فیڈرل بورڈ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں ہمیشہ سے ٹرینڈ سیٹر رہا ہے. کافی عرصہ سے امتحانی سسٹم کی خرابیوں کے حوالہ سے اسٹڈیز ہوتی آرہی ہیں. 2015 تا 2020 تک سابق چیئرمین ڈاکٹر اکرام علی ملک صاحب نے امتحان میں رٹا سسٹم کی روک تھام کے لئے ملک کے اندر اور باہر سے تعلیمی ماہرین بلا کر پیپرز کو آکسفورڈ کی طرح کنسیپچوئل بنانے کے حوالہ سے کافی کام کیا. کیونکہ بچوں کی تعلیم میں سنجیدہ والدین کا ایک بڑا حصہ رٹا سسٹم کے خلاف اور بہتر مستقبل کے لئے اپنے بچوں کو اے لیول اور او لیول کراتے ہیں جس سے بھاری فیسوں کی شکل میں کافی زرمبادلہ بیرون ملک جا رہا ہے.
حکومتی سطح پر 2016 کی نیشنل ایجوکیشن پالیسی میں تمام انٹر میڈیٹ اور سیکنڈری تعلیمی بورڈز کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ ایس ایل او بیسڈ پیپر بنائیں (کتاب سے نہیں) لیکن تعلیمی بورڈز, ڈائرکیٹوریٹس اور آئی بی سی سی کی انتظامی سستی جب کہ دیگر سٹیک ہولڈرز (اساتذہ, طلبہ اور والدین) کی بلا وجہ مخالفت اور بلا جواز خوف کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو پا رہا تھا۔
تاہم اس سلسلہ میں فیڈرل بورڈ میں قیصر عالم صاحب نے بطور چیئرمین چارج سنبھالتے ہی تمام تر اندرونی و بیرونی مخالفت کے باوجود سال 2021 سے ایس آیل او بیسڈ امتحان لینے کا فیصلہ کیا.
Student Learning Outcomes (SLO) are statements that specify what students will know, be able to do or be able to demonstrate when they have completed or participated in a Course or Program. SLO’s specify an action by the student that must be observable, measurable and able to be demonstrated
ملک کے طول و عرض میں اساتذہ کے پاس اور اداروں میں خود بھی گئے اور اپنے آفیسرز کو بھی بھیجا. آن لائن اور آن گراؤنڈ ٹریننگ پروگرامز کرائے. ورکشاپس منعقد کرائیں تب جا کر کہیں برف پگھلی.
ان شاء اللہ اب ملک کے باقی تعلیمی بورڈز بھی اس پیٹرن کو فالو کریں گے.
