اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بیج لگا۔۔۔۔۔ بخت جگا۔۔ جمیل الرحمٰن عباسی کی دعوت فکر دیتی تحریر

bb05ac06 0a66 44a6 91b6 86dcf3fb854b

ایک دن سبزی کی دکان پر جا کراردو کی ”لوکی“ اور ہندکو، کی ”ڈُبری“ کی قیمت دریافت کی تو تعجب سے ”سبحان اللہ“ کہتے ہی بنی ”ایک سو تیس روپیہ فی کلو“ تبھی مجھے اپنے لڑکپن کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔

ہمارے اسکول کے راستے میں ہماری ”ماسی“ کا گھر پڑتا تھا۔ ایک دن انھوں نے ہمیں راستے میں روکا اور کہا ”یہ کچھ سبزی ہے لے جاؤ، اپنے گھر بھی دینا اور فلاں فلاں کو بھی دے دینا“ پچاس کلو چینی کا ایک خالی تھیلا سبزی سے بھر کے انھوں نے ہمارے نازک کندھوں پہ لدوایا اور ہم خراماں خراماں گھر کو چل دیے۔ تھوڑا ہی چلنے کے بعد ہماری ”خرامانی“ ہِرَن ہو گئی اور اب ہم اس بوجھ سے سبکدوشی کی کوئی صورت سوچنے لگے۔ایک مکان کے پاس سے گزرتے ہوئے خیال آیاکہ یہ ہماری امی کا ننھیال ہے۔ایک بڑی اماں لوٹے سے پودوں کو پانی دے رہی تھیں۔ ہم نے ادب سے سلام کیا اور کہا کہ خالہ نے یہ سبزی بھیجی ہیں اور کہتی تھیں آپ کو جتنی چاہیے اتنی رکھ لیں“ بڑی اماں ماتھا پیٹ کر بولیں ”اے ہے تمھاری خالہ بہت سیانی ہو گئی ہے میری تو اپنی سبزیاں درختوں پر سوکھ رہی ہیں تمھاری خالہ کی سبزیوں کا کیا کروں؟ بڑی آئی خالہ سیانی۔۔۔۔ ہونہہ“

بندے کو کچھ سمجھ نہ آیا خیر آگے بڑھا تو ایک اور ”خالہ“ کا مکان نظر آیا جھٹ سے سلام دعا کے بعد تھیلے کا منھ کھول کر ان کے سامنے رکھا۔چند کھیرے نکال کر بولیں ”یہ باقی ”ڈُبَر“ جا کر ماں کے حوالے کرنا“۔ اب میں سیدھا اپنے گھر آیا اور اپنا کارنامہ والدہ محترمہ کو پیش کیا۔انھوں نے سبزیوں کا معائنہ کیا کچھ سبزی الگ کی اور باقی کے بارے میں اسی بندہ غریب کو حکم جاری فرمایا”ان کے ”ڈکرے“(بڑے ٹکڑے) کر کے بھینس کے ”ٹپ“ میں ڈال آؤ“۔اس دن دل ہی دل میں ارادہ کیا کہ آج کے بعد ایسی نیکی نہیں کروں گا۔ عجب گھڑی تھی وہ کہ ’ارادہ‘ دعا بن کر قبول ہوا تو اس کے بعد اس طرح سبزیاں ڈھو کر لانے کی نوبت نہ آئی۔

بہرحال اس واقعے سے ہمارے لڑکپن کے دور میں سبزیوں اور ترکاریوں کی فراونی کا اندازہ ہوتا ہے۔یہ وہ دن تھے جب ہمارے لوگ اپنی ”ٹَنڈِیاں“ (کھلیان) آباد کیا کرتے تھے۔گھر کی سبزیوں کی وہ کثرت تھی کہ گائے بھینس تک بھی سبزیوں سے شغل فرمایا کرتیں لیکن اب انسانوں کی دسترس سے بھی باہر ہو چکی ہیں۔ اس کی وجوہات بہت ساری ہو سکتی ہیں۔ لیکن سب سے بڑی وجہ جو براہ راست ہم سے متعلق ہے وہ یہ کہ ہم کھیتی باڑی ترک کر کے ”صنعتی ٹرک“ کے پیچھے لگ گئے۔پاکستان وہ ملک ہے جو صنعتی بننے کے ”خواب“ میں ایسا کھویا کہ ”زرعی“ ہونے کی حقیقت کو فراموش کر بیٹھا حالاں کہ کوئی صنعت ایسی نہیں ہے جس کا تعلق زمینی پیداوار سے نہ ہو۔ انسان بچپن میں ماں کی چھاتیوں سے اپنی خوراک تلاشتا ہے تو یہ دھرتی بھی ہمارے عرف میں ”دھرتی ماتا“ کہلاتی ہے اور قدرت نے ہماری خوراک کا بڑا ماخذ و منبع اسی زمین کو بنایا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:(اُطْلُبُوالرِّزْقَ فِی خَبَایَا الْأَرْضِ)(الجامع الصغیر)”زمین کے کونوں کھدروں میں رزق تلاش کرو“ شارحین حدیث نے اس کی وضاحت میں فرمایا:(التمسوہ فی الحرث بنحو زرع وغرس)”روزی تلاش کرو زمین کی کاشت یعنی باغات اور کھیتیوں کے ذریعے سے“

