Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آج معروف شاعر سعود عثمانی کا جنم دن ہے

FB IMG 1670304526681

سعودؔ عثمانی 6؍دسمبر 1961ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ایک علمی و ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ آپ کے والد جناب ذکی کیفی بلند پایہ شاعر تھے۔ آپ کے چچا رفیع عثمانی اور مولانا جسٹس (ریٹائرڈ)  تقیؔ عثمانی بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔

سعود عثمانی کے دو انتہائی معیاری شعری مجموعے "قوس” اور "بارش” کے نام سے اشاعت پذیر ہو کر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ انھیں مختلف ایوارڈ بھی ملے۔

سعودؔ عثمانی پبلشر کے طور پر بھی اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ وہ مقامی اور بین الاقوامی مشاعروں میں بھی ایک ہر دل عزیز شاعر کے طور پر جانے مانے جاتے ہیں۔

 

اک اَلاؤ کے گِرد بیٹھے ہُوئے
راکھ کا ڈھیر ہو گیا مَیں بھی

میاں یہ عشق ہے اور آگ کی قبیل سے ہے
کسی کو راکھ بنا دے، کسی کو زر کر دے

اے عشق ِ سینہ سوز مرے دل سے دل ملا
اور یوں کہ بس کلام ہو اور گفتگو نہ ہو

دل سے تری یاد اتر رہی ہے
سیلاب کے بعد کا سماں ہے

یہ جو میں اتنی سہولت سے تجھے چاہتا ہوں
دوست اک عمر میں ملتی ہے یہ آسانی بھی

یہ میری کاغذی کشتی ہے اور یہ میں ہوں
خبر نہیں کہ سمندر کا فیصلہ کیا ہے

مزاجِ درد کو سب لفظ بھی قبول نہ تھے
کسی کسی کو ترے غم کا استعارہ کیا

عشق سامان بھی ہے، بے سر و سامانی بھی
اسی درویش کے قدموں میں ہے سلطانی بھی

عجیب ڈھنگ سے میں نے یہاں گزارا کیا
کہ دل کو برف کیا ذہن کو شرارہ کیا

images 7


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481