عہد جدید میں سائنسی ترقی کی وجہ سے ای بکس کو بہت پذیرائی ملی لیکن پھر مغربی دنیا کاغذی کتاب کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس جانب لوٹ آئی۔ اگرچہ وہاں سہولیات کے علاوہ مصروفیت زیادہ ہونے کی وجہ سے ای بکس کے ساتھ ساتھ آڈیو بکس بھی عام ہیں۔ لیکن کاغذ پر چھپی کتاب کی اپنی خوشبو ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے مطالعے میں ارتکاز اور یکسوئی زیادہ میسر آتے ہیں۔ نیز اس کے ذریعے مطالعہ کی ہوئی معلومات حافظے میں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ کاغذ کی کتاب کو پڑھنے کے لیے کسی مشین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے لیے بجلی کا ہونا بھی ضروری نہیں۔ اس کی بیٹری بھی چارج کرنے ضرورت نہیں پڑتی۔ اس لیے کاغذ پر چھپی کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔
معروف شاعر، ادیب اور ادبی رسالہ تسطیر کے مدیر جناب نصیر احمد ناصر نے پاکستان میں کتب بینی کے حوالے سے تشویش ناک صورت حال ہم تک پہنچائی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے۔۔۔
"2020ء کے ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں فی کس اوسطاً صرف 6 پیسے سالانہ کتاب کے لیے خرچ کیے جاتے ہیں۔”
ہم میں سے ہر کوئی مذکورہ بالا تلخ حقیقت کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر فیصلہ کر سکتا ہے کہ کتاب کلچر کی بقا اور فروغ کے لیے ہم نے کیا کردار ادا کیا ہے۔ ہمارے ہاں بک سٹور معدوم ہوتے جا رہے ہیں جب کہ فوڈ سٹریٹس اور ریستورانوں کی تعداد میں بدستور اضافہ ہو رہا ہے۔
جناب نصیر احمد ناصر اس عہد میں بھی "تسطیر” جیسا ضخیم ادبی رسالہ نکالتے ہیں۔ وہ کتاب کلچر کے فروغ کے لیے ہم سب کو درج ذیل مشورہ دیتے ہیں۔
"اس صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے کتابیں خرید کر پڑھیں اور دوستوں عزیزوں کو بھی دوسری قیمتی اشیا کی بجائے کتابیں خرید کر تحفہ میں دیں”
