اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پاکستان میں فی کس اوسطاً صرف 6 پیسے سالانہ کتاب کے لیے خرچ کیے جاتے ہیں

FB IMG 1669533593182

عہد جدید میں سائنسی ترقی کی وجہ سے ای بکس کو بہت پذیرائی ملی لیکن پھر مغربی دنیا کاغذی کتاب کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس جانب لوٹ آئی۔ اگرچہ وہاں سہولیات کے علاوہ مصروفیت زیادہ ہونے کی وجہ سے ای بکس کے ساتھ ساتھ آڈیو بکس بھی عام ہیں۔ لیکن کاغذ پر چھپی کتاب کی اپنی خوشبو ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے مطالعے میں ارتکاز اور یکسوئی زیادہ میسر آتے ہیں۔ نیز اس کے ذریعے مطالعہ کی ہوئی معلومات حافظے میں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ کاغذ کی کتاب کو پڑھنے کے لیے کسی مشین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے لیے بجلی کا ہونا بھی ضروری نہیں۔ اس کی بیٹری بھی چارج کرنے ضرورت نہیں پڑتی۔ اس لیے کاغذ پر چھپی کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔

 

معروف شاعر، ادیب اور ادبی رسالہ تسطیر کے مدیر جناب نصیر احمد ناصر نے پاکستان میں کتب بینی کے حوالے سے تشویش ناک صورت حال ہم تک پہنچائی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے۔۔۔

"2020ء کے ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں فی کس اوسطاً صرف 6 پیسے سالانہ کتاب کے لیے خرچ کیے جاتے ہیں۔”

ہم میں سے ہر کوئی مذکورہ بالا تلخ حقیقت کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر فیصلہ کر سکتا ہے کہ کتاب کلچر کی بقا اور فروغ کے لیے ہم نے کیا کردار ادا کیا ہے۔ ہمارے ہاں بک سٹور معدوم ہوتے جا رہے ہیں جب کہ فوڈ سٹریٹس اور ریستورانوں کی تعداد میں بدستور اضافہ ہو رہا ہے۔

 

جناب نصیر احمد ناصر اس عہد میں بھی "تسطیر” جیسا ضخیم ادبی رسالہ نکالتے ہیں۔ وہ کتاب کلچر کے فروغ کے لیے ہم سب کو درج ذیل مشورہ دیتے ہیں۔

"اس صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے کتابیں خرید کر پڑھیں اور دوستوں عزیزوں کو بھی دوسری قیمتی اشیا کی بجائے کتابیں خرید کر تحفہ میں دیں”


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481