اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کراچی میں ماں اور3 بیٹیوں کا باپ کےہاتھوں قتل، اصل کہانی کیا ہے ؟

kartachi1

کراچی کے علاقے ملیر شمسی سوسائٹی میں ماں سمیت تین بیٹیوں کے باپ کے ہاتھوں  قتل کی ہولناک واردات نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس میں فواد نامی شخص نے اپنی تین بیٹیوں اور اہلیہ کو قتل کر کے خود کو بھی گلے پر چھری پھیر کر شدید زخمی کر دیا ہے۔

لرزہ خیز واردات کی ابتدائی تفصیل

ایک ہی خاندان کے چار افراد کے قتل کی لرزہ خیز واردات کی جو ابتدائی تفصیلات سامنے آئی تھیں ان کے مطابق قتل میں ملوث خاندان کے سربراہ فواد نے سعودی عرب میں مقیم اپنے بھائی فراز کو ویڈیو کال پر بتایا کہ وہ اپنے بیوی بچوں کو قتل کرنے والا ہے۔
پولیس کے مطابق مقتولین کا خاندان اس علاقے میں پہلی منزل پر کرائے پر مقیم تھا۔گھر سے خاتون اور اس کی 3 بیٹیوں کی خون میں لت پت لاشیں ملی ہیں۔

پولیس  کا کہنا ہے کہ قتل کیے گئے ایک ہی خاندان کے چار افراد میں زخمی فواد کی اہلیہ ہماء، 16 سالہ نیہا، 12 سالہ بچی فاطمہ اور 10 سالہ ثمرہ  شامل ہیں۔مقتولین کو تیز دھار آلے کے وار کر کے قتل کیا گیا جبکہ مقتولہ ہما کے شوہرملزم فواد کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر ہے، جبکہ لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے۔۔جائے وقوعہ سے آلۂ قتل خون آلود چھری بھی پولیس نے قبضے میں لے لی ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ پولیس نے واقعے کے فوراً بعد ہی ابتدائی تفتیش میں قرار دے دیا تھا کہ واقعہ مقتول خاندان کا اندرونی معاملہ ہے۔

ایس ایس پی ساجد سدوزئی کے مطابق ملزم فواد ایک مصالحہ کمپنی میں سیلز منیجر ہے جس نے مبینہ طور پر اپنی اہلیہ اور تین بچیوں کو قتل کر کے خودکشی کی کوشش کی۔
واردات کے بعد کمرے کی کنڈی اندر سے بند تھی جسے توڑ کر دروازہ کھولا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ملزم فواد نے بیرون ملک مقیم اپنے بھائی کو ویڈیو کال پر بتایا کہ وہ اپنی فیملی کو قتل کرنے جا رہا ہے۔پولیس کے مطابق بیرون ملک موجود بھائی نے کراچی میں اپنے دوسرے بھائی کو بتایا جس نے اپنی اہلیہ کو فون کرکے تفصیل بتائی اور فوراً  اوپر کے فلور پر بھائی کے گھر پہنچنے کو کہا تاہم  خاتون کے پہنچنے تک فواد اپنی کارروائی مکمل کر چکا تھا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بچیاں اسکول سے واپس آ کر سو رہی تھیں ، جب سفاک باپ نے انہیں موت کے گھاٹ اتار ا۔ فواد کی اہلیہ کے جسم کے مختلف حصوں پر بھی زخم ہیں۔

ملزم کے بیان پر خاندان کو یقین کیوں نہیں؟
ملزم نے پولیس کو دیے گئے ابتدائی بیان میں کہا ہے کہ وہ مالی مشکلات کا شکار تھا اس نے کچھ انویسٹرز سے رقم بھی لے رکھی تھی جو پیسے کا تقاضا کر رہے تھے۔ ملزم کے مطابق وہ خلاف معمول دوپہر ڈیڑھ بجے گھر آیا ،کھانا کھانے کے بعد اس کی اپنی بیوی سے بحث ہوگئی جس پر مطالعے میں مصروف اس کی سولہ سالہ بیٹی نے کہا کہ آپ لوگوں کے جھگڑے میں پریشان کر دیتے ہیں ۔اس دوران اس کی دوسری دس سالہ بیٹی سو رہی تھی۔میاں بیوی کی بحث ختم نہیں ہوئی اور اس دوران اس کی اہلیہ واش روم میں گئی تو اس نے اپنی تینوں بیٹیوں کو گلے پر چھری پھیر کر قتل کردیا ۔پھر بیوی کو باہر بلا کر اس کے گلے پر بھی چھری پھیر دی۔ملزمان کے مطابق تہرے قتل کے بعد اس نے خودکشی کے ارادے سے اپنے گلے پر بھی چھری پھیر دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔

04494ba7 991a 435f 8de1 c1568581a521ملزم فواد کی اپنی اہلیہ اور دیگر فیملی ممبرز کے ساتھ تصویر

ملزم فواد کے مطابق رقم کا تقاضہ کرنے والے انویسٹرز کو اس نے مقتولین کی تصاویر بھیج کر پیغام دیا کہ وہ خود کو بھی مار رہا ہے۔
ادھر پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نے واردات سے پہلے بیرون ملک موجود اپنے بھائی کو ویڈیو کال کرکے بتایا کہ وہ اپنے بیوی بچوں کو قتل کرنے جا رہا ہے۔ بیرون ملک موجود بھائی نے اپنے اہل خانہ کو صورت حال سے آگاہ کیا جس پر نچلے فلور سے ملزم کی ایک بھابی اوپر پہنچی تو اس دوران وہ اپنی دونوں بیٹیاں اور بیوی کو قتل کر چکا تھا ۔
دوسری طرف ملزم کے خاندان کے لوگ اس کی سنائی گئی کہانی پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بظاہر کسی مالی پریشانی کے شکار نہیں تھا اور حال ہی میں اچھی کارکردگی پر کمپنی نے اسے گاڑی بھی دی تھی ۔ میاں بیوی کے 17 سالہ ازدواجی تعلقات بھی نہایت خوشگوار تھے جب کہ وہ اپنی تینوں بیٹیوں سے بہت پیار کرتا تھا۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم فواد عام طور پر شام کو دفتر سے گھر آتا تھا تاہم وقوعہ کے روز وہ خلاف معمول دوپہر ڈیڑھ بجے گھر آ گیا، عین ممکن ہے کہ کسی خاص واقعے کے زیر اثر اس نے یہ واردات کی ہو۔
خاندانی ذرائع کے مطابق ملزم سگریٹ پان چھالیہ سمیت کسی قسم کا نشہ بھی نہیں کرتا تھا۔ ادھر اسپتال میں لاشوں کا پوسٹ   مارٹم کر لیا گیا ہے جس میں مزاحمت کے کسی قسم کے نشانات نہیں پائے گئے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481