اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

16 دسمبر 1971 سقوطِ ڈھاکہ

images 20

16 دسمبر 1971 سقوطِ ڈھاکہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سکوت ڈھاکہ تاریخ پاکستان کا ایک تاریک ترین باب ہے۔ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر اکٹھے ہونے والے مسلمان غاصب اور بے ضمیر اہل ہوس کے استحصال کے نتیجے میں اور اسٹبلشمنٹ کے گھناؤنے کردار کی وجہ سے نہ صرف ایک دوسرے سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گئے بلکہ باہم کدورتوں کا بھی ایک ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ فیض احمد فیض نے کس دکھ سے کہا تھا۔۔۔۔۔

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیض احمد فیض

مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب انڈیا ونز فریڈم میں جہاں دیگر بہت سے اہم امور کی نشان دہی کی وہاں انھوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا تھا۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قیام پاکستان میں بنگالیوں کا کردار نہایت اہم رہا۔ قیام پاکستان کے بعد شیخ مجیب نے "بنگالی” کو قومی زبان بنانے کا مطالبہ کیا کیونکہ بنگالیوں کی اکثریت تھی۔ اصولی بات یہ تھی کہ اس مسئلے کو حل کیا جاتا۔ اردو کو رابطے کی زبان اور بنگالی، پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی وغیرہ کو قومی زبانیں قرار دے دیا جاتا۔ نیز مشرقی پاکستان کے کچھ اور بھی جائز مطالبات تھے۔ انھیں مان کر تاریخ پاکستان کے اس گھمبیر سانحے سے بچا جا سکتا تھا۔

5 فروری 1966 کو ایوب خان کے خلاف ایک کنونشن لاہور میں منعقد ہوا تھا۔ اس کے کنوینر نوابزادہ نصر اللہ خان تھے اور شیخ مجیب الرحمن بھی اس میں شریک تھے۔ اسی کنونشن میں مشہور چھ نکات پیش کیے گئے۔

  1. قرارداد لاہور کے مطابق آئین کو حقیقی معنوں میں ایک فیڈریشن کی ضمانت دیتے ہوئے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر منتخب مقننہ کی بالا دستی اور پارلیمانی طرز حکومت پر مبنی ہونا چاہیے۔
  2. وفاقی حکومت صرف دو محکمے یعنی دفاع اور امور خارجہ اپنے پاس رکھے گی۔ جب کہ دیگر محکمے وفاق کی تشکیل کرنے والی وحدتوں میں تقسیم کر دیے جائیں گے۔
  3. (الف) ملک کے دونوں بازوؤں میں دو علاحدہ مگر باہمی طور پر تبدیل ہو جانے والی کرنسی متعارف کرائی جائے… یا
    (ب) پورے ملک کے لیے ایک ہی کرنسی رائج کی جائے، تاہم اس کے لیے موثر آئینی دفعات کی تشکیل ضروری ہے تاکہ مشرقی پاکستان سے مغربی پاکستان کو رقومات کی ترسیل روکی جا سکے۔ مشرقی پاکستان کے لیے علاحدہ بینکنگ ریزروز قائم اور الگ مالیاتی پالیسی اختیار کی جائے ۔
  4. محاصل اور ٹیکسوں کی وصولی کے اختیار کو وفاق کی وحدتوں کے پاس رکھا جائے ۔ مرکز کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہونا چاہیے تاہم فیڈریشن وفاقی وحدتوں کے ٹیکسوں میں حصے دار ہو گی تا کہ وہ اپنی ضروریات پوری کر سکے۔ ایسے وفاقی فنڈز پورے ملک سے جمع ہونے والے ٹیکسوں کے طے شدہ فیصد تناسب پر مشتمل ہوں گے ۔
  5. (الف) دونوں بازوؤں میں زرمبادلہ کی آمدنی کے لیے دو علاحدہ اکاؤنٹس ہونے چاہییں۔۔          (ب) مشرقی پاکستان کی آمدنی کو مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی آمدنی کو مغربی پاکستان کے کنٹرول میں ہونا چاہیے۔
    (ج) مرکز کی زر مبادلہ کی ضروریات، دونوں بازوؤں کو مساوی طور پر یا کسی طے شدہ تناسب کے مطابق پوری کرنا ہوں گی ۔
    (د)ملکی مصنوعات کی دونوں بازوؤں کے درمیان آزادانہ نقل و حمل پر کوئی ڈیوٹی عائد نہیں کی جائے گی۔
    (ہ)آئین کی رو سے وفاقی وحدتوں کو یہ اختیارات حاصل ہوں گے کہ وہ غیر ممالک میں تجارتی مشن کے قیام کے ساتھ تجارتی معاہدے نیز تجارتی تعلقات قائم کر سکیں۔
  6. مشرقی پاکستان کے لئے ملیشیا یا ملٹری فورس کا قیام

