افغان دارالحکومت کابل میں جمعہ کے روز پاکستانی سفارت خانے پر فائرنگ اورسابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار پر ناکام حملے کے واقعات ہوئے ہیں ۔
حوالے سے موصولہ تفصیلات کے مطابق کابل میں ایک دن میں فائرنگ کے دو واقعات پیش آئے ہیں۔ پہلا واقعہ افغان دارالحکومت میں پاکستانی سفارت خانے پر فائرنگ کی صورت پیش آیا۔ پاکستانی ڈپٹی ہیڈ آف مشن چہل قدمی کر رہے تھے کہ اس دوران ان پر فائرنگ کی گئی تاہم وہ حملے میں محفوظ رہے۔ لیکن ان کا گارڈ شدید زخمی ہوا ہے جس کے سینے میں تین گولیاں لگی ہیں۔ اس کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے .ذرائع کے مطابق جمعہ کی چھٹی کے باعث پاکستانی سفارت خانے میں عملے کی پوری تعداد موجود نہیں تھی ۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کابل میں پاکستانی سفارت کار پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے افغان حکومت سے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے زخمی ہونے والے سکیورٹی گارڈ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی ہے۔
دوسری طرف کابل ہی میں فائرنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے جس میں حزب اسلامی کے امیر گلبدین حکمتیار کے مرکزی دفتر پر فائرنگ کی گئی ہے تاہم حملہ آور ان تک پہنچنے میں ناکام ہوگئے اور حکمت یار کے محافظوں کی فائرنگ سے دونوں حملہ آور مارے گئے۔فائرنگ کے تبادلے میں گلبدین حکمت یار کے دو محافظ بھی زخمی ہوئے جن میں سے ایک بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر جاں بحق ہوگیا۔
ادھر دفتر خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کابل میں قائم پاکستانی سفارت خانے کی عمارت پر حملہ کر کے ہیڈ آف مشن عبید الرحمان نظامانی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی مگر وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے جبکہ عبید الرحمان کی حفاظت کے دوران فائرنگ سے پاکستانی سیکیورٹی گارڈ سپاہی اصرار محمد شدید زخمی ہوا۔
