اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پروفیسر پرویز ہود بھائی سر عام توہین عدالت کر رہے ہیں

Screenshot 20221214 090337 1

اسلام آباد (کوہسار نیوز) خصوصی رپورٹ

بھارہ کہو بائی پاس منصوبہ عوامی فلاح کا ایک ناگزیر منصوبہ ہے۔ راول پنڈی، اسلام آباد سے کشمیر، گلیات، ہزارہ، مری، کوٹلی ستیاں اور دیگر ملحقہ علاقوں کی آمد و رفت کے لیے مری روڈ ہی استعمال ہوتی ہے۔ جب ٹریفک کا دباؤ حد سے بڑھ گیا تو حکومت نے ایکسپریس وے کی تعمیر کا مستحسن فیصلہ کیا۔ جس کے ثمرات سے آج مقامی آبادی کے علاوہ سیاح اور مسافر بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ گرمائی  سیزن میں گرمی کے ستائے سیاح جب لاکھوں کی تعداد میں کوہسار کا رخ کرتے ہیں تو ایکسپریس وے تک رسائی کے لیے انھیں بھارہ کہو سے گزر کر پہنچنا ہوتا ہے۔ جب کہ بھارہ کہو میں سڑک کے دونوں اطراف دکانوں کا وسیع سلسلہ، مقامی ٹرانسپورٹ، پیدل سفر کرنے والے لوگ اور مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی جیسے عناصر ٹریفک کے بہاؤ کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ دکانوں، ریڑھیوں اور ٹھیلے والوں نے تجاوزات کا لامتناہی سلسلہ شروع کیا ہوا ہے جس کو کنٹرول کرنے میں سی ڈی اے کامیاب نہیں ہو سکا۔

گزشتہ کچھ برسوں میں اس روٹ پر گاڑیوں کی تعداد میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے بھارہ کہو میں ٹریفک جام روز کا معمول بن گیا۔ سیزن میں بھارہ کہو بازار کے چھوٹے سے ٹکڑے سے گزرنے کے لیے گاڑیوں کو ایک گھنٹہ انتظار کرنا معمولی بات سمجھا جانے لگا۔ کئی مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ گئے۔ اکثر لوگوں کی پروازیں چھوٹ گئیں۔ طلباء کو بروقت تعلیمی اداروں میں پہنچنا ناممکن ہو گیا۔ ملازمت پیشہ لوگ جو روزانہ سفر کرتے ہیں ان کی زندگی اجیرن ہو گئی۔  یوں اس عذاب سے جان چھڑانے کے لیے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ارباب فکر و دانش نے اہل اختیار و اقتدار کو بھارہ کہو بائی پاس جیسے منصوبے پر راضی کر لیا۔ عوامی فلاح کے اس منصوبے کی منظوری پر کشمیر، گلیات، ہزارہ، مری، کوٹلی ستیاں اور دیگر ملحقہ علاقوں کی وسیع آبادی نے سکھ کا سانس لیا کہ اب انھیں بھارہ کہو کے چند میٹر کے بازار میں گھنٹوں پھنسے رہنے کی اذیت سے چھٹکارا مل جائے گا۔ نیز اس سے سیاحت پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔

منظوری کے بعد جب منصوبے پر عملی کام شروع ہوا تو کچھ شرپسند عناصر نے قائداعظم یونیورسٹی کے پروفیسروں کو اپنا آلہ کار بنا کر اس منصوبے کے خلاف عدالت سے سٹے آرڈر لے لیا۔ ان پروفیسروں کا سرغنہ پروفیسر پرویز ہود بھائی ہے۔ جی ہاں! وہی پرویز ہود بھائی جو خدا کا نام سنتے ہیں بھڑک اٹھتا ہے۔ جی جی۔۔۔ وہی ہود بھائی جو اسلام کا نام آتے ہیں سیخ پا ہو جاتا ہے۔ دینی شعائر کی بات سنتے ہی جس کے منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہو جاتی ہے۔ وہی بزعم خود دانشور جو کبھی اقبال کی تضحیک و تذلیل کر رہا ہوتا ہے اور کبھی علماء کو گالم گلوچ کر کے خود کو سیکولر اور لبرل ثابت کر رہا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے آقاؤں کی زیادہ توجہ حاصل کرے اورمزید ڈالروں کی بوچھار ہو۔

پروفیسر پرویز ہود بھائی اور ان کے دیگر رفقاء نے عوامی فلاح کے اس منصوبے کے خلاف سٹے تو لے لیا لیکن اندرون خانہ ساز باز کے ذریعے ایک پٹرول پمپ اور ایک شادی ہال کی تعمیر کی صورت میں منصوبے کے حق میں درخواست واپس لینے کا عندیہ بھی دے دیا۔ یعنی کٹھ پتلیاں نچوانے والوں کے ساتھ ڈبل گیم میں ملوث تھیں۔

