اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بلدیاتی نظام کا تسلسل اور پاکستان

FB IMG 1670070733640

پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ آج تک پاکستان کو نہ اچھا بلدیاتی نظام مل سکا (بدقسمتی کہیے یا کچھ اور کہ بلدیاتی نظام زیادہ تر مارشل لاء ادوار میں ہی متعارف ہوئے) اور نہ ہی بلدیاتی یا لوکل باڈی نظام کو تسلسل مل سکا. اصل میں دنیا کی آبادی میں اضافہ کے ساتھ جمہوری (واقعی جمہوری) ملکوں میں تواتر سے ایسے بلدیاتی نظام ترتیب دیے گئے کہ عوام کو ساری سہولیات ان کی دہلیز پر مہیا کی جائیں. بلدیاتی نظام کا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ عوام کو اپنے منتخب نمائندوں تک صرف رسائی حاصل نہ ہو بلکہ سہل رسائی میسر ہو.

پاکستان کی اگر بات کی جائے تو بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی میں اندرون سندھ یا بلوچستان کے کسی دور دراز علاقے سے ایک شخص کو اپنے معمولی سے کام کے لئے اپنے ایم این اے سے ملنے ہزار بارہ سو کلو میٹر دور اسلام آباد آنا ہو گا یا  ایم پی اے سے ملنے کراچی یا کوئٹہ جانا ہو گا۔  بلدیاتی نمائندے نہ ہونے کی وجہ سے یہی ایم این اے اور ایم پی اے ہی منتخب نمائندے ہیں۔ قارئین کرام ! میرا آبائی علاقہ اسلام آباد سے صرف 70 کلومیٹر دور ہے. میں سوچتا ہوں جب میرے لوگوں کو اسلام آباد آ کر ایم این اے سے ملنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اسلام آباد سے ہزاروں کلو میٹر دور سے آنے والے پاکستانیوں کا کیا حال ہوتا ہو گا؟

بلدیاتی نظام کے نہ ہونے سے عوام اپنے معمولی ترین کاموں کے لیے بھی ایم این اے، ایم پی اے کے دست نگر ہو جاتے ہیں۔  مثلآ  رستہ پکا کروانا،  گٹر لائن بنوانی، لنک روڈ کی مرمت، کوڑا ٹھکانے لگانے کے انتظامات وغیرہ۔  میں اسلام آباد کے جس سیکٹر میں رہتا ہوں وہاں کا ٹیوب ویل خراب ہو گیا تو ہمیں علاقے کے ایم این اے کو زحمت دینا پڑی۔ یقینا آپ کو علم ہو گا کہ ایم این اے، ایم پی اے اور سینیٹرز کا کام قانون سازی ہے نہ کہ گلیاں، نالیاں، باتھ ویز اور گٹر لائن بنوانا.
قارئین آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جب بلدیاتی نظام کے اتنے فائدے ہیں تو پاکستان میں کیوں اس نظام کو تسلسل اور تواتر سے کام کرنے دیا گیا۔  اس کی دو اہم وجوہات جو میری سمجھ میں آئی ہیں درج ذیل ہیں۔۔

ایک یہ کہ ہمارے ایم این اے، ایم پی اے حتی کہ پی ایم اور سی ایم بھی اپنے اختیارات میں کسی قسم کی کمی برداشت نہیں کر سکتے چاہے اس سے ملک و قوم کا نقصان ہی کیوں نہ ہوتا ہو.

دوسرے بلدیاتی نظام کے فعال ہونے کی صورت میں علاقے کے تمام ترقیاتی کام منتجب بلدیاتی نمائندے کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔ اس لیے تمام فنڈز اور مالی اختیارات بھی بلدیات میں چلےجاتے ہیں۔ اس طرح بڑوں کے "کھانے پینے ” کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔

