اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ہم خلاف اصول بات یا غلط رویے کے لیے بھی نرم گوشہ کیوں رکھتے ہیں؟

8a92aaff ca85 40bd 8a89 bfb789fe1124 1

یقینا آپ کے مشاہدے میں بھی آیا ہو گا کہ بعض اوقات ہم کسی خلاف اصول بات یا غلط رویے کے لیے بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں یا اس کے حق میں دلائل پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس رویے کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟؟

  • خوف اور ڈر
  • لالچ اور مفادات
  • جہالت
  • دوستی و تعلق
  • ذاتی اخلاقی کمزوری، وغیرہ

آپ نے بڑے سلجھے ہوئے لوگوں کو نیشنل میڈیا پر بیٹھ کر چوروں، ڈاکوؤں، غداروں اور لٹیروں کی تعریف و توصیف نہ سہی اس حوالے سے کنی کترا کے گزرتے ہوئے ضرور دیکھا ہو گا۔ حال آنکہ آپ ان سے قطعا یہ توقع نہیں رکھتے۔ لیکن صاحبان اختیار طاقت کے نشے میں اخلاق و تہذیب کہاں یاد رکھتے ہیں۔ اس لیے کئی بار اچھے لوگوں کو بھی مجبورا ضمیر کی آواز کو دبانا پڑتا ہے ورنہ جیل اور پھانسی ان کی منزل ہوتی ہے۔

کچھ لوگ مجبوری کے باعث اس قبیح فعل کے مرتکب نہیں ہوتے بلکہ اس بے اصولی یا غلط رویے سے ان کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر اصلاح احوال ہو گئی تو ان کے مفادات پر زد پڑے گی۔ یا اگر بے اصولی کرنے والے کا معاملہ ہے تو اس کی صریحا مذمت سے ان کو نقصان پہنچے گا۔

ممکن ہے کچھ لوگوں کو قرآنی حکم کا کما حقہ علم و ادراک نہ ہو کہ

و تعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان۔

اس لیے وہ اپنی جہالت کی وجہ سے ظلم، زیادتی، بے اصولی یا افعال قبیح میں ملوث لوگوں کی حمایت و استعانت میں پیش پیش رہتے ہیں۔

کچھ لوگ فلمی دنیا میں بھی زندگی گزارتے ہیں۔ "دوست کے عیب نہیں دیکھے جاتے”،  "دوست سے ہر حال میں وفاداری مرد کرتے ہیں”،  "بندے کو یاروں کا یار ہونا چاہیے”،  "دوست جان مانگے تو خاموشی سے اس پر وار دو” طرح کے فلمی ڈائیلاگ آج کل سوشل میڈیا پر مقبول و معروف ہیں۔ حال آنکہ قرآن میں واضح طور پر رب العالمین نے ہمیں آگاہ کیا ہے کہ کل آخرت میں ناکام لوگ جہاں اور بہت سی کوتاہیوں اور غلطیوں پر اظہار تاسف کریں گے وہاں برے دوست کے بارے میں بھی کہیں گے۔۔

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا۔
میری بربادی۔۔۔کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔

ایک نکتے کی طرف خصوصی توجہ مبذول کروانا ضروری ہے کہ بعض اوقات ہم کسی بے اصولی کے حق میں اس لیے بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں کہ ہم خود اس کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہم خود تمباکو نوشی کرتے ہیں تو اس کے حق میں بڑی کمزور سی دلیلیں پیش کرنا شروع کر دیں گے۔ کوئی رشوت لینے یا دینے میں ملوث ہے تو وہ اس کے حق میں نہایت فضول دلائل لے آئے گا۔ کوئی جھوٹ بولتا ہے تو وہ یہ کہتا نظر آئے گا آج کے دور میں جھوٹ کے بغیر گزارہ نہیں۔

یاد رکھیے۔۔ رب کائنات نے سورہ احزاب میں واضح طور پر حکم دے دیا ہے کہ بات کرتے ہوئے، اظہار خیال کرتے ہوئے، تقریر کرتے ہوئے، جرگے کے رو بہ رو پیش ہوتے ہوئے، اخبار میں کالم لکھتے ہوئے۔۔۔ بے ضمیری مسلمان کا شیوہ ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا۔

رب العزت ہم سب کو سچ کہنے، سچ لکھنے اور سچ سننے کی توفیق اور حوصلہ عطا فرمائے۔ آمین

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481