اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

قومی قیادت صوبہ ہزارہ کی حمایت کا اعلان کر چکی ہے۔سردار یوسف

723a0990 a31b 4471 934d ea0b34c2f357

صوبہ ہزارہ تحریک کے چیئرمین سردار محمد یوسف  نے کہا ہے کہ صوبہ ہزارہ کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے۔اور ہزارہ کی سطح پر تمام جماعتیں اس پر متفق ہیں۔اور ساری قومی قیادت ایبٹ آباد اور مانسہرہ جا کر صوبہ ہزارہ کی حمایت کا اعلان کر چکی ہے۔  اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف  سے صوبہ ہزارہ تحریک کے چئیرمین سردار محمد یوسف، وفاقی وزیر پارلمانی امور مرتضی جاوید عباسی، وفاقی وزیر سیفران سینیٹر محمد طلحہ محمود، وزیراعظم کے معاون خصوصی سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم اور پارلیمانی سیکرٹری  برائے داخلہ ڈاکٹر سجاد اعوان، نے منگل کے روز ملاقات کی اور صوبہ ہزارہ سمیت نئے صوبوں کے قیام کے لیے پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے پر شکریہ ادا کیا ۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے وفد کی طرف سے استقبالیہ اور گرینڈ قومی کانفرنس برائے نئے صوبہ جات کی دعوت قبول کر لی۔یہ کانفرنس دسمبر کے آخری ہفتہ میں اسلام آباد میں منعقد ہو گی۔اسپیکر  نے کہا کہ ہمارا فرض ہے کہ عوام کی امنگوں مطابق فیصلے کریں۔نئے صوبے بننے سے عوام کی دہلیز پر ان کے مسائل حل ہو سکتے ہیں تو اس کے لیے آئین اور قانون میں ترامیم ہو سکتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ جس طرح ایٹم بم بنانے پر قوم متفق ہوئی اسی طرح قومی مفاد کے بڑے مسائل پر سب کو ساتھ چلنا چاہیے اور کسی کی بھی حکومت ہو قومی مفاد پر فیصلے متفقہ ہونے چاہیئں ۔

اس موقع پر  سردار محمد یوسف نے ہزارہ کے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کرنے پر اسپیکر قومی اسمبلی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ہم گزشتہ بارہ سال سے تحریک چلا رہے ہیں۔تین سال سے صوبہ ہزارہ کا بل قومی اسمبلی میں التواء کا تھے جس سے مایوسی پیدا ہو رہی تھی۔پارلیمانی کمیٹی کے قیام سے ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔چھوٹے صوبے بننے سے انتظامی مسائل حل ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے۔اور ہزارہ کی سطح پر تمام جماعتیں اس پر متفق ہیں۔اور ساری قومی قیادت ایبٹ آباد اور مانسہرہ جا کر صوبہ ہزارہ کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضٰی جاوید عباسی نے کہا کہ وہ پونے تین سال قبل قومی اسمبلی میں ہزارہ صوبہ کا بل پیش کر چکے ہیں۔اور اس کو التواء میں رکھا گیا۔موجودہ کمیٹی کے قیام سے عوام یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ موجودہ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔انھوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کا جلد اجلاس منعقد کیا جائے تا کہ اس پر کام کا آغاز ہو سکے۔

وفاقی وزیر سیفران سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ چھوٹے صوبے بننے سے انتظامی مسائل حل کرنے میں سہولت ہو گی۔اور حکومتوں کا کام عوام کو سہولت مہیا کرنا ہے۔صوبہ ہزارہ کے لیے ہمارے سات لوگوں نے جانیں قربان کی ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ صوبہ ہزارہ بنایا جائے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ جنوبی پنجاب سے جو غول صوبے کے نام پر تین سال اقتدار میں رہا ان کو سارے عرصے میں صوبے کی یاد نہیں آئی ۔وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے فلور آف ہاوس پر سابقہ حکومت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ آگے بڑھیں نئے صوبوں کے لیے سب ان کا ساتھ دیں گے۔وفاقی پارلیمانی سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر سجاد اعوان اور مرکزی کو آرڈی نیٹر پروفیسر سجاد قمر کہا کہ کمیٹی کا قیام ہزارہ کے عوام کی امنگوں کی ترجمانی ہے۔نئے صوبے بننے چاہئے اور سب سے پہلے صوبہ ہزارہ بننا چاہیے ہے۔ہزارہ کے عوام کی جدوجہد رنگ لائے گی۔اور ہزارہ کے شہدا کی قربانی کے نتیجہ میں پورے ملک کے عوام کو سہولت ملے گی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481