اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اپنا واہ۔۔۔۔ اپنا کھا..اپنی پنیری خود اگائیں: جمیل الرحمن عباسی

fa8100c6 c3f7 4603 8ff5 9c7aa9f8785f

اپنے گھر کی تازہ سبزیاں ہر کوئی کھانا چاہتا ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ ہمارے کوہسار میں گرمیوں کا موسم مختصر ہوتا ہے اور سبزیوں کا بھرپور پھل گرم موسم ہی میں آتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ ہمارے بازاروں میں سبزیوں کی پنیری یا بیج مارچ یا اپریل میں کہیں جا کر دستیاب ہوتے ہیں۔  جب ان کی کاشت کی جاتی ہے تو دو ماہ بعد کہیں جا کر یہ پودے بالغ ہوتے ہیں۔ جون میں ان پر پھل آنا شروع ہوتا ہے۔ اکتوبر میں موسم سرد ہوتے ہی پودوں کے ساتھ پھل لگنا کم ہو جاتا ہے اور اگلے ماہ سے اکثر پودے سوکھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ لہذا کوہسار میں رہتے ہوئے آپ اگر اپنے گھر کی تازہ سبزیاں کھانا چاہتے ہیں تو اس کی تیاری ابھی سے شروع کر دیں۔سب سے پہلا کام یہ ہے کہ گرمیوں کی سبزیوں کے بیج حاصل کریں اور اپنی پنیری اگانے کی کوشش کریں۔ بازار سے ملنے والی پنیری کو مٹی سے نکلے ہوئے کافی وقت ہو چکا ہوتا ہے۔اس لیے اس کے مرنے کے امکانات زیادہ اور لگ جانے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔گھر کی پنیری آپ مٹی سے نکالنے کے فورا بعد لگا دیں گے اس لیے اس کے مرنے کے مکانات خاصے کم ہو جاتے ہیں۔ پنیری کے لیے بیج بونے کا بہترین وقت دسمبر ہے۔

b432abe7 18e1 43fb 9230 2af4c2fc616f
آمیزے کی تیاری:
قدرتی کھاد، ریت اور مٹی کا آمیزہ تیار کریں۔گوبر اور مرغیوں کی بیٹ بہترین قدرتی کھادیں ہیں۔ کھاد ہمیشہ گلی سڑی اور پرانی استعمال کیجئے۔کھاد کے پرانا ہونے کی نشانی اس کی سیاہ رنگت ہے۔ تازہ گوبر وغیرہ پودوں کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔ نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاشیم وغیرہ پودوں کی صحت کے لیے بہت ضروری ہیں جو قدرتی طور پر گوبر کی کھاد میں پائے جاتے ہیں۔ آمیزہ تیار کرنے کے لیے ایک حصہ مٹی، ایک حصہ قدرتی کھاد اور ایک حصہ (یا جتنی میسر ہو سکے) ریت شامل کریں نیز اس میں لکڑی کا برادہ اور گلے سڑے پتے یا گھاس پھونس بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

ظروف کی تیاری:
پنیری اگانے کے لیے بازار سے پلاسٹک کی ٹرے بھی ملتی ہے، جس میں ہر بیج کے لیے ایک الگ خانہ بنا ہوتا ہے۔ لیکن کفایت شعاری سے کام لیتے ہوئے آپ لکڑی یا پلاسٹک کے کریٹ استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ عام طور پر سبزی فروٹ والوں سے مل جاتے ہیں۔ مرچ، ٹماٹر، شملہ مرچ وغیرہ کے بیج اس میں لگائیں۔ مٹی کی اونچائی چار سے چھ انچ رہنی چاہیے۔ بیگن، کدو، کریلا، بھنڈی، گھیا توری، کھیرا وغیرہ کریٹ میں لگانے کے بجائے الگ الگ ظروف میں لگائیں۔ اس کے لیے آپ پلاسٹک کی تھیلیاں بھی استعمال کر سکتے ہیں جو زرعی سٹور یا پلاسٹک کے شاپر بنانے والوں سے مل جائیں گی۔ پانی اور کولڈ ڈرنک کی خالی بوتلیں، گھی اور تیل کی بوتلیں یا ٹن پیک، کنستر اور پلاسٹک کے گلاس وغیرہ بھی پنیری اگانے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ بیج لگانے کے لیے ظرف جو بھی استعمال کریں اس میں پانی کی نکاسی بہت اچھی ہونی چاہیے۔ اگر پانی جمع رہے تو بیج گل سڑ جاتا ہے۔

