اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پولیس کی تحویل میں ملزمان پر مخالفین کی آزادانہ فائرنگ

Screenshot 20221128 150718 1

ایبٹ آباد (نوید اکرم عباسی )
تھانہ ڈونگا گلی پولیس کی حراست میں دفعہ 107 کی ضمانتیں کروانے کے لیے جانے والوں پر مخالف پارٹی کا حملہ۔  ایک شخص جاں بحق جب کہ 5 زخمی۔  واقعہ تھانہ بگنوتر کے سیاحتی مقام ہرنو میں پیش آیا۔

مقتول کے ورثاء کا الزام ہے کہ انچارج پولیس چوکی چھانگلہ گلی کی ملی بھگت اور غفلت سے ان کے بندوں پر عدالت جاتے ہوئے حملہ کروایا گیا۔ گلیات، ضلع ایبٹ آباد میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے جس میں پولیس کی موجودگی میں راستے میں کسی پر حملہ کیا گیا ہے۔

IMG 20221128 WA0162

اس سانحے پر علاقے کے عوام میں غم و غصہ کی شدید لہر دوڑ گئی۔  بڑی تعداد میں عوام نے اس کی مذمت کرتے ہوئے فوری شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا تاکہ قاتلوں کو قرار واقعی سزا کی راہ ہموار ہو ۔

تفصیلات کے مطابق گلیات کے گاوں تاجوال، محلہ باڑیاں، تھانہ ڈونگا گلی، پولیس چوکی چھانگلہ گلی میں معمولی گھریلو تنازعہ تھا۔ جس میں ایک پارٹی نے دفعہ 107 کی ضمانتیں کروائیں اور دوسری پارٹی کو کہا کہ وہ بھی ضمانتیں کروا لے۔ جاں بحق ہونے والے دلپذیر خان اپنے بیٹوں، بھائیوں اور بھانجوں کے ہمراہ پولیس کی حراست میں ایبٹ آباد عدالت جا رہے تھے کہ راستے میں ہرنو کے سیاحتی مقام پر مقتول کے بیٹے کے مطابق پولیس نے ناشتہ کے بہانے گاڑی روک دی۔ دوسری پارٹی کو پولیس نے پہلے ہی اطلاع دے رکھی تھی۔ قاتل فورا آگئے۔  ان میں جمیل، کامران، عمران، محرم، نیاز، شبیر، فیضان، مہتاب، بابر اور کچھ دیگر افراد شامل تھے۔ مجرموں نے آتے ہی فائرنگ شروع کر دی۔ جس سے دلپذیر خان موقع پر ہی جاں بحق جب کہ ان کے بیٹے منیر اور نصیر کے علاوہ دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔

پولیس کا موقف ہے کہ راستے میں اچانک مخالف پارٹی کے لوگ گاڑیوں پر سوار آئے اور جھگڑا ہوگیا۔ جس میں دونوں طرف سے لوگ زخمی ہوئے۔ پولیس نے اس بات کی تردید کی کہ ناشتہ اور چائے کے لیے گاڑی روکی گئی تھی۔

جب کہ لواحقین نے پولیس کے رویے پر اظہار تاسف کرتے ہوئے اپنے تحفظات بیان کیے۔ ان کا موقف تھا کہ اگر پولیس اپنا کردار ادا کرتی تو مقتول اس طرح جان سے نہ جاتا اور شدید زخمی افراد اپنا بچاؤ کرنے کی سعی کرتے۔ لیکن پولیس نے اپنی تحویل میں ہمارے پیاروں کو بے بسی کی موت مرنے کے لیے قاتلوں کے سامنے رکھ دیا۔  انھوں نے ارباب اختیار سے فوری انصاف کا مطالبہ کیا ورنہ شدید احتجاج ہوگا۔

پولیس کے تازہ ترین بیان کے مطابق حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481