کوہسار یونائٹڈ فرنٹ نے اس سٹے کو ختم کروانے کے لیے جلیل اختر عباسی اور مری بار کونسل کے دیگر سینئیر وکلاء کے پینل کی خدمات حاصل کی ہیں۔ سفیان عباسی جیسی سحر انگیز شخصیت عوامی مسائل کے حل کے لیے پیش پیش رہتی ہے۔ اس معاملے میں بھی انھوں نے اس بدنیتی پر مبنی سٹے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔

عدالت نے سارے معاملے پر فریقین کے موقف اور دلائل کو بھرپور طریقے سے سنا۔ مکمل تحقیق کی گئی۔ اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ قائد اعظم یونیورسٹی جیسا قومی اہمیت کا تعلیمی ادارہ کسی بھی طرح اس منصوبے سے متاثر نہ ہو۔ اس کی جتنی زمین منصوبے میں آ رہی تھی اس سے زیادہ اس کو دی گئی۔ کوئی کلاس روم تو کیا کسی دیوار کے بھی متاثر نہ ہونے کو یقینی بنایا گیا اور یوں عدالت نے سٹے ختم کرتے ہوئے منصوبے کو جاری رکھنے کے احکامات جاری کر دیے۔

اس سے پیشتر جب تمام دیگر حربے ناکام ہونے پر ماحول کے حوالے سے پروفیسر ہود بھائی نے شوشہ چھوڑا تھا تو سفیان عباسی اور ان کے وکلاء نے عدالت کو باور کرایا کہ منصوبے میں چیڑھ کے صرف چار درخت کاٹنے پڑیں گے جب کہ کوہسار یونائٹڈ فرنٹ اس امر کو یقینی بنائے گا کہ سڑک کے اطراف میں چار گنا زیادہ درخت لگا کر انھیں پروان چڑھایا جائے۔ عدالت کا ان دلائل سے متاثر ہونا فطری عمل تھا۔ عدالت نے پروفیسر ہود بھائی کے وکلاء سے جب دلائل مانگے تو وہ بری طرح ناکام رہے۔ سفیان عباسی جب پیشی کے بعد میڈیا ٹاک میں مصروف تھے تو ہود بھائی کچھ شرپسند عناصر کو ساتھ لے کر ان پر حملہ آور ہو گئے۔ مری یونائٹڈ فرنٹ کے نوجوان بھی مستعد تھے اس لیے غنڈوں کو بھاگنا پڑا۔

اب عدالتی فیصلے کے بعد پرویز ہود بھائی طلباء و طالبات کو لے کر کبھی سڑکوں پر انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بنانے میں مصروف ہوتا ہے تو کبھی یونیورسٹی کی اتنی بڑی عمارت چھوڑ کر سڑک کے کنارے کلاسیں پڑھائی جا رہی ہوتی ہیں۔ تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ پرویز ہود بھائی اس معاشرے کا سب سے بڑا مسیحا ہے جب کہ اداروں سے لے کر ججوں تک سب لوگ ظالم، جاہل اور گنوار ہیں۔ ہود بھائی کی حالیہ سرگرمی تو سیدھی سادی توہین عدالت ہے۔ کیا کوئی عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کروائے گا۔

ہماری ذاتی رائے میں تو ہود بھائی کے خلاف دو تین مقدمے ناگزیر ہیں۔۔ پہلا وہ دین کے خلاف مغلضات کیوں بکتا ہے۔ اگر وہ مسلمان نہ ہونے پر فخر کرتا ہے تو کیا اسے یہ بھی حق حاصل ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں وہ شعائر اسلام کی توہین و تضحیک کرے؟ دوسرے وہ کبھی خواتین کے حقوق کا چمپئین بننے کی کوشش کرتا ہے، کبھی لبرل ازم کا ماما چاچا بن کر سڑکوں پر نکلتا ہے۔ کبھی اس پر حملہ کرتا ہے اور کبھی اس پر۔ کبھی علماء کے ساتھ گالم گلوچ کرتا میڈیا پر دکھائی دیتا ہے۔ اس سے یہ سوال تو بنتا ہے کہ آج تک اس نے اپنے مضمون کے حوالے سے کیا تحقیقی کام کیا ہے؟ تیسرے وہ طلبا و طالبات کے اخلاق اور اعتقادات بگاڑ رہا ہے۔ وہ انھیں غنڈہ گردی کی طرف راغب کر رہا ہے۔ عدالت تمام معاملات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا حکم دے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہود بھائی کی ذہنی بیماری میں افاقے کی راہ ہموار ہو گی۔

Screenshot 20221214 090252 2


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481