اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آج اردو کے معروف شاعر منور رانا کا جنم دن ہے

images 80

آپ رائے بریلی یو پی میں پیدا ہوئے۔ پاکستان بننے کے بعد آپ کے خاندان کے اکثر لوگ پاکستان آ گئے لیکن آپ کے والد نے ہندوستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ اور کلکتہ منتقل ہوگئے۔

منور رانا شاعری میں لیلی غزل کی زلفوں کے اسیر ہوئے۔ عہد حاضر میں ”ماں“ کے حوالے سے ایسے ایسے اشعار کہے کہ عالمی شہرت کے حامل ہوئے۔ وہ دنیا بھر میں اردو مشاعروں کی جان سمجھے جاتے ہیں۔

منور رانا کی شاعری ایک سنجیدہ، متین، سلجھے ہوئے متفکر تخلیق کار کے ذہن و دل کی آواز ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں نیم کے پھول، کہو ظل الہیٰ سے، بغیر نقشے کا مکان، سفید جنگلی کبوتر وغیرہ شامل ہیں۔ ہندوستان میں شاید ہی ایسا کوئی ایوارڈ ہو جو انھوں نے حاصل نہیں کیا۔

 

چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا
میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرشتے آ کر ان کے جسم پر خوشبو لگاتے ہیں
وہ بچے ریل کے ڈبوں میں جو جھاڑو لگاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارے شہر میں میت کو سب کاندھا نہیں دیتے
ہمارے گاؤں میں چھپر بھی سب مل کر اٹھاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دولت سے محبت تو نہیں تھی مجھے لیکن
بچوں نے کھلونوں کی طرف دیکھ لیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحرا پہ برا وقت مرے یار پڑا ہے
دیوانہ کئی روز سے بیمار پڑا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی کو گھر ملا ، حصے میں یا کوئی دکاں آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب بھی کشتی مری سیلاب میں آ جاتی ہے
ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
منور ماں کے آگے یوں کبھی کھل کر نہیں رونا
جہاں بنیاد ہو، اتنی نمی اچھی نہیں ہوتی
۔۔۔۔۔۔۔
یہ سوچ کے ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوں
اس پیڑ کا سایا مرے بچوں کو ملے گا
۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا
میں جب تک گھر نہ لوٹوں میری ماں سجدے میں رہتی ہے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481