اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ارشد شریف قتل کیس۔16 اہم نکات سامنے آگئے

ارشد شریف قتل کیس۔16 اہم نکات سامنے آگئے

ارشد شریف قتل کیس کے حوالے سے کینیا جانے والی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرکے سپریم کورٹ میں پیش کردی ہے

جس میں بعض اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں جبکہ بعض سوالات کے واضح جواب موجود نہیں ہیں ۔

دو رکنی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے 592 صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ میں جو چیدہ چیدہ نکات اٹھائے ہیں وہ درج ذیل ہیں ۔

1۔ ارشد شریف نے 10 اگست 2022 کو پشاور ایئرپورٹ کے راستے پاکستان چھوڑا اور وہ متحدہ عرب امارات کے لئے روانہ ہوئے تھے ۔
2۔ 20 اگست تک دبئی میں قیام کیا۔ ویزا ختم ہونے میں 20 دن باقی تھے کہ کینیا چلے گئے۔

3۔کینیا پہنچنے پر وقار اور خرم کے چچا جمال نے ایئرپورٹ سے ریسیو کیا ۔ اے آر وائے کے مالک سلمان اقبال کے ایک قریبی ساتھی طارق وصی نے رہائش کا انتظام کرایا تھا۔
4۔دبئی سے کینیا جانے کا فیصلہ ارشد شریف نے کیوں کیا ؟ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی اس سوال کے حوالے سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ۔
5۔ اے آر وائی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ دبئی کے ہوٹل میں سرکاری اہلکار ارشد شریف کے پاس آئے
اور کہا کہ ہم پر دباؤ ہے ۔ آپ یہاں سے کسی ایسے ملک چلے جائیں جس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اچھے نہ ہوں۔ دوسری طرف دبئی کے حکام نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی ۔
6۔ نیروبی میں جس لینڈکروزر میں ارشد شریف کی لاش ملی اس پر 9 گولیاں لگیں۔ حیرت انگیز طور پر جو گولی ارشد شریف کے جسم کے آر پار ہوگئی اس کا گاڑی کی سیٹ پر کوئی نشان نہیں جس پر وہ بیٹھے تھے۔ فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یا تو انہیں گولی پہلے سے مار کر گاڑی میں بٹھایا گیا یا پھر قریب سے ایک  گولی ماری گئی۔
7۔ جس گولی سے ارشد شریف کی کھوپڑی کا ایک حصہ اڑ گیا اور وہ لہو لہان ہوگئے ،حیرت انگیز طور پر اس خون کے چھینٹوں کا کوئی نشان ڈرائیونگ سیٹ پر نہیں تھا جو ارشد شریف کے بہت قریب تھی۔
8۔ رپورٹ میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے فائرنگ چلتی گاڑی پر نہیں کی گئی بلکہ گاڑی روک کر قریب سے گولیاں چلائی گئیں۔ تمام گولیاں فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ایک ہی شخص یعنی ارشد شریف کو لگیں۔
9۔ رپورٹ کے مطابق کینیا کی پولیس کے موقف میں کئی تضادات پائے جاتے ہیں۔ جس پولیس اہلکار کے بارے میں بتایا گیا کہ اس کا ہاتھ زخمی ہے اس سے ٹیم کو نہیں ملنے دیا گیا جبکہ دیگر تین اہلکاروں سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔
10۔ رپورٹ میں ارشد شریف کے میزبان وقار احمد کی دوسری بیوی مہرین کی حرکات و سکنات کو بھی مشکوک ٹھہرایا گیا ہے جو شوٹنگ رینج کی حامل کمپنی کی پارٹنر بھی ہے جبکہ خود بھی ورلڈ کلاس شوٹر ہے اور فائرنگ رینج میں بطور ٹرینر کام کرتی ہے۔
11۔فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق وقار احمد کے بیانات میں بھی کئی تضادات پائے گئے۔ وقارنے ارشد شریف کی یو ایس بی بھی ٹیم کے حوالے نہیں کی جبکہ سی سی ٹی وی کیمرے کا ریکارڈ دینے سے بھی انکار کر دیا ۔
12۔وقار احمد کے کینیا کی پولیس اور انٹیلی جنس سے قریبی رابطے پائے گئے ہیں جبکہ اس نے دعوی کیا کہ اس کے بعض اہم اداروں کے پاکستانی حکام سے بھی روابط ہیں تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ۔

13۔سلمان اقبال نے ارشد شریف پر فائرنگ کے تیس منٹ بعد موت کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ میں نے کئی گھنٹے بعد فون کیا۔
14۔سلمان  اقبال نے وقار سے براہ راست تعلق کی تردید کی جبکہ شواہد اس سے مختلف کہانی سنا رہے ہیں۔
15۔فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ارشد شریف نے گرفتاری کے خوف سے ملک چھوڑ ا۔
16۔ تحقیقاتی ٹیم کے مطابق  ارشد شریف کے خلاف درج کیے گئے 16 مقدمات کے حوالے سے بھی کا فی شبہات پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے صرف دو مقدمات کے مدعی ٹیم کو ملاقات کے لیے دستیاب ہو سکے ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481