اور حکومت حمایتی لوگوں کے تحفظ وغیرہ پر، جنگ بندی کی درخواست کی گئی۔
پندرہ دسمبر کو مانک شا کا مثبت جواب ملا جو راولپنڈی ارسال کیا گیا وہاں سے اسی دن منظوری ہو گئی۔چناں چہ دونوں کمانڈروں نے مزید تفصیلات طے کرنے کی غرض سے،15 دسمبر شام پانچ بجے سے سہ پہر 16 دسمبر تک جنگ بندی کی۔ البتہ اس دوران بھارتیوں کی پیش قدمی جاری رہی۔16 دسمبر کی صبح ایک بھارتی دستہ ڈھاکہ کے باہر میر پور پل پر پہنچ گیا لیکن یہاں پاک فوج کی طرف سے مزاحمت پر کچھ نقصان اٹھا کر پسپا ہوا۔ اس کے پیچھے میجر جنرل ناگرا آ رہا تھا، اس نے یہاں پہنچ کر نیاز ی کو ایک مختصر خط لکھا ”پیارے عبد اللہ، میں میر پور پل پر ہوں اپنا نمائندہ بھیج دو“۔ استقبال کو میجر جنرل جمشید کو بھیجا گیا۔ انھوں نے میجر سلامت کو فائر سے روک کر ”سیز فائر“ کے آداب کا خیال رکھنے کی تاکید کی۔ انگلی لبلبی سے ہٹ گئی اور جنرل ناگرا بغیر گولی چلائے ڈھاکہ میں داخل ہو گیا۔سہ پہر کو انڈین ایسٹرن کمانڈ کے چیف آف سٹاف جنرل جیکب ایر پورٹ پر اترے وہ اپنے ساتھ دست آویزِ سقوط لے کر آئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد ا نڈین ایسٹرن کمانڈر جنرل جنگجیت سنگھ اروڑا، ایر پورٹ پر اترے جن کا استقبال جنرل نیازی نے کیا۔ جب وہ اپنی بیوی کے ہمراہ اترا تو بنگالی مردو عورتوں نے انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا اور پھولوں کے ہار پہنائے۔بنگالی چہروں پر انڈین کے لیے تشکر اور پاکستانیوں کے لیے نفرت کے جذبات عیاں تھے۔
فاتح و مفتوح جرنیل یہاں سے سیدھے رمنا ریس گراؤنڈ گئے۔ جہاں لاکھوں بنگالیوں کے سامنے نیازی نے ہتھیار پھینکنے۔ ایک چھوٹی سے میز پر سقوط کی دستاویز پر دستخط ہوئے اور نیازی نے اپنا ریوالور خالی کر کے اروڑا کو پیش کیا۔ جس نے گارڈ آف آنر کا معائنہ بھی کیا۔ چونکہ ابھی انڈین آرمی کی تعداد پاکستانی فوجیوں کو”مکتی باہنی“کے آتش غضب سے بچانے کے لیے ناکافی تھی اس لیے چھوٹے ہتھیار رکھنے کی اجازت دی گئی ورنہ اصولی طور پر اب پاک فوجی قیدی تھے۔19 دسمبر کو ڈھاکہ کے عام پاکستانی فوجیوں کو غیر مسلح کیا گیا اور ڈھاکہ چھاؤنی کے گولف گراونڈ میں پاک فوج کے افسروں سے ہتھیار ڈلوانے کی تقریب منعقد ہوئی۔ دوسرے مقامات پر بھی فوج نے 16سے20 دسمبر 1971ء کے درمیان کے درمیان ہتھیار ڈالے۔اب مکتی باہنی،غیر بنگالیوں، پنجابیوں، پٹھانوں اور بہاریوں وغیرہ کے قتل و غارت اور لوٹ کھسوٹ میں لگ گئی۔ معاہدے کے مطابق پاکستانی فوجوں اور عوام کی جان و مال کی محافظ انڈین آرمی کو مالِ غنیمت سمیٹنے سے فرصت نہ تھی تو وہ کسی کا تحفظ کیا کرتی۔جب انڈین آرمی کو مال غنیمت سمیٹنے سے کچھ فراغت نصیب ہوئی تو قیدیوں کو کلکتہ منتقل کرنا شروع کیا۔ آرمی کے افسران کو اسی فورٹ ولیم میں رکھا گیا جہاں کبھی سراج الدولہ نے انگریزوں کو شکست فاش دی تھی۔گویا انھوں نے تاریخ یاد رکھی اور ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور نہ سیکھنے کا ارادہ ہے۔اس لیے کہ اس عظیم سانحے کی مکمل تحقیقی رپورٹ تو شائع ہی نہیں کی گئی اور جو تھوڑی بہت شائع بھی ہوئی ہے تو اسے عام نہیں کیا گیا۔اور اس لیے بھی کہ ہماری ”دونوں قیادتیں“ اسی رخ پر چل رہی ہیں جس کے نتیجے میں سقوط ڈھاکہ ہوا تھا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481