اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مرتضٰی جاویدصاحب! ہزارہ صوبےکےلئےگھوڑا بھی حاضر ہے، میدان بھی

89353696 1614313095373781 5083244183095869440 n

 

228307426 4528690480498038 2433866169676831895 nصاحب تحریر

 

پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر مرتضی جاوید عباسی کا نئے صوبوں کے قیام کے لیے بنائی گئی کمیٹی کا ممبر منتخب ہونا، موجودہ وفاقی وزیر ہونا اور وفاق میں اپنی ہی جماعت کے وزیراعظم کا موجود ہونا ہزارہ صوبے کے قیام کے لیے بہت سی آسانیاں فراہم کرتا ہے ۔۔۔

صوبہ ہزارہ کے قیام میں حائل رکاوٹوں اور کچھ نام نہاد جعلی کاوشوں کے بارے میں وضاحت ضروری ہے کہ اس سے قبل خیبر پختونخواہ اسمبلی میں بھی ہمارے ہزارہ وال حکومتی نمائندوں نے نام نہاد قراردادیں پیش کر کے حلقے میں اپنا دوہرا بیانیہ بنانے اور پھیلانے کی کوششیں کی تھیں۔ نیز قومی اسمبلی میں بھی لیگی اور تحریکی ارکان ہزارہ کی طرف سے یہی مشق کر کے عوام کو اپنے اپنے حلقوں میں جعلی کوششوں کے نام پر کریڈٹ لینے کی خاطر گمراہ کیا جاتا رہا ۔۔۔

عوام کو جُز وقتی طور پر صوبہ ہزارہ کا پراسس شروع کرنے کی جھوٹی خبریں بھی سنائی جاتی رہیں لیکن باشعور  اور جہاں دیدہ لوگ اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ کاغذ آگے پیچھے کرنے اور اسمبلی میں اپنی جماعتوں کے قائدین کی عدم دلچسپی، ممانعت اور خوف کے حوالے سے ہلکی سی ” آہ ” کرنے والے یہ ممبران صوبے بنانے کی نہ تو جُرات رکھتے ہیں اور نہ ہی انھیں میکنزم کے بارے میں کچھ علم ہے۔

سابق حکومت میں سو دن کے اندر "جنوبی پنجاب” صوبہ بنانے کا اعلان اور وزیراعظم عمران خان کی طرف سے باقاعدہ منظوری کی تقریب بھی ابھی تک یاداشتوں سے محو نہیں ہوئی۔  ہم نے اس ڈرامہ بازی کا بھی کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کیا کہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی مرکزی قیادت صوبہ ہزارہ بنانے کے لیے صفر فیصد بھی آمادہ نہیں لیکن ان کے نمائندوں کی "آنیاں جانیاں” عوام کو جھوٹی کہانیاں سنانے کے لیے رہیں کہ "ہمارے قائد محترم سو فیصد صوبہ ہزارہ کے حق میں ہیں”.

موجودہ سیاسی اور ملکی تناظر میں لگتا یوں ہے کہ مسلم لیگ ن بھی تحریک انصاف کی طرح مختلف حلقوں میں نئے صوبوں کا نعرہ لگا کر دوہرا تاثر قائم کر رہی ہے تا کہ انتخابی دنگل میں اترنے کی بہتر منصوبہ بندی کی جائے۔ اہل دانش جانتے ہیں کہ عملی طور پر کوئی نیا صوبہ نہیں بننا لیکن جلسوں میں تقاریر اور بحث مباحثے کے لیے یہ مواد بہت فیض رساں ہے۔ پروپیگنڈے کے لیے میڈیا پر یہ بیانیہ عام کیا جائے گا کہ "ہم نے جنوبی پنجاب اور ہزارہ کے لیے باقاعدہ کمیٹی بنا کر ابتدائی پراسس کا آغاز کردیا تھا”.
ملکی جغرافیہ میں نئے صوبوں کا شامل ہونا قابل عمل بھی ہے اور اختیارات کے مزید بہتر اور نچلے درجے تک منتقلی کا وسیلہ بھی۔ نیک نیتی سے دیکھا جائے تو کراچی حیدرآباد صوبے کا قیام نئے صوبوں کے قیام کی ترجیحاتی فہرست میں پہلے نمبر پر آتا ہے۔  اس کے بعد جنوبی پنجاب، ہزارہ ، پوٹھوہار اور قبائلستان کی دیگر تحریکیں بھی توجہ طلب ہیں ۔۔۔

پاکستان پیپلز پارٹی کو کراچی صوبہ بننے پر سندھ میں اپنی سیاسی موت واضح نظر آتی ہے۔  وہ اس عوامی میرٹ اور ضرورت کو نظر انداز کرتے ہوئے سندھی قوم کی قوم پرستی کا ڈھنڈورا پیٹ کر اپنا سیاسی تسلط تادیر قائم رکھنا چاہتی ہے۔ ان کی اس خود غرضی کی وجہ سے دیگر صوبوں کی بات بھی آگے نہیں بڑھ پاتی کہ کراچی کو چھوڑ کر کیسے دوسرے صوبے بنا دیے جائیں۔ اگر نئے صوبوں کے منصوبے میں کراچی کو شامل کرتے ہیں تو سندھ بھر میں نسلی فسادات شروع ہونے کا خدشہ ہے جب کہ کراچی کو نظر انداز کر کے دیگر صوبے بناتے ہیں تو سندھ کے شہری علاقوں میں شدید احتجاج متوقع ہے۔

حالانکہ پنجاب میں مزید صوبوں کے قیام کو صوبے بھر کے پنجابی بہ نظر تحسین دیکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں کسی قسم کے تنازعات یا اختلافات کا کوئی خدشہ نہیں البتہ خیبر پختونخواہ میں تقریباً تمام ہی قومی جماعتوں کی پشتون قیادت میں کسی حد تک قوم پرستی کا یہ منفی تعصب ضرور موجود ہے۔ جس کی وجہ سے کوئی بھی سیاسی جماعت اقتدار ملنے کے بعد ان صوبوں کے ایشوز پر آگے بڑھنے کی جسارت نہیں کرتی اگرچہ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے سیاسی فوائد کے حصول کے لیے نئے صوبوں کی حمایت کی جاتی ہے۔۔۔

مرتضی جاوید عباسی صاحب کو اللہ نے اب یہ نادر موقع فراہم کیا ہے کہ بغیر کسی عُذر، بہانے کے اب وہ صوبہ ہزارہ کے قیام کو وعدوں، نعروں اور دعووں کی بھول بھلیوں سے نکال کر اس کی عملی صورت گری کریں۔ کیوں کہ وہ ہر پلیٹ فارم پر یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ۔۔۔۔  "صوبہ ہزارہ کے لیے سب سے زیادہ مخلصانہ کوششیں مرتضی جاوید عباسی نے کی تھیں مگر وفاق میں PTI صوبہ بنانے میں رکاوٹ تھی” ۔۔۔

مرتضی جاوید عباسی صاحب! خوش قسمتی سے اب سیاسی فضا خوشگوار اور موسم سہانا ہے۔ ڈرائیونگ سیٹ پر آپ براجمان ہیں۔ ہائی وے سِگنل فری ہے۔ ساری نظریں آپ پر لگی ہیں کہ آپ اپنے موقف کو مبنی بر صداقت ثابت کر کے صوبہ ہزارہ کے قیام کی عملی گاڑی کو کتنا جلدی منزل پر پہنچاتے ہیں۔

ہم آخری مرتبہ اس ٹرک کی سرخ بتّی کے پیچھے چل کے دیکھ لیتے ہیں ۔۔۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481