اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

احکام زکوۃ پر عمل غربت کے مسئلے کا حل ہے

Screenshot 20221220 122140 1

کلمہ طیبہ لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ پر ایمان لانے کے بعد انسان کی دنیا ہی بدل جاتی ہے۔ وہ ساری غلامیوں کے طوق گلے سے اتار پھینکتا ہے۔ اسے ایک مسلمان کے طور پر حقوق حاصل ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی اس پر کچھ فرائض عائد ہو جاتے ہیں۔ ان حقوق و فرائض کا خیال رکھ کر زندگی گزارنے والوں کے لیے علامہ اقبال نے فرمایا تھا۔۔۔

ہو اگر خودنگر و خود گر و خودگیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے

آفاقی دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس کی تعلیمات کا منبع قرآن مجید، فرقان حمید ہے۔  کسی معاشرے کے لیے انسانوں کے بنائے ہوئے دستور میں تو ہزاروں خامیاں ہو سکتی ہیں۔ لیکن کائنات کے خالق نے بے عیب ضابطہ حیات ودیعت کر کے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ و سلم اور خلفائے راشدین کے ذریعے اس کا کامیاب عملی نمونہ بھی انسانیت کے سامنے رکھ دیا۔ اور پھر قرآن نے ہمیں آگاہ بھی کر دیا کہ اطاعت دین میں مکمل کامیابی اور اس کے برعکس اطاعت طغیان میں مکمل ناکامی ہے۔
اسلام نے ہر شعبہ زندگی کے لیے قابل عمل اصول و ضوابط ودیعت کر دیے ہیں۔ لیکن عملی ڈھانچہ پیش نہیں کیا تاکہ بدلتے وقت کے تقاضوں کے مطابق امت اجماع اور قیاس کے ذریعے موزوں ڈھانچہ خود تیار کر لے۔ مثلاً زکوۃ کو ہی لے لیں۔ زکوٰۃ دین کا ایک اہم رکن ہے۔ اس کی شرح کا تعین کر دیا گیا۔ اس کی تجمیع کس طرح ہو۔۔۔ ہر دور میں اس کے طریقہ کار میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔  اگر ہمارا معاشرہ ایمانداری سے زکوۃ کے احکام پر عمل کرے تو ہمارا سب سے بڑا معاشی مسئلہ یعنی غربت،  صرف ایک دن میں حل ہو سکتا ہے۔

فرض کریں میری بستی 35 گھروں پر مشتمل ہے۔ اس بستی میں 4 گھر غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ باقی 31 میں سے 25 گھر نہ تو زکوٰۃ دینے کے اور نہ زکوٰۃ لینے کے مستحق ہیں۔ جب کہ 6 گھرانوں کی زکوٰۃ لاکھوں میں، بلکہ بعض کی شاید کروڑوں میں بنتی ہو۔ اگر یہ 6 گھرانے اپنے ہی محلے یا بستی والوں کو مکمل ایمانداری سے نصاب کے مطابق زکوٰۃ دے دیں اور اسی طرح سب محلے احکام زکوٰۃ پر مکمل عمل کریں۔ اس سے آگے بڑھ کر سرکل، ضلع، صوبہ، ملک اس پر عمل پیرا ہو تو یقیناً پورے ملک سے ناداری جڑ سے ختم ہو جائے۔

زکوٰۃ کے احکام تو چودہ سو سال پہلے ہمیں عطا ہو گئے تھے۔ لیکن آج ہمیں ایسا ڈھانچہ اور بے عیب جمع کاری اور تقسیم کاری کا نظام چاہیے جس پر عمل پیرا ہو کر۔۔

  • زکوٰۃ کی مد میں لوگ پوری پوری ادائیگی کریں
  • جمع شدہ رقم مستحقین تک پہنچے ۔

اگر ایسا بے عیب ڈھانچہ تیار ہو جائے تو معاشی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ یوں چند سالوں میں زکوٰۃ لینے والے زکوٰۃ دینے والے بن جائیں گے۔

اسلام کیوں کہ دین فطرت ہے اس لیے اس نے ضابطہ حیات عطا کرتے وقت کسی بھی شعبہ زندگی کو نظر انداز نہیں کیا۔ اس لیے اس پر عمل پیرا ہونے سے معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن سکتا ہے۔

ہمارے گاؤں پلک کی ہی مثال لیجیے۔ یہاں کے باسیوں کو اللّٰہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں۔ قوت نمو سے مالا مال کھیت کھلیان، گھنےجنگلات، قدرتی چشمے، اونچے پہاڑ، بہترین محل وقوع، جنت نظیر موسم اور سیاحت کے لیے سازگار ماحول۔ ہم اگر اپنے وسائل کا بھرپور استعمال کریں تو "یوسی پلک” ہی نہیں سرکل بکوٹ بھی خود کفیل ہو سکتا ہے ۔

لیکن ان سب امور کی انجام دہی کے لیے اخلاص نیت اور مثبت سوچ ناگزیر ہے۔ درد دل رکھنے والے، اہل علم و دانش، انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے صرف اللہ کی رضا کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں۔ مسائل کی فہرست بنا کر ترجیحات طے کر کے منصوبہ بندی کر لی جائے۔ ذاتی اغراض سے بلند ہو کر اگر ہر شخص جدوجہد کا حصہ بنے تو ایک مثالی فلاحی معاشرے کے قیام کی راہیں استوار ہو سکتی ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481