اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آج ناصر کاظمی کا جنم دن ہے

images 4 1

ناصر کاظمی 8 دسمبر 1925 کو انبالہ میں پیدا ہوئے۔ میٹرک تک وہیں تعلیم حاصل کی اور پھر لاہور آ کر اسلامیہ کالج میں داخلہ لیا۔ لیکن تعلیم مکمل کیے بغیر ہی اسے خیر آباد کہہ دیا۔ پھر کچھ ادبی رسائل کی ادارت پر مامور رہے۔ آخری عرصہ حیات ریڈیو پاکستان سے منسلک رہ کر گزارا۔

ان کی غزلوں کے مجموعے "برگ نے”، "دیوان” اور "پہلی بارش”  جب کہ نظموں کا مجموعہ "نشاط خواب” اب بھی شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔ "سر کی چھایا” کے نام سے انھوں نے ایک منظوم ڈرامہ بھی تحریر کیا۔

ناصر کاظمی کی غزل میں موسیقیت، برجستگی اور سادگی و سلاست کا عنصر نمایاں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

نیت شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں
آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں
نہ ملا کر اداس لوگوں سے
حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں
آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں
جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں
رائیگاں یہ ہنر نہ جائے کہیں
آؤ کچھ دیر رو ہی لیں ناصرؔ
پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیٹھ کر سایۂ گل میں ناصرؔ
ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو شریک سخن نہیں ہے تو کیا
ہم سخن تیری خامشی ہے ابھی

۔۔۔۔۔۔۔

غم ہے یا خوشی ہے تو
میری زندگی ہے تو

آفتوں کے دور میں
چین کی گھڑی ہے تو

میری رات کا چراغ
میری نیند بھی ہے تو

میں خزاں کی شام ہوں
رت بہار کی ہے تو

دوستوں کے درمیاں
وجہ دوستی ہے تو

میری ساری عمر میں
ایک ہی کمی ہے تو

میں تو وہ نہیں رہا
ہاں مگر وہی ہے تو

ناصرؔ اس دیار میں
کتنا اجنبی ہے تو


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481