سعودی عرب نے پاکستان کیلئے مزید امداد پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
حکومت پاکستان نے زرمبادلہ کی ذخائر بہتر بنانے کے لیے سعودی عرب سے مزید تعاون کی درخواست کی تھی۔
غیر ملکی جریدے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزیر خزانہ نے کہا ہےکہ پاکستان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کا بجٹ چار ارب ڈالر سے زائد سرپلس ہوگیا ہے،
ترکی سے مالی تعاون کیلئے سعودی عرب ترک سینٹرل بینک میں بھی چار ارب ڈالر رکھے گا۔
سعودی وزیر خزانہ محمد الجدان کا کہناتھا کہ ان کا ملک مہنگائی کے اثرات سے نبرد آزما اتحادی ملکوں کی مدد کرے گا۔
جبکہ انہوں نے پاکستان کی ہر ممکن مالی مدد کا اعادہ کیا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب پاکستان کے غیر ملکی ذخائر کی سپورٹ کیلئے رکھوائے تین ارب ڈالرز کی مدت پہلے ہی بڑھا چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کو رواں مالی سال جون کے اختتام تک 16 ارب ڈالر قرض واپس کرنا ہے جس کے لیے پاکستان نے سعودی عرب سے مزید 4.2 ارب ڈالر کی درخواست کی ہے۔
غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی صورت حال کیا ہے؟
پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تشویشناک حد تک کم ہوگئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 79 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔
مرکزی بنک کے مطابق 2 دسمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں غیر ملکی زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 12.58 ارب ڈالر رہے
جبکہ اس تاریخ کو اسٹیٹ بینک کے پاس غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 6.71 ارب ڈالر تھے۔
اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں 78 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔
اسی طرح 2 دسمبر کو کمرشل بینکوں کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 5.87 ارب ڈالر تھے، ان کے ذخائر میں 13 کروڑ ڈالر کی کمی واقع ہوئیہے۔
