اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

شہباز شریف اور وزیراعظم آزادکشمیر میں تکرار کیوں ہوئی ؟

aff57c8d d2bb 45a2 90e3 2aef1ce2423d

آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں منگلا ڈیم کی تقریب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور آزادکشمیر کے وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کے درمیان تکرار کی وجہ سامنے آ گئی۔ سردار تنویر الیاس کو نہ صرف تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا بلکہ واپڈا حکام نے انہیں  شہباز شریف کا استقبال کرنے سے بھی روک دیا تھا۔سردار تنویر الیاس نے ہنگامی پریس کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا

یہ امر قابل ذکر ہے کہ میر پور آزادکشمیر میں منگلا ڈیم کے یونٹ 5 اور 6 کی تجدید کاری کی تقریب میں شہباز شریف کے خطاب کے دوران وزیر اعظم آزاد کشمیر تنویرالیاس نے بار بار بولنےکی کوشش کی۔

وزیراعظم شہباز شریف کے خطاب کے اختتامی کلمات کے دوران وزیراعظم آزاد کشمیر کچھ بولنے لگے جس پر شہباز شریف قدرے غصے میں آگئے اور ہاتھ کے اشارے کے ساتھ بار بار کہتے رہے کہ وزیراعظم صاحب بیٹھیں آپ سے بات کریں گے۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر نے پریس کانفرنس میں کیا کہا؟

ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم تنویر الیاس کا کہنا تھا کہ واپڈا نے انہیں تقریب کی اطلاع دی اور نہ ہی شرکت کی دعوت دی، واپڈاکے اہلکاروں نے ہمیں وزیراعظم شہباز شریف کے استقبال سے بھی روکا، حالانکہ اگرہم وزیراعظم پاکستان کا استقبال کرتے توان کی شان میں اضافہ ہوتا۔

تنویر الیاس کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر کے ڈی آئی جی اور کمشنر کو بھی پہچاننے سے انکار کر دیا گیا، وزیراعظم شہبازشریف نے مجھے تقریب میں بات کرنےکا موقع بھی نہیں دیا، ان کارویہ چوہدری اور جاگیردار والا تھا، آزادکشمیر کے عوام کے ساتھ ہتک آمیز رویہ ناقابل قبول ہے۔

تنویر الیاس خان نے کہا  کہ وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے منگلا ڈیم پاور ہاؤس کے  2 نئے یونٹ کے افتتاح کے موقع پر آزادکشمیر حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا اور جب ہمیں اطلاع ملی تومیں نے فیصلہ کیا کہ وزیر اعظم پاکستان ہمارے علاقے میں آرہے ہیں تو میرا وہاں موجود ہونا ضروری ہے اگر میں وہاں نہ ہوا تو وہ مجھے پر الزام لگائیں گے کہ وزیر اعظم آزادکشمیر نے میرا استقبال نہیں کیا۔ چونکہ ماضی میں جب آصف علی زرداری صدر پاکستان تھے تو یہ پنجاب میں موجود نہیں ہوتے تھے اور بعد میں یہ کہتے تھے کہ زردار ی کا پیٹ پھاڑوں گا۔

Photo of PM AJK from PID Mirpur 05 12 2022

تنویر الیاس نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم پاکستان کا منگلا آمد پر واپڈ کا آزادکشمیر کی سینئربیورو کریسی کے ساتھ رویہ ہتک آمیز تھا۔انہوں نے اہلیان کشمیر اور منگلا ڈیم کی قربانیوں کا ذکر نہ کرکے پوری کشمیری قوم کی تضحیک کی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا وزیر اعظم آزادکشمیر کے ساتھ جارحانہ اورنا مناسب رویہ تھا جس پر انھیں معافی مانگنی چاہیے۔انہیں وزیر اعظم آزادکشمیر کی بات سننی چاہیے تھی۔ اہلیان کشمیر پاکستان کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں اور کشمیر پاکستان کا دفاعی حصار ہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ منگلا پاور ہاؤس کے دوران ہمارے ساتھ روا رکھے جانے والا رویہ نہایت ہی افسوسناک ہے۔ میاں شہباز شریف سیاست اور جمہوری روایات سے نابلد ہیں ہم انھیں آزادکشمیر کی سر زمین پر شایان شان استقبال کرنا چاہتے تھے لیکن انھیں عزت راس نہیں آئی اور وزیر اعظم آزادکشمیر کے ساتھ ہتک آمیز روایہ اختیار کیا ۔وزیر اعظم آزادکشمیر کی حیثیت سے میں کشمیریوں کی بے عزتی نہیں ہونے دوں گا اور اس رویہ پر احتجاج کرتا ہوں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481