اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سانحہ ہرنو میں جاں بحق دلپذیر خان کو گلیات تاجوال میں سپرد خاک کردیا گیا

IMG 20221129 WA0060

کوہالہ (نوید اکرم عباسی )
سانحہ ہرنو میں جان بحق دلپذیر خان کو گلیات تاجوال میں سپرد خاک کردیا گیا۔ جب کہ ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز تھانہ ڈونگا گلی پولیس کی حراست میں دفعہ 107 کی ضمانتیں کروانے کے لیے جانے والوں پر مخالف پارٹی کا حملہ ہوا تھا۔ جس میں دلپذیر خان جاں بحق جب کہ نصیر ولد دلپذیر ، منیر ولد بلاول فائر لگنے سے اور الطاف ولد رحمت اللہ ، عاطف ولد اعظم اور امتیاز ولد سلیمان ڈنڈوں کے تشدد سے زخمی ہو گئے تھے۔
متاثرہ خاندان کی مبینہ اطلاع کے مطابق ملزمان میں  جمیل ولد نذیر ، کامران ولد بشیر ، جاوید ولد نذیر ، محرم ولد مطیع اللہ، نیاز ولد مطیع اللہ وغیرہ شامل تھے۔

واقعہ تھانہ بگنوتر کے سیاحتی مقام ہرنو میں پیش آیا۔ مقتول کے ورثاء کا الزام ہے کہ انچارج پولیس چوکی چھانگلہ گلی کی ملی بھگت اور غفلت سے حملہ کروایا گیا ۔ ضلع ایبٹ آباد کے گلیات میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے جس میں پولیس کی موجودگی میں پولیس کی تحویل میں کسی پر اس دیدہ دلیری سے سر عام سڑک پر حملہ کیا گیا ۔ اہل علاقہ کے لیے یہ امر نہایت تشویش ناک ہے اور یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب پولیس اپنی تحویل میں لیے گئے کسی شخص کی حفاظت نہیں کر سکتی تو وہ تھانے، چوکی میں بیٹھ کر دور دراز علاقوں کو کیا تحفظ فراہم کرے گی۔

گلیات کے گاؤں تاجوال، محلہ باڑیاں (تھانہ ڈونگا گلی، پولیس چوکی چھانگلہ گلی) کے دو فریقین میں معمولی گھریلو تنازعہ تھا۔ جھگڑے کے بعد ایک فریق کی ضمانتیں ہو چکی تھیں جب کہ مقتول دلپذیر خان اپنے عزیزوں کے ہمراہ پولیس کی حراست میں ضمانتوں کے لیے ایبٹ آباد عدالت جارہے تھے۔  ہرنو کے مقام پر اسلحہ سے لیس مجرموں نے پولیس کی تحویل میں موجود اشخاص پر حملہ کر دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مخبری کے بغیر مجرموں کو جائے وقوعہ کا علم کیسے ہو سکتا تھا؟ اگر کوئی شخص پولیس کی تحویل میں ہو تو اس کی حفاظت کیا پولیس کا فرض نہیں؟ اگر حملہ کے وقت پولیس نے ناشتہ کرنے کے بہانے حملہ آوروں کو کھلی چھٹی نہیں دی تو اس نے خاموش تماشائی کا کردار کیوں ادا کیا؟

پولیس تھانہ بگنوتر کے مطابق تھانہ بگنوتر کی حدود مری روڈ، عزیز آباد کے مقام پر فریقین کے درمیان لڑائی جھگڑے میں مخالف گروپ نے پولیس کی زیر تحویل اشخاص پر آتشیں اسلحہ اور ڈنڈوں سے حملہ کر دیا۔ جس سے دلپذیر ولد رحمت سکنہ تاجوال جاں بحق ہو گیا۔  انہیں دیگر زخمیوں سمیت فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے مزید بتایا کہ وقوعہ میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے زیر دفعات 302/324/341/34  پی پی سی مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

IMG 20221129 WA0061


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481