9bcf6cb0 4621 4b7f a974 1825acdcd8c6 d0041d7c 98aa 4ed3 8160 a815f9621c61لہسن کی کاشت مالی لحاظ سے بھی بہت مفید ہے

اب اصلاح کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم دوبارہ اپنی روایات کی طرف لوٹیں اور کچھ نہیں تو اپنے کھانے کے لیے، اپنے کچن کے لیے تو سبزیاں خود کاشت کریں۔ یاد رہے یہ دنیاداری نہیں بلکہ عین کارِخیر اور کارِ ثواب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (فَلَا یَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْسًا وَلَا یَزْرَعُ زَرْعًا فَیَأْکُلَ مِنْہُ إِنْسَانٌ، وَلَا دَابَّۃٌ، وَلَا طَیْرٌ، وَلَا شَیْءٌ إِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃً إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ)(صحیح مسلم)”کوئی بھی مسلمان باغ لگائے یا کوئی کھیتی اگائے پھر اس میں سے کوئی انسان کھا لے یا کوئی جانور، پرندہ یا کوئی اور مخلوق کھا لے تو اس باغ لگانے والے کے لیے قیامت کے دن تک صدقے کا اجرو ثواب ہے“

ہماری بڑھتی چڑھتی غربت کا ازالہ زرعی رقبے بیچ باچ کر پلازے تعمیر کرنے میں نہیں ہے۔ نہ ہی ہماری خوشحالی کا راز ”بحریہ ٹاؤن اور عسکری ٹاؤن“ کی فتوحات میں ہے۔ ہماری خوشحالی”باڑی اور باڑے“ میں ہے۔ہماری خوشحالی اس گندم کی بالی میں ہے جو میرے اپنے کھیت سے اگ کر میرے پیٹ میں جائے اور ہماری خوشحالی اس دودھ کی بوند میں ہے جو میرے باڑے کی گائے بھینس سے نکل کر میری اولاد کو سیراب کرے۔ ”باڑی اور باڑے“(کھیتی اور ڈھور ڈنگر) کا یہی فارمولا درج ذیل چند احادیث سے سامنے آتا ہے:ایک بار رسول اللہﷺ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹوں کو یوں نصیحت فرمائی:(أَنْ یَحْرُثُوا الْقَضْبَ فَإِنَّہُ یَنْفِی الْفَقْرَ)(المعجم الکبیر)”انھیں چاہیے کہ وہ سبزیاں کاشت کریں اس لیے کہ وہ غریبی کو ختم کرتی ہیں“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (النَّخْلُ وَالشَّجَرُ بَرَکَۃٌ عَلَی أَہْلِہِ)کھجور اور (دیگر) درخت اپنے لگانے والوں کے لیے باعث برکت ہیں (المعجم الکبیر) اور رہا باڑا تو اس کی اہمیت کو یہی ایک روایت کافی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: (اتَّخِذِی غَنَمًا فَإِنَّ فِیہَا بَرَکَۃ ً) (سنن ابن ماجہ)”تم بکریاں پالو کہ ان میں برکت ہے“

پہاڑی علاقوں میں لنک روڈز کی سہولت کے باعث اب ٹریکٹر کے ذریعے فصلوں کی کاشت بھی آسان ہو گئی ہے۔ بیروت کا ایک منظر ، ٹریکٹر سے گندم بوئی جا رہی ہے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481