بیج کی تیاری:
بیج لگانے سے قبل بیجوں کو ایک دن (24 گھنٹے) مکمل پانی میں بھگو کر رکھیں۔ پانی سے نکالنے کے بعد براہ راست مٹی میں بھی منتقل کیا جاسکتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ململ یا کسی بھی سوتی کپڑے پر بیج الگ الگ کر کے رکھیں اور ان کے اوپر اسی طرح کا کپڑا پھیلا دیں۔ کپڑے کو صبح و شام ہلکا پانی لگا کر نمی برقرار رکھیں اور اسے پلاسٹک سے ڈھانپ لیں۔ چند دن بعد بیجوں کا معائنہ کریں۔ کچھ بیج پھوٹ چکے ہوں گے۔ انھیں کسی چمٹی سے پکڑ کر متعلقہ ٹرے یا دیگر سانچوں میں لگاتے جائیں۔ یہ عمل زور آزمائی سے بچتے ہوئے بہت احتیاط سے کرنا ہے۔

91b5e457 4b3c 4f87 9ee1 fc413ec96726

اگر بیج سے نکلنے والی ننھی کونپل زخمی ہو گئی تو اب پودا بننے کا امکان ختم ہو جائے گا۔ بیج کو مٹی میں گھسیڑنے کے بجائے کسی لکڑی سے مٹی میں ایک چھوٹا سا گڑھا بنائیں جو بیج کی جسامت سے تین گنا گہرا ہونا چاہیے۔ اب اس گڑھے میں بیج رکھ کر اوپر سے نرم مٹی ڈال دیں۔ بیج لگاتے وقت اس کی جڑ والی سمت کو نیچے کی طرف رکھیں۔ اگر بیج پوری پتیاں نکال چکا ہے تو پھر بیج کو زیادہ گہرا نہ دبائیں بلکہ پتیوں کے حساب سے اسے گہرا کریں۔ پتیاں مٹی کی اوپر کی سطح کے نزدیک رہنی چاہیے۔ یوں آپ کے بیج کی کاشت مکمل ہوئی۔ اب فوارے سے ہلکا سا پانی لگائیں۔ اگر فوارہ میسر نہ ہو تو پلاسٹک یعنی کولڈ ڈرنک یا منرل واٹر کی بوتل کے پیندے میں گرم کیل سے چھوٹے چھوٹے سوراخ بنا کر فوارہ تیارکیا جا سکتا ہے۔

پودوں کی نشو و نما

برتنوں میں بیج بونے کے بعد انھیں پلاسٹک کور سے ڈھانپ لیں۔اس کے لیے پلاسٹک سے بنا ہوا ٹنل بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مکمل اگاؤ تک روزانہ آبپاشی کرتے رہیں تاکہ آمیزہ خشک نہ ہو۔ اگاؤ مکمل ہونے کے بعد ایک دو دن کے وقفے سے ہلکا ہلکا پانی لگائیں۔ ایک بار مٹی قدرے سوکھ جائے تو پھر دوسری بار پانی لگائیں۔ اب جنوری اور فروری تک یہ پودے انھی ظروف میں لگے رہیں گے۔ مارچ میں جب سردی کی شدت میں کمی آئے اور کورا پڑنا بند ہو جائے تو ان پودوں کو زمین میں منتقل کریں۔ یاد رہے کہ جو پودے پلاسٹک شیٹ سے ڈھانپے گئے ہیں یا ٹنل میں رکھے ہوئے ہیں انھیں یک دم کھلی فضا میں لے آنا،خطرناک ہو سکتا ہے اور پودے مر بھی سکتے ہیں۔

زمین میں منتقلی:
پودوں کو زمیں میں منتقل کرنے سے پہلے دس دن تک انھیں بیرونی موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت جان بنانے کے عمل سے گزاریں۔ اگر وہ پلاسٹک کی شیٹ سے ڈھانکے گئے ہیں تو شیٹ میں ایک چھوٹا سا سوراخ کر دیں۔ دو ون کے بعد ایک قدرے بڑا سوراخ کر دیں۔ موسم صاف ہو تو دن کے اوقات میں تھوڑی دیر کے لیے کچھ شیٹ ہٹا دیں۔ اگر ٹنل میں ہیں تو یہ عمل وہاں بھی کریں۔آہستہ آہستہ بیرونی ہوا سے روشناس کرانے کا عمل بڑھاتے جائیں اور منتقلی سے چند دن پہلے انھیں پلاسٹک شیٹ سے باہر کر دیں۔ ساتھ ساتھ پودوں کو پانی دینے کا وقفہ بڑھاتے جائیں اور مقدار میں کمی کرتے جائیں لیکن پودوں کو مکمل خشک ہونے سے بچائیں۔ دس دن کا یہ عمل مکمل کریں تاکہ آپ کا پودا سخت جان ہو جائے اور آنے والے سخت حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو سکے۔ مرچ اور ٹماٹر تو مٹی سے باہر نکال کر بھی لگائے جا سکتے ہیں لیکن دوسرے پودوں خاص طور پر کدو اور کھیا توری وغیرہ کی بیلوں کو منتقل کرتے وقت کوشش کریں کہ ان کی جڑ مٹی سے نہ نکلنے پائے بلکہ مٹی کے ڈھیلے سمیت ہی وہ زمین میں منتقل ہو جائیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481