اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

"مثبت انداز فکر” کامیابی کی کلید

1669864524488

اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد
علامہ اقبال

نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اسی لیے ترقی یافتہ قومیں اپنی نوجوان نسل کی خوابیدہ صلاحیتوں کی کھوج اور ان کے فروغ کے لیے اپنے تمام تر وسائل صرف کرتی ہیں کہ مستقبل میں ملک کی باگ دوڑ نوجوان نسل نے ہی سنبھالنی ہوتی ہے۔ پاکستان ایک خوش قسمت ملک ہے کہ یہاں تیس سال سے کم عمر آبادی ساٹھ فی صد سے زیادہ ہے۔ ہمارے نوجوان باصلاحیت ہیں، محب وطن ہیں اور اپنے دین سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں۔ وہ اقبال کے شاہین ہیں۔ ان میں شاہین کی خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ وہ خود دار ہیں۔ بہادر ہیں۔ پر عزم ہیں اور وہ پلٹ کر جھپٹنے اور جھپٹ کر پلٹنے کا ہنر جانتے ہیں۔ لیکن حیرت اور تاسف کی بات یہ ہے کہ اتنی باصلاحیت نوجوان نسل پاکستان کو زوال کے پاتال سے نکالنے میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہی۔

دراصل ہم پون صدی گزرنے کے باوجود قومی امنگوں اور جدید عہد کے تقاضوں کے مطابق تعلیمی نظام تشکیل دینے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ہمارا نظام تعلیم تخلیقی ذہن پیدا کرنے کے بجائے سرکاری مشینری کے کل پرزے اور کلرک پیدا کر رہا ہے۔ ہم نے قومی زبانوں اور رابطے کی زبان اردو کی قربانی دے کر اپنے آقا کے جانے کے بعد اس کی زبان کی غلامی اختیار کر لی۔ دنیا بھر کے ماہرین تعلیم اور ماہرین نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ تخلیقی اذہان تبھی پیدا ہو سکتے ہیں جب بچوں کو ابتدائی تعلیم ان کی مادری زبان میں دی جائے۔ کیونکہ کسی بھی فرد کی پہچان کی بنیادی اکائی اس کی مادری زبان ہوتی ہے۔ لیکن ہم اس قدر احساس کمتری کا شکار ہوئے کہ ہم نے اپنی نئی نسل کو کمال بے رحمی سے اس کی پہچان کی بنیادی اکائی سے ہی محروم کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ ہم نے اسے باور کروا دیا ہے کہ جب تک آپ اپنی زبان، ثقافت اور زمین سے جڑے رہیں گے آپ ترقی نہیں کر سکتے۔

سرکاری تعلیمی اداروں پر ہم نے توجہ مرکوز کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ اس لیے ان اداروں کا معیار تعلیم گرتے گرتے اس مقام پر پہنچ گیا کہ عوام کا ان اداروں پر سے اعتماد ہی اٹھ گیا۔ ذمہ دار ادارے بھاری تنخواہیں اور مراعات وصول کرتے رہے لیکن انھوں نے اصلاح احوال کے لیے کچھ نہ کیا۔ نتیجتا پرائیویٹ سکول، کالج اور یونیورسٹیاں تھوک کے حساب سے قائم ہوئیں۔ جنھوں نے بھاری فیسوں کے عوض "انگلش میڈیم” تعلیم عام کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ تعلیمی اداروں کی مادیت پرستانہ ترجیحات اور ناقص ماحول نے شاہین بچوں کو "بال و پر دینے” کے بجائے انھیں خواہش پرواز سے ہی محروم کر دیا۔ وہ سونے چاندی کے پنجرے میں قید اسیر بے بال و پر ہو کر شاد ہیں المیہ بس اتنا ہی نہیں ہے بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ ان کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔

ترقی کے لیے ضروری ہے کہ قوم کے سامنے مقصد حیات ہو۔ اس کے لیڈروں کی نگاہ بلند ہو۔ مقصد حیات کے ساتھ ان کی کمٹمنٹ اس درجے کی ہو کہ ان کی بات دل سے نکلے اور وہ اتنی پر تاثیر ہو کہ پتھروں کا سینہ چیر دے۔ ان میں تساہل پسندی ،تن آسانی اور بے فکری کے جراثیم مفقود ہوں۔ ان کے دل سوز سے خالی نہ ہوں۔ وہ قاری نظر آئیں مگر حقیقت میں قرآن ہوں۔

آج اگر نوجوانوں کو مغربی تعلیم میں کامیابی نظر آتی ہے تو حیرت کیسی۔ جب والدین کو خود تعلیم کے مقصد کے بارے میں آگہی نہیں تو وہ اس حوالے سے نئی نسل کی رہنمائی کیسے کر سکتے ہیں۔ ہمارا نظام تعلیم تو خود غرضی سکھاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ نمبر اور اچھے سے اچھے گریڈ کے حصول کے لیے آج کا طالب علم کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ وہ خود آگے بڑھنا چاہتا ہے چاہے اس کے لیے اسے دوسروں کو کھائی میں دھکیلنا پڑے یا ان کی گردن پر پاؤں رکھنا پڑے۔

نوجوانوں سے کیا شکوہ کہ والدین انھیں ایک مسلمان گھرانے کی اعلی قدروں کا حامل ماحول ہی فراہم نہیں کر رہے۔ والدین کے اپنے رویے منفی ہیں تو وہ نئی نسل کو مثبت انداز فکر کیسے سکھا سکتے ہیں؟ اولاد کی اچھی تربیت کے لیے والدین کو پہلے خود احتسابی کی کڑوی گولی نگلنا ہو گی۔ نئی نسل وہ نہیں کرے گی جس کے آپ اس کو لیکچر دیں گے بلکہ وہ آپ کے عملی کردار کو اختیار کرے گی۔ نئی نسل کی تربیت میں معاشرتی حالات اور حکومتی پالیسیوں کا بھی بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے مسلم معاشرہ شدید قحط الرجال کا شکار ہے۔ ہم نے دین کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر مسلک و فرقہ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔ فکری جمود، اندھی تقلید اور مکالمہ مفقود ہونے کی وجہ سے ہم شدت پسندی کے اندھے کنویں میں گر گئے ہیں۔ دین بندہ مومن کو دارین کی کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔ مظاہر قدرت انسان کو یاد دلاتے رہتے ہیں "الست بربکم؟”. لیکن خدا شناسی کا سفر تو خود شناسی سے شروع ہوتا ہے۔

  • "جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے اب کو پہچان لیا”۔

ایک مثالی معاشرہ، جس میں امن، سلامتی، برداشت، رواداری، اخوت، سخاوت اور محبت جیسی خوبیاں موجود ہوں، قائم کرنے کے لیے پہلا قدم "مثبت انداز فکر” کی تشکیل ہے۔ جب تک والدین اور اساتذہ خود اپنا انداز فکر تبدیل کرنے کی جرات پیدا نہیں کرتے نوجوان نسل کی بہتر رہنمائی کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481