سعودؔ عثمانی 6؍دسمبر 1961ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ایک علمی و ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ آپ کے والد جناب ذکی کیفی بلند پایہ شاعر تھے۔ آپ کے چچا رفیع عثمانی اور مولانا جسٹس (ریٹائرڈ) تقیؔ عثمانی بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔
سعود عثمانی کے دو انتہائی معیاری شعری مجموعے "قوس” اور "بارش” کے نام سے اشاعت پذیر ہو کر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ انھیں مختلف ایوارڈ بھی ملے۔
سعودؔ عثمانی پبلشر کے طور پر بھی اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ وہ مقامی اور بین الاقوامی مشاعروں میں بھی ایک ہر دل عزیز شاعر کے طور پر جانے مانے جاتے ہیں۔
اک اَلاؤ کے گِرد بیٹھے ہُوئے
راکھ کا ڈھیر ہو گیا مَیں بھی
میاں یہ عشق ہے اور آگ کی قبیل سے ہے
کسی کو راکھ بنا دے، کسی کو زر کر دے
اے عشق ِ سینہ سوز مرے دل سے دل ملا
اور یوں کہ بس کلام ہو اور گفتگو نہ ہو
دل سے تری یاد اتر رہی ہے
سیلاب کے بعد کا سماں ہے
یہ جو میں اتنی سہولت سے تجھے چاہتا ہوں
دوست اک عمر میں ملتی ہے یہ آسانی بھی
یہ میری کاغذی کشتی ہے اور یہ میں ہوں
خبر نہیں کہ سمندر کا فیصلہ کیا ہے
مزاجِ درد کو سب لفظ بھی قبول نہ تھے
کسی کسی کو ترے غم کا استعارہ کیا
عشق سامان بھی ہے، بے سر و سامانی بھی
اسی درویش کے قدموں میں ہے سلطانی بھی
عجیب ڈھنگ سے میں نے یہاں گزارا کیا
کہ دل کو برف کیا ذہن کو شرارہ کیا

