نیلم پکنک پوائنٹ کوہالہ پل کے قریب سے ایک خاتون نے دریا میں چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی۔ چھلانگ لگاتے ہی خاتون دریا کی طوفانی موجوں کی نذر ہو گئی ۔ابھی تک خاتون کی شناخت نہیں ہو سکی۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ کی نماز کے بعد مبینہ طور پر خاتون نیلم پکنک پوائنٹ کوہالہ پل کے ساتھ بیٹھی تھی کہ اچانک اس نے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ واضح رہے کہ 15 روز قبل بھی اس مقام پر ایک شخص نے خود کشی کی تھی۔ پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ بکوٹ نصیر خان فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے ۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ خاتون کافی دیر دریا کے کنارے بیٹھی رہی۔ پھر وہ اچانک
چلتی ہوئی پانی کے قریب گئی اور ہک دم خود کو دریا کی خونی لہروں کے حوالے کر دیا۔ اس کے جوتے، پانی کی بوتل اور چھوٹا بیگ کنارے پر ہی موجود تھا۔ تاہم اس سامان کے ساتھ اس کی شناخت کے حوالے سے کوئی چیز یا دستاویز نہیں مل سکی ۔
ایس ایچ او تھانہ بکوٹ کا مزید کہنا ہے کہ تا حال معلوم نہیں ہو سکا کہ خود کشی کرنے والی خاتون کون تھی، کہاں سے آئی تھی اور وہ کیا وجوہات تھیں جنھوں نے اسے خودکشی پر مجبور کیا؟
سیاحتی مقام پر ہوٹل مالکان اور عینی شاہدین کے مطابق یہ خاتون کافی دیر اکیلی دریا کے کنارے پتھر پر بیٹھی رہی۔ پھر اچانک اٹھی اور دریا میں چھلانگ لگا دی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ کوہالہ سے تین دریا دریائے جہلم، نیلم اور کنہار مل کر بہتے ہیں اس لیے یخ بستہ، انتہائی خطرناک اور تیز رفتار پانی میں ڈوب جانے کے بعد کسی کا زندہ بچنا تقریبا نا ممکن ہے ۔