جنوری 1968 میں وزارت داخلہ کے ایک پریس نوٹ کے مطابق 8 افراد بشمول دو سی ایس پی افسران کو غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ حال آنکہ گرفتار ہونے والوں کی اصل تعداد کافی زیادہ تھی۔ اسے اگرتلہ سازش کا نام دیا گیا۔ مجیب الرحمان کو بھی اس سازش کا حصہ قرار دیا گیا۔ حال آنکہ وہ اس وقت حکومت پاکستان کے زیر حراست تھا۔ اس کے خلاف غداری کا مقدمہ شروع ہوا۔ ضمیروں کی خرید و فروخت کی گئی۔ مولانا بھاشانی نے اس مقدمے کے خلاف تحریک چلائی۔

15 فروری 1969 کو مقدمے کے دو نامزد ملزمان پر پولیس کی فائرنگ سے سارجنٹ ظہور الحق شہید جب کہ فضل حق شدید زخمی ہو گئے۔ بتایا گیا کہ ملزمان فرار ہو رہے تھے اس لیے پولیس کو گولی چلانی پڑی۔ جب کہ بنگال کے باشعور لوگوں نے اسے غیر منطقی مفروضہ قرار دیتے ہوئے رد کر دیا کہ نہتے مفروروں کو ہلاک کرنے کے بجائے زخمی کر کے بھی گرفتار کیا جا سکتا تھا۔ رد عمل کے طور پر پورا بنگال سراہا احتجاج بن گیا۔ اور مظاہرے شروع ہو گئے۔ مظاہرین نے سٹیٹ گیسٹ ہاؤس کو آگ لگا دی۔  ایک ہفتے کے بعد حکومت نے بنگالیوں کے احتجاج کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے شیخ مجیب کو رہا کر دیا۔

مارچ 1969 میں ایوب خان نے اقتدار یحیی کے سپرد کر دیا۔ اپریل 1969 میں جسٹس عبدالستار کی سربراہی میں الیکشن کمیشن تشکیل دیا گیا۔ یکم ستمبر 1969ء کو وائس ایڈمرل ایس ایم احسن مشرقی پاکستان کے گورنر بنا دیئے گئے اور مارشل لاء مشینری کی سربراہی لیفٹیننٹ جنرل صاحبزادہ یعقوب علی خان کو دے دی گئی۔

15 ستمبر 1970 کو چیف الیکشن کمشنر نے مشرقی پاکستان میں سیلاب کے سبب نئے انتخابی شیڈول کا اعلان کر دیا۔ جس کے مطابق قومی اسمبلی کے انتخابات 7 دسمبر 1971 اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 17دسمبر 1971 کو ہونا قرار پائے۔

انتخابات میں پیپلز پارٹی نے’’روٹی کپڑا اور مکان‘‘ جبکہ عوامی لیگ نے مذکورہ بالا ’’چھ نکات‘‘ کی بنیاد پر اپنی انتخابی مہم چلائی۔

