اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

امیر جماعت اسلامی نے الیکشن سے پہلے اصلاحات کا مطالبہ کر دیا

IMG 20221209 WA0175

کراچی /09 دسمبر (نمائندہ خصوصی) امیر جماعت اسلامی پاکستان، جناب سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان کی بقا جمہوری نظام سے وابستہ ہے۔ الیکشن سے قبل انتخابی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اس کے بغیر انتخابات کرائے گئے تو ماضی کی طرح بے یقینی پیدا ہوگی۔ تمام جماعتیں انتخابی اصلاحات پر بات چیت کریں کیونکہ ایک خوشحال اور اسلامی پاکستان کے لیے آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوری استحکام انتہائی ضروری ہے۔

حکومت گوادر کے عوام سے کیے گئے معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ اگر ملک بچانا ہے تو بلوچستان کے مسائل حل اور وہاں کے لوگوں کو ان کے آئینی حقوق دینے ہوں گے۔ وفاقی وصوبائی حکومت نے وعدے تو بہت کیے لیکن بلوچستان کے مسائل حل نہیں کیے۔ بلوچستان کے عوام میں ایک لاوا پک رہا ہے جو کسی وقت بھی آتش فشاں بن کر پھٹ سکتا ہے۔

کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے۔ اسے خوشحالی کی جانب گامزن کرنے کے لیے با اختیار میئر ضروری ہے۔ ایک با اختیار حکومت ہی کراچی کے مسائل حل کرسکتی ہے۔ کراچی کا انفراسٹرکچر تباہ حال ہے۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ گلی، کوچوں میں غلاظت کے ڈھیر نظر آرہے ہیں اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔کراچی میں بلدیاتی انتخابات 3 بار ملتوی ہوچکے ہیں۔ امید ہے کہ الیکشن کمیشن 15جنوری کو بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے گا۔

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے کراچی کے عوام کے مسائل حل نہیں کیے۔ پی ٹی آئی نے بھی کراچی کے لیے بڑے بڑے دعوے کیے۔ عمران خان نے 11سو ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا۔ اس رقم میں سے کراچی پر کتنا خرچ کیا گیا؟

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو کراچی آمد کے موقع پر ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اسد اللہ بھٹو، امیر کراچی حافظ نعیم الرحمن، نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، جنرل سکریٹری کراچی منعم ظفر خان، نائب امراء کراچی محمد اسحاق خان، راجا عارف سلطان، ڈپٹی سکریٹری کراچی عبدالرزاق خان، یونس بارائی، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری و دیگر بھی موجود تھے۔

سراج الحق نے مزید کہا کہ گزشتہ کافی عرصے سے کراچی میں کوئی نیا ہسپتال اور تعلیمی ادارہ نہیں بنایا گیا۔ بین الاقوامی سروے کے مطابق بلوچستان میں بے انتہا غربت ہے۔ وفاقی حکومت گوادر کے لوگوں کے مسائل کیوں حل نہیں کررہی ہے؟ پورا بلوچستان مسائل کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ بد امنی اور بے روزگاری کی وجہ سے لوگ پریشان حال ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گوادر کے شہری دھرنا دینے پر مجبور ہیں۔ بلوچستان کے حوالے سے آڈٹ رپورٹ سامنے آئی ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے بجٹ میں 2 ارب 34 کروڑ روپے مختص کیے گئے، جس میں سے ایک 1ارب 15کروڑ روپے غبن کر لیے گئے۔

سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ سیلاب متاثرین کے لیے آنے والے بیرونی فنڈز کا حساب دیا جائے اور بتایا جائے کہ باہر سے کتنا فنڈ آیا، حکومت نے کتنا جمع کیا اور یہ کہاں خرچ کیا گیا۔ خود وزیر اعظم نے بھی 70 ارب روپے کی امداد کا اعلان کیا تھا۔ تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ متاثرین کی بحالی کے لیے وفاقی اور کسی بھی صوبائی حکومت نے کوئی روڈ میپ تیار نہیں کیا۔ سراج الحق نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ 3 کروڑ 35 لاکھ متاثرین کو ان کا حق نہ دیا گیا تو یہ متاثرین حکمرانوں کے دفاتر اور ان کے عالی شان بنگلوں کا رُخ کریں گے اور جماعت اسلامی ان متاثرین کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

حکومت اور وزراء سیاسی اور ذاتی جھگڑوں میں مصروف ہیں اور 3 کروڑ 35 لاکھ متاثرین کو لاوارث چھوڑ دیا ہے۔سیلاب متاثرین کو حکومت نے ایک گھر بھی بناکر نہیں دیا۔ الخدمت اور جماعت اسلامی نے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو رہنے کے لیے گھر بنا کر دیے۔ کے پی کے حکومت کے پاس سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں اور شاہی اخراجات میں ایک روپے کی کمی نہیں کی جارہی۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کے وی آئی پی کلچر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ معاشی بدحالی کی وجہ سے امن و امان تباہ اور جرائم، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن کسی مجرم کو سزا نہیں دی جا رہی ہے۔حکمران ہر روز جھوٹ بول کر کراچی کے عوام کو دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور غلط اعداد و شمار بتائے جارہے ہیں۔ سیاسی انتشار اور بد امنی کی وجہ سے ملک کے 9 کروڑ عوام غربت کی لکیر سے نیچے آگئے ہیں۔ اس وقت ٹرائیکا نے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ان کی نااہلی اور بد انتظامی کی وجہ سے پاکستان کی معیشت تباہ ہو رہی ہے۔ وزیر خزانہ سچ نہیں بول رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہوچکا ہے۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481