اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پولٹری انڈسٹری مخصوص درآمدی خوراک کے لیے بضد کیوں؟ چشم کشا رپورٹ

0813ea5a a0c8 4a50 9c12 91dd8e533dc3

اس وقت پولٹری انڈسٹری اور حکومت کے درمیان زور دار جنگ جاری ہے۔ کیوں کہ حکومت کی طرف سے جییناتی طور پر ترمیم شدہ خوراک (Genetically Modified Organisms) کی درآمد پر پابندی ہے جب کہ پولٹری انڈسٹری اپنی مرغیوں کو درآمد شدہ جی ایم او سویابین پر مشتمل خوراک کھلانے پر بضد ہے۔ جی ایم او انڈسٹری دنیا کا طاقت ور ترین اور خطرناک ترین مافیا ہے جو ہر سال کھربوں ڈالر کما رہا ہے۔ اگرچہ جی ایم او کی تباہ کاریوں کی وجہ سے بہت سے ممالک میں ان پر پابندی ہے۔

میں نے جی ایم او پر تحقیقی رپورٹ لکھی تھی۔ جس کے مطابق یہ دولت کی خاطر پورے کرہ ارض کو تباہ کر رہے ہیں۔ اس مافیا کی سرغنہ مونسانٹو نامی کھرب پتی کارپوریشن ہے۔ مثال کے طور پر ان کے جی ایم او بیج زبردست پیداوار دیتے ہیں مگر ان کے دانوں کو بطور بیج استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے اگلی فصل پر دوبارہ ان ہی سے بیج خریدنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔  کیوں کہ یہ ہر سال ان بیجوں میں جینیاتی رد و بدل کرتے رہتے ہیں۔

ایک بار جی ایم او فصل کسی کھیت میں اگا دی جائے تو پھر اس زمین پر عام بیجوں والی فصل نہیں اگائی جا سکتی۔ جب کہ چند سال میں وہ زمین مکمل بنجر اور ناکارہ ہوجاتی ہے۔ اگر ان کی جی ایم او فصل کے بیج انھیں ادائیگی کے بغیر کسی دوسرے کھیت میں اگائے جائیں تو یہ اس کاشت کار پر مقدمہ کرکے وصولی کرتے ہیں۔

ان جی ایم او فصلوں کے بیجوں میں کیڑے مار دوا والی تاثیر شامل کی جاتی ہے مگر اس سے کیڑے ہر فصل کے ساتھ جینیاتی طور پر خطرناک ہوتے جاتے ہیں جنھیں ہلاک کرنے کے لیے یہ مزید طاقت ور ادویاتی اجزا شامل کرتے جاتے ہیں۔ ایسے کیڑوں پر عام کیڑے مار دوائیں اثر نہیں کرتیں۔

اس کے علاوہ یہ کھلے ہاتھ سے کسانوں کو قرض پر بیج اور کھادیں وغیرہ دیتے ہیں کیوں کہ ان سے ان کی منہ مانگی قیمت اور شرائط پر جی ایم او بیج خریدنے والا اگلی فصلوں پر بھی ان ہی سے بیج خریدنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یوں کسان مسلسل ان کے مقروض ہوتے چلے جاتے ہیں۔ پڑوسی ملک میں ان کی غلامی میں جکڑے بہت سے کسان بے بسی کے عالم میں خود کشی کر چکے ہیں۔

جی ایم او خوراک کی تباہ کاریوں کی ایک الگ لمبی فہرست ہے۔ مختصراً یوں سمجھ لیجیے کہ جی ایم او خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور دیگر طبی مسائل کے شکار مریضوں پر عام اینٹی بائیوٹک دوائیں اثر نہیں کرتی ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481