اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سانحہ پشاور کے معصوم شہداء

IMG 20221223 WA0067

Screenshot 20221223 131829 1

صاحب مضمون

کون سی مصلحت پہ ہیں وارے گئے
میرے معصوم مکتب میں مارے گئے

تصویر میں موجود یہ بچے آرمی پبلک سکول پشاور کے معصوم شہداء کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ آج یہ سطور تحریر کرتے ہوئے میرا قلم لرز رہا ہے۔ میں لکھوں تو کیسے لکھوں کہ وہ میرے اپنے ہی بچے تھے جن کو جاتے ہوئے ماں نے سختی سے منع کیا ہو گا کہ بیٹا کپڑوں پر سیاہی مت گرانا، یہ داغ صاف نہیں ہوتے۔ لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ اُن کے لخت جگر اپنے ہی خون میں لت پت لوٹیں گے۔ اُس دن سکول جاتے ہوئے سینکڑوں ماؤں کے راج دلاروں نے اپنے والدین سے کئی وعدے لیے ہوں گے کہ واپسی پر میں نے یہ کھلونا لینا ہے، شام کو فلاں پارک بھی جانا ہے، ڈنر میں یہ کھانا ہے۔ میں لکھوں تو کیسے لکھوں کہ وہ میرے زازے اور ولی جیسے خوبصورت پھول تھے۔ جب میں اپنے ان بیٹوں کی طرف آج صبح دیکھ رہا تھا کہ یہ کتنے ہشاش بشاش ہیں کہ ایک دن بعد سکول سے چھٹی ملے گی۔ اس لمحے میں نے سوچا کہ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں امتحانات دینے والے کتنے بچے چھٹیوں کے انتظار میں تھے اور قدرت نے ان کو چھٹیوں سے پہلے ہی نہ ختم ہونے والی رخصت پر بھیج دیا۔

آج میرے قلم کی روشنائی مجھے سُرخ محسوس ہو رہی ہے کہ ان معصوموں کا خون اس بے دردی سے بہایا گیا کہ مظلوم پاکستان کے سارے والدین کا دل لہو لہو ہے۔ کل ہم بنگال کی علاحدگی پر رو رہے تھے اور آج میں اُن معماروں کی جدائی پر رو رہا ہوں کہ جنہوں نے پاکستان کو اتنا مضبوط بنانا تھا کہ پھر بنگال جیسی سازش کا کوئی تصور بھی نہ کر سکتا۔ پہلے میرا قلم رک رک کر چلتا تھا لیکن آج نہ جانے کیوں میرے قلم کی روانی میرے جذبات اور خیالات کو بہائے چلی جا رہی ہے۔  بالکل اس نیم پاگل باپ کی طرح جو بنا سوچے، بنا سمجھے کمزور کمر کے ساتھ اپنے لختِ جگرکے تابوت کو نہ چاہتے ہوئے بھی قبرستان کی طرف لےکر جا رہا ہوتا ہے۔ آج اس ناتواں بوڑھے سے بڑھ کر کمزور کئی ایسے والدین ہیں جنھوں نے ہماری تاریخ کے اس بدترین اور سفاک سانحہ کے نتیجے میں اپنے پھولوں کو اپنے ہاتھوں سے حوالہ خاک کیا۔ خدا جانے ان کی حیات کتنی طویل ہو لیکن وہ ہمیشہ یہ یاد کر کے پل پل مرتے رہیں گے کہ ان کے ہاتھوں میں ان کے معصوم بچے تڑپ تڑپ کر اور آہ زاری کرتے ہوئے چل بسے لیکن یہ ان کو بچا نہیں سکے۔ یہ وہی والدین ہیں جو اولاد کو کانٹا چبھنے پر اپنے سینے میں خنجر اترتا محسوس کرتے تھے۔ یہ وہی والدین ہیں جو بارش کے وقت چھتری کے بغیر بچوں کو باہر نہیں نکلنے دیتے تھے کہ کہیں بھیگ نہ جائیں لیکن آج یہ اپنے ہی لہو میں نہائے سکول سے لوٹے تھے۔ وہ گرمی اور دھوپ میں اپنے بچوں کو ہر لحاظ سے محفوظ بنا کر رخصت کیا کرتے تھے لیکن آج کمرہ جماعت ہی ان کا مقتل بن گیا۔ آج ان کا لنچ باکس اسی طرح واپس آگیا۔ وہ زندہ ہوتے تو اپنی ماؤں سے ڈھیروں ڈانٹ کھاتے کہ تم اس لیے کمزور ہو کہ وقت پر کھانا نہیں کھاتے۔ لیکن آج ان کی کوئی غلطی نہیں تھی۔ وہ تو کھانا چاہتے تھے مگر ظالموں نے انھیں سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا تھا۔

