اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آج میرے استاد سید سرور منیر بہت یاد آئے

IMG 20221125 WA0122

میں نے 1972ء میں ایف جی ٹیکنیکل ہائی سکول لال کڑتی سے میٹرک کا امتحان ٹیلنٹ سکالر شپ کے ساتھ پاس کیا۔ اس وقت ہمارے سکول کے پرنسپل ایف کیو ایچ انصاری تھے۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی تقرری ہوتے ہی آج مجھے اپنے سکول کے ریاضی کے استاد سید سرور منیر بہت یاد آئے۔ وہ سکول کے ایک ہر دل عزیز استاد تھے۔ بہت دین دار اور سلجھے ہوئے انسان۔ ہمہ وقت شیروانی زیب تن کیے رہتے۔ پرانی طرز کی ایک موٹر سائیکل ان کے پاس تھی۔ پنچگانہ نماز کے پابند اور اسلامی وضع قطع کے بزرگ تھے۔ پان کھاتے اور گاہے اردو کے ساتھ پنجابی بولتے تھے۔ ان کی چال ڈھال سے میں متاثر ہی نہیں مرعوب بھی تھا۔ کلاس میں گھن گرج کے ساتھ پڑھاتے اور ان کے ہاتھ میں گاہے مولا بخش بھی ہوا کرتا تھا۔ جس سے بچوں کی پٹائی کرنے کے بجائے انہیں ڈرانے دھمکانے کا کام لیتے تھے۔ انتہائی خلیق اور مہربان تھے۔ کلاس میں لگن سے پڑھاتے اور ہر سوال بلیک بورڈ پر لکھ کر ازبر کروا دیتے تھے۔ کلاس میں بھاگتے ہوئے آتے اور پڑھاتے ہوئے اپنی اور بچوں کی حس مزاح بیدار رکھتے۔ ان کے ہنس مکھ ہونے کے باوصف بچے ان سے بہت محبت کرتے اور احترام بجا لاتے تھے۔
سید سرور منیر کے بارے میں مشہور تھا کہ ان کا طالب علم کبھی ریاضی میں فیل نہ ہوا تھا۔ میری جسمانی معذوری کے باعث بہت مہربانی اور محبت کا سلوک روا رکھتے۔ کبھی برآمدے میں آمنا سامنا ہوتا تو حوصلہ بڑھاتے اور بہت پیار سے حال احوال پوچھتے۔ میں نے میٹرک کا امتحان اعزاز سے پاس کیا تو پھولے نہ سمائے۔میٹرک کے بعد جب میں ابھی کالج میں داخل نہیں ہوا تھا ایک روز مجھے لال کڑتی بازار میں مل گئے۔ احوال پرسی کے بعد گویا ہوئے کہ میرے منجھلے بیٹے سید قاسم منیر کو ریاضی کی ٹیوشن پڑھا دو۔ میں نے ہامی بھر لی تو روزانہ اسے میرے گھر لال کڑتی موٹر سائیکل پر چھوڑ جاتے اور لینے بھی خود آتے۔ قاسم نے اس دم تازہ تازہ قرآن حکیم حفظ کیا تھا۔ بہت لائق اور ہونہار تھا۔
سید سرور منیر مجھے باقاعدہ ہر ماہ قاسم کی ٹیوشن کی فیس بھی ادا کرتے رہے۔ کچھ عرصہ بعد مجھ پر عقدہ کھلا کہ وہ قاسم کی ٹیوشن کے بہانے میری مدد کرنا چاہتے تھے۔
آج سید سرور منیر کے بڑے بیٹے سید عاصم منیر کے آرمی چیف آف سٹاف مقرر ہونے پر میں خوشی اور مسرت سے نہال ہو گیا۔ اچھے درختوں کے پھل پھول اچھے ہوتے ہیں۔ ایسے میں اپنے استاد سید سرور منیر کی یاد آئی تو آنکھوں سے رم جھم ہونے لگی۔ ان کی شخصیت اور سراپا سامنے آ گیا۔ دل سے ان کی بلندیء درجات کی دعا نکلی اور یہ بھی کہ؛
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

تحریر۔ ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی

images 78


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481