اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

"شہباز شریف پر جنرل باجوہ کو توسیع دینے کے لیے شدید دباؤ تھا”

7f898567 f8ec 422a a7ff b8beff4bbfad

نامور صحافی انصار عباسی نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف پر جنرل باجوہ کو توسیع دینے کے لیے شدید دباؤ تھا اور حکومتی صفوں میں یہ خدشہ بھی پایا جاتا تھا کہ اگر انہیں توسیع نہ دی گئی تو ملک میں مارشل لا بھی لگ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ انصار عباسی وہ پہلے صحافی تھے جنہوں نے آرمی چیف کے حوالے سے سمری وزیراعظم ہاؤس بھجوائے جانے کی خبر بریک کی تھی ، یہ خبر آنے کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب  اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے سمری وزیراعظم آفس کو موصول ہونے کی تردید بھی کی تھی تاہم چند گھنٹے بعد انصار عباسی کی خبر درست ثابت ہو گئی۔

انصار عباسی کے مطابق اس تردید کے پیچھے بھی یہ خدشہ موجود تھا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ جنرل عاصم منیرکا نام سمری میں شامل نہ کیا گیا ہو تاہم ان کے ذرائع کی اطمینان بخش رپورٹ تھی کہ یہ نام سمری میں سرفہرست ہے۔ انصار عباسی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جنرل باجوہ کے قریبی حلقوں نے انہیں توسیع دلوانے کے لیے سر توڑ کوشش کی اور اس حوالے سے حکومت پر بھرپور دباؤ ڈالا گیا۔ شہباز حکومت بڑی حد تک اس دباؤ سے پریشان تھی تاہم مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف اپنے فیصلے پر ڈٹ گئے اور انہوں نے واضح کیا کہ فیصلہ سنیارٹی کی بنیاد پر ہوگا،یعنی جنرل عاصم ہی آرمی چیف بنیں گے اور یہ کہ جنرل باجوہ پہلے ہی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکے ہیں لہذا انہیں اپنی بات پر قائم رہنے کے لیے قائل کیا جائے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی تجویز سب سے پہلے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے سامنے آئی تھی۔ ذرائع کے مطابق کم و بیش اسی فارمولے کے تحت لیگی قیادت کو یہ پیغام دیا گیا تھا کہ اس دوران اگر نگراں حکومت قائم ہو جاتی ہے تو نواز شریف کی واپسی کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی اور ان کے خلاف نا اہلی سمیت مقدمات ختم ہو جائیں گے۔اور ان کی سیاست میں بھرپور واپسی کی راہ ہموار ہو جائے گی تاہم نواز شریف اس پر آمادہ نہ ہوئے۔

انصار عباسی کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے دباؤ کے تحت ہی وزیراعظم شہباز شریف کو ہنگامی طور پر مصر سے لندن جانا پڑا ، جبکہ خواجہ آصف اور ملک احمد خان کو نواز شریف نے پاکستان سے بلوایا اور ان سب پر یہ واضح کر دیا کہ فیصلہ سنیارٹی کی بنیاد پر ہوگا اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر ہی ہوں گے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481