آج ویک اینڈ کی شام نہ جانے کیوں خاموش ہے۔ آج پبلک پارک میں کیاریوں میں کھلی کلیاں ہنستے کھیلتے پھولوں جیسے بچوں کی منتظر ہیں۔ لیکن نہ جانے ان کے دوست آج کیوں نہیں آئے۔ پارک کے دروازے پر کھڑے بندوق اُٹھائے ایک نوجوان نے اپنے بازو پر سیاہ رنگ کی پٹی باندھ رکھی ہے۔ اس کے آنسوؤں کی مالا کے موتی زمین پر گر رہے ہیں ۔ حال آنکہ آنسو تو وہ قیمتی موتی ہوتے ہیں جن کے مقابلے میں ہیرے اور جواہرات بھی کم قیمت ہیں۔ میرا قلم تیز رفتاری سے چلتے چلتے نہ جانے کیوں اچانک رُکنے لگا ہے۔ ہم لکھاری بہت بلند حوصلہ ہوتے ہیں۔ مگر آج مجھے خود پر حیرت ہو رہی ہے کہ میں بھی حوصلہ ہار بیٹھا ہوں۔ لیکن نا اُمید ہر گز نہیں ہوں کہ نا امیدی کفر ہے۔ آج میں خستہ حال ضرور ہوں اور سوچتا ہوں کہ اس دھرتی ماں کے ساتھ اس کے بعد اگر کچھ ہوا تو مجھ جیسے سینکڑوں محبان وطن اپنا حوصلہ ہار بیٹھیں گے۔ وہ مضبوط کمر اور دل کہاں سے لائیں کہ جو ہر لمحے معصوموں کی لاشیں اُٹھا سکیں۔ سانحہ پشاور کی شام کو میں نے دیکھا کہ ایک ماں ایمبولینس کے شیشوں سے جھانک کر اپنے بچوں کو تلاش کر رہے تھی۔ آج اس بہن کو اپنے دوپٹے کا ہوش ہی نہیں تھا جو اپنی چادر کو ایک لمحے کے لیے بھی سر سے سرکنے نہیں دیتی تھی۔ آج میری آنکھیں خون کے آنسو کیوں نہ بہائیں کہ وہ میری سگی بہن جیسی تھی۔ ایک دوست نے بتایا کہ ایک گھر کے تین پھول دو بڑے بھائی اور ایک ننھی کلی صبح دوڑ دوڑ کر گاڑی میں بیٹھے تھے کہ اُنھیں جلدی سکول سے واپس آنا تھا۔ لیکن وہ کبھی نہ آسکے۔

آج کے دن سینکڑوں خاندان اپنی اولاد سے ہی محروم نہیں ہوئے بلکہ یوں کہیے کہ اس ملک کا مستقبل خوں خوار درندوں کے ہاتھوں شہید ہو گیا۔ اس ملک کے معماروں کو اور مستقبل کے روشن ستاروں کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی۔ نہتے پر حملے کو پوری دُنیا میں بزدلی کا نام دیا جاتا ہے اور پھر یہ تو معصوم طالب علم تھے جو علم کی شمع روشن کرنے اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کے خواب آنکھوں میں سجائے کمرہ جماعت میں براجمان تھے۔ ظالم درندوں کی اُن سے کیا دشمنی ہو سکتی ہے؟

آج ہم ایک روزہ سوگ کا اعلان کریں، تین روزہ سوگ کا یا سو سالہ سوگ کا ارادہ کر لیں اس سے کیا تبدیلی آ سکتی ہے۔ اگر بدلنا ہے تو اپنا انداز فکر بدلیں۔ سچ کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں۔ اپنی تربیت نفس کریں تاکہ نئی نسلوں کی بہتر تعلیم و تربیت کی راہ ہموار ہو۔

اس سانحہ میں دو افسر اور سات جوان زخمی ہوئے۔ لیکن سینکڑوں بچوں کو بچا لیا گیا۔ بدبخت دہشت گردوں نے ایک لیڈی ٹیچر کو زندہ جلا دیا۔ اس قہر میں 141 معصوم شہید ہوئے۔ سات دہشت گردوں نے عالم اسلام کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ وہ عربی زبان بول رہے تھے اور بڑی مقدار میں اسلحہ اُن کے پاس تھا۔ دس سے پندرہ منٹ میں وہ پورے سکول پر قابض ہو گئے تھے۔

اس ملک کے حکمرانوں کو اپنی اولادوں کو سامنے رکھ کر ملک پاکستان سے وفاداری کا عہد کرنا ہو گا ورنہ طوفان کی لہریں یہ نہیں دیکھتیں کہ ان کی زد میں آنے والا کون ہے۔ کالا ہے یا گورا، مزدور ہے یا وزیر۔ خدا کرے اس ارضِ پاک کی طرف اُٹھنے والی ہر بری نگاہ تباہ و برباد ہو جائے۔ اس ملک کو تباہ کرنے کے منصوبے بنانے والے سن لیں کہ ان معصوم بچوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا کیوں کہ یہ ملک اللہ اور رسولﷺ کے نام پر بنا ہے لہذا اس کی حفاظت بھی خُدائے بزرگ و برتر خود کرے گا۔

تمہارے بعد گزریں گے بھلا کیسے ہمارے دن
نومبر سے بچیں گے تو دسمبر مار ڈالے گا

مولا! یہ کرسی کرسی کھیلنے والے تو ہماری ڈھال نہیں بن سکے ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔۔۔۔

شر پسندوں کو مارنے کے لیے
پھر ابابیلیں بھیج دے مولا !

IMG 20221223 WA0069


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481