قومی اسمبلی کی کل 313 نشستیں تھیں۔ جن میں سے 13خواتین کے لئے مخصوص تھیں۔ 7 دسمبر 1970ء کے عام انتخابات میں مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ نے 169 میں سے 167 نشستیں اپنے نام کیں۔ 3 جنوری 1971 کو شیخ مجیب نے عوامی لیگ سے وابستہ قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کو ڈھاکا میں جمع کیا اور ان سے چھ نکات پر وفاداری کا حلف لیا۔

12فروری تک بھٹو اور مجیب کے درمیان کسی متفقہ لائحہ عمل تک پہنچنے کی کوششیں جاری رہیں لیکن کامیابی نہ ہو سکی۔ 22 فروری 1971ء کو جنرل یحییٰ نے گورنرز، مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرز، اعلیٰ سطحی فوجی اور سویلین حکام کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا۔ اور ملکی صورت حال پر غور کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس پر مشرقی پاکستان میں شدید رد عمل سامنے آیا اور احتجاج شروع ہو گیا۔

6 مارچ 1971ء کو لیفٹیننٹ جنرل ٹکا خان مشرقی پاکستان کے گورنر مقرر کر دیئے گئے۔ 7 مارچ 1971ء کو شیخ مجیب الرحمن نے ڈھاکا میں عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔ یوں اجلاس کے التواء نے پورے بنگال میں عدم تعاون کی تحریک کی راہ ہموار کی۔

15 مارچ 1971 کو ڈھاکا میں یحیی مجیب ملاقات ہوئی۔ مجیب نے درج ذیل تجاویز پیش کیں۔۔۔

  • مارشل لاء اٹھایا جائے۔
  • قومی اسمبلی قانونی اور آئینی طریقے سے فعال کی جائے
  • انتخابات کے نتائج کے مطابق اقتدار قومی و صوبائی سطح پر منتقل کیا جائے۔

اچانک 25 مارچ 1971 کو پاک فوج نے ڈھاکا میں "آپریشن سرچ لائٹ” کے نام پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔ ساتھ ہی شیخ مجیب الرحمن کو گرفتار کر لیا گیا۔

ردعمل کے طور پر جہاں بنگالی عوام سراپا احتجاج ہوئے وہیں ہندوستان بھی کھل کر سامنے آگیا اور مکتی باہنی کا عمل دخل شروع ہو گیا۔

31 اگست 1971 کو ایم اے مالک کو مشرقی پاکستان کا نیا گورنر اور جنرل نیازی کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا۔ 21 نومبر 1971 کو بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کر دیا۔ پاکستانی افواج کی کمک اور سپلائی لائن بند ہو گئی۔ 11 دسمبر 1971 کو بھارت نے اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قرارداد مسترد کر دی۔ 14 دسمبر 1971 کو آل انڈیا ریڈیو سے پاکستان کی شکست کی خبریں نشر ہونا شروع ہو گئیں۔

16 دسمبر 1971 کو دوپہر کے وقت بھارتی فوج کی ایسٹرن کمانڈ کا چیف آف سٹاف میجر جنرل جیکب ڈھاکا پہنچا۔ وہ اپنے ساتھ ایک دستاویز لایا تھا جسے "سقوط کی دستاویز” کہا جاتا ہے۔

جنرل نیازی نے "لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا” کا ڈھاکا ائیرپورٹ پر استقبال کیا۔ فوجی انداز میں سلیوٹ کیا اور پھر ہاتھ ملایا۔ یہ ہماری تاریخ کا بدترین لمحہ تھا جب فاتح اکڑ کر کھڑا تھا اور مفتوح قومی غیرت و حمیت کو پس پشت ڈال کر ہتھیار ڈالنے کی رسمی تقریب کا منتظر۔

جنرل نیازی جنرل اروڑہ کے ساتھ ریس کورس گراؤنڈ پہنچا۔ ہتھیار ڈالنے کی تقریب میں دستاویز پر دستخط کیے اور پھر اپنا پستول جنرل اروڑہ کے حوالے کیا۔ یوں سقوط ڈھاکہ کی تکمیل ہوگئی۔

images 22 images 22 1


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481