اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ایس ایل او SLO بیسڈ امتحانات کیسے مختلف ہیں؟

بورڈ نے امتحانی طریقہ کار کو تبدیل کرتے ہوئے SLO بیسڈ یعنی Student Learning Outcomes کی بنیاد پر کر دیا ہے۔

اس طریقہ کار میں کتاب میں دیے گئے موضوعات کو طالب علم نے مختلف resources اور حوالہ جاتی کتب سے تیار کرنا ہوتا ہے۔ ابتدائی مرحلہ میں پنجاب ٹیکسٹ بک کو ریفرینس بک لیا گیا ہے تاہم SNC سنگل نیشن کریکولم کے نفاذ کے بعد ریفرینس میٹیریل بڑھا دیا جائے گا یعنی تمام اوپن سورسز سے بچے کو پیپر تیار کرنا ہوگا جس سے مواد کے علاوہ طلبا کی تحقیق و جستجو بڑھے گی۔

فی الوقت پنجاب ٹیکسٹ بکس میں موجود مواد کو تین بنیادی حصوں میں تقسیم کر کے پیپر تیار کیے جا رہے ہیں
1. Knowledge Based
اس حصہ میں کتاب میں دی گئی تعریفیں اور انفارمیشن بیسڈ سوالات شامل ہیں۔ یہ حصہ مشقی سوالات وغیرہ پر مشتمل ہے جس میں بچے کی یاداشت کو ٹیسٹ کیا جاۓ گا۔ یہ حصہ کل پیپر کے 40% سوالات پر مشتمل ہے۔ مثلا فزکس کی تعریف کریں یا اسلام کے بنیادی عقائد لکھیں وغیرہ۔

2. Application Based
اس حصہ میں مواد کا وہ حصہ شامل ہے جو Applied knowledge پر مشتمل ہے یعنی جو ٹاپک پڑھا جائے اس کا روزمرہ زندگی میں استعمال کیا ہے۔ یہ حصہ کل پیپر کے 30% سوالات پر مشتمل ہے۔
مثلا آپ بطور طالب علم نماز پنجگانہ کا اہتمام کیسے کرتے ہیں؟ یا مررز کو بطور رفلیکٹر استعمال کرتے ہوئے انرجی کیسے حاصل کریں گے؟

3. Understanding Based
اس حصہ کو صحیح معنوں میں Concept بلڈنگ کہتے ہیں۔ دراصل Application بیسڈ سوالات ان سے ہی Derive ہوتے ہیں۔ اس حصہ میں اعلی تصوراتی سوالات، derivations, correlations اور ٹاپک کی depth مراد ہے۔ یہ حصہ بچے کو تنگ کر سکتا ہے۔ یہ سوالات کل پرچہ کا 30% ہوں گے۔
مثلا آپ 5 ملین پاؤنڈ پانی بغیر کسی سہارے ہوا میں کیسے معلق کریں گے؟

اس طریقہ امتحان سے بچے کی critical تھنکنگ بہتر ہو گی اور روایتی رٹا سسٹم اور Past papers cramming سے چھٹکارا مل جائے گا۔  یوں بچے کو رٹا مشین بنانے کی بجائے تفکر و تحقیق کی طرف راغب کیا جا سکے گا.
اداروں کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے سلیبس کو نئے پیٹرن کے مطابق تشکیل دے کر بچوں کی Assessment کریں تاکہ پہلے سے رائج طریقہ تدریس اور طریقہ امتحان سے نکل کر جدید طریقہ امتحان پر شفٹ ہوا جا سکے۔

مختصر یہ کہ، سوالات کی نوعیت *کیا* سے *کیوں* کی طرف ہو سکتی ہے۔ معروضی کی تیاری کتاب سے ضروری ہے جب کہ پرچے کے مختصر سوالات کے سلسلے میں طلبا کو اس موضوع پر معیاری کتب کا مطالعہ کر کے تیاری کرنا ہو گی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481