مشرف دور کا بلدیاتی نظام بہت اچھا تھا۔ اس دور میں پورے پاکستان میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے. میں نے عرصہ دراز بیرون ملک گزارا ہے اس لیے اگر مشرف دور سے پہلے کوئی اس سے بہتر بلدیاتی نظام گزرا ہو تو مجھے اس کے بارے میں علم نہیں ہے. عمران خان نے کرکٹ کی وجہ سے بہت عرصہ انگلینڈ میں گزارا۔ الیکشن سے پہلے عمران خان مغربی ممالک کے مثالی بلدیاتی نظام کا بہت ذکر کرتے تھے۔ لیکن تین، چار سال حکومت کر کے گھر بھی چلے گئے (یا گھر بھجوا دیئے گئے) مگر اس سارے عرصے میں بلدیاتی الیکشن نہیں کروا سکے. اب امید تھی کہ امسال پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہوں گے.. مگر موجودہ سیلاب نے یا ن لیگ کی بڑھتی مہنگائی نے بلدیاتی الیکشن کو دور کر دیا. نیز موجودہ ضمنی انتخابات کے نتائج نے بھی اپنا کردار ادا کیا جہاں 13 جماعتوں نے مل کر 11 میں سے 8 نشستوں پر شکست کھائی. اس صورت حال میں ڈرا سہما حکومتیں اتحاد بلدیاتی انتخابات کا متحمل کیسے ہو سکتا ہے۔
پی ٹی آئی اگر 2018 کے عام انتخابات کے بعد فوری طور پر لوکل باڈیز الیکشن کروا دیتی تو یہ قدم نہ صرف پی ٹی ائی کے لیے بہت فیض رساں ہوتا بلکہ اس سے جمہوریت کے فروغ میں بھی بہت مدد مل سکتی تھی۔.. اب ن لیگ اور پی ڈی ایم کی مرکزی حکومت ایک تو عمران خان کی مؤثر کمپین کی وجہ سے اور دوسرے روز افزوں مہنگائی کے کارن عوام میں اپنا وقار اور اعتبار کھو چکی ہے۔ اس کے باوجود اگر 2022 میں پی ڈی ایم اور ن لیگ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ بڑے حوصلے کی بات ہو گی. اور اس پر انھیں ہدیہ تبریک و تحسین پیش کرنا چاہیے۔

قارئین کرام۔ مؤثر بلدیاتی نظام کی وجہ سے امریکہ میں 600 لوگوں پر ایک منتخب نمائدہ جب کہ برطانیہ میں 3500 لوگوں پر ایک منتخب نمائندہ ہے۔  پاکستان کی 22 کروڑ آبادی میں بلدیاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے 2 لاکھ لوگوں پر ایک منتخب نمائندہ ہے۔
ہمیں امید ہے کہ ن لیگ پنجاب میں بلدیاتی الیکشن سے اس طرح فرار حاصل نہیں کرے گی جیسے پی پی پی سندھ میں عدالت کے بار بار کے حکم کے باوجود بلدیاتی انتخابات نہیں کروا رہی تھی۔  اب سندھ میں بلدیاتی انتخابات کی امید جاگی ہے لیکن سیلاب کا بہانہ بنا کر ایک بار پھر ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے۔ لیکن امید قوی ہے کہ عدالت حکم خاص کے ذریعے بلدیاتی انتخابات کا مکمل انعقاد کروائے گی. کراچی میں حافظ نعیم الرحمن کے میئر کراچی بننے کی صورت میں اس شہر کو ایک اچھا اور ایماندار میئر ملنے کی امید ہے۔ جس سے روشنیوں کے شہر کی روشنیاں اور رونقیں بحال ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

کے پی کے میں الیکشن پہلے ہی ہو چکے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں آدھے پاکستان یعنی صوبہ پنجاب میں کب بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جاتا ہے…

قارئین قانون سازی کے ذریعے ایسا نظام بنانا چاہیے کہ ملک میں صدارتی، پارلیمانی یا کوئی بھی نظام ہو۔۔۔ حتی کہ مارشل لاء کی صورت میں بھی بلدیاتی نظام کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔ نیز حقیقی جمہوری ملکوں کی طرح سارے کے سارے ترقیاتی کام اس منتخب بلدیاتی نظام کی ذمہ داری ہوں.. ترقیاتی فنڈز کا راستہ رک جائے تو آدھے ایم این اے، ایم پی اے بھی شاید کروڑوں روپے لگا کر الیکشن لڑنے میں دلچسپی نہ لیں۔  وہ کروڑوں روپے اسی لئے لگاتے ہیں کہ ترقیاتی اور دوسرے منصوبہ جات سے اربوں کمائیں گے..… بلدیاتی نظام کے فعال ہونے سے عوام کو اپنے منتخب نمائندوں تک رسائی بھی آسان ہو جائے گی.. مشرف اور ق لیگ کے دور میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہونے کی وجہ ڈالروں کی پاکستان آمد کے ساتھ ساتھ مضبوط اور اچھے بلدیاتی نظام کی موجودگی بھی تھی۔
اللہ پاک پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے بہتری کے فیصلے فرمائے.. آمین

کوہسار نیوز کے لئے خصوصی تحریر

شفاقت اعجاز عباسی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481