اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مونگ پھلی کھائیں،دل کے امراض، شوگرسے محفوظ رہیں

ca4d9289 e906 4957 8f19 ae564c8a8cdf
کیا آپ جانتے ہیں کہ مونگ پھلی کھانے سے امراض قلب اور ذیابیطس یعنی شوگر  کا خطرہ کم ہوجاتا ہے؟
امریکہ کے ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق کے مطابق 12 ہفتے تک روزانہ 60 گرام کے قریب مونگ پھلی کھانا میٹابولک سینڈروم کو ریورس کرنے میں ممکنہ طور پر مددگار ہوسکتا ہے۔
میٹابولک سینڈروم عام طور پر 5 امراض کا مجموعہ ہے اور ان کے شکار افراد میں توند، خون میں ایک قسم کی چربی ٹرائی گلیسرائیڈ، صحت کے لیے اچھے سمجھے جانے والے ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح میں کمی، ہائی بلڈ پریشر اور ہائی بلڈ شوگر پائے جاتے ہیں.
یہ تمام امراض مل کر امراض قلب اور ذیابیطس جیسے امراض کا خطرہ بڑھاتے ہیں اور انسان کیلئے جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔
معروف طبی جریدے امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن کے مطابق اکتوبر 2017 سے جنوری 2018 تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں 224 افراد کو شامل کیا گیا جن میں سے کچھ میٹابولک سینڈروم کے شکار تھے جبکہ کچھ میں اس کا خطرہ تھا۔
تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ 12 ہفتے تک 60 گرام کے قریب مونگ پھلی کھانے سے جسمانی وزن میں اضافہ نہیں ہوتا۔
اتنی مقدار مونگ پھلی میں 170 گرام کیلوریز ہوتی ہے جبکہ 14 گرام نباتاتی پروٹین اور 19 وٹامنز اور منرلز موجود ہوتے ہیں۔
اس سے قبل تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ اس گری کو کھانے سے امراض قلب اور ذیابیطس کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ بشکریہ ڈان نیوز


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481