اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

میرا دکھ!

images 72

میرا دکھ!

آج سارا دن انگریزی زبان کی گرامر کی وسعتوں کو ماپنے میں گزرا، اسی دوران دو ویب سائٹس کو بھی کھنگالا جس سے علم ہوا کہ یہ زبان خود گوروں کے نزدیک ایک چیستان اور معمے سے کم نہیں.
سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ اس زبان کو پاکستانیوں کے لئے ایک کوہ گراں بنا دیا گیا ہے اور تمام پاکستانیوں کو بتا دیا گیا ہے کہ علم اور رزق کے سب دروازے اس کوہ گراں کو سر کرنے کے بعد ہی وا ہو سکتے ہیں.
اب مسئلہ کیا ہے، ہمارے پاس ایک زبان ہے جس میں ہر قسم کا خیال بیان کرنے کی صلاحیت ہے۔ وہ اسی طرح ترقی یافتہ اور علم سے مالا مال ہے جس طرح دنیا کی کوئی بھی زبان ہو سکتی ہے۔ اس زبان کو تو ہم نے پس پشت ڈال دیا ہے اور انگریزی کو اپنے سر پر چڑھا لیا ہے. اب سیانوں کو جو بات سمجھ نہیں آتی وہ یہ ہے کہ انگریزوں کی تو وہ زبان ہے مگر ہمارے لیے یہ ایک اجنبی اور غیر ملکی زبان ہے.
جناب زبان کا علم سے کوئی تعلق نہیں ہے. اگر علم صرف ایک زبان کے ذریعے آتا تو آج چین، جاپان، فرانس، جرمنی، سپین اور دنیا کے سو سے زیادہ وہ ملک جو برطانیہ سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں اور جن کی زبان انگریزی نہیں ہے کہیں بھی نہ ہوتے۔ مگر وہ ہیں اور برطانیہ سے کہیں زیادہ ہیں.
علم کا تعلق ہے لگن، شوق، جذبے، اور پھر ان وسائل سے جو علم کے حصول کے لئے ضروری ہیں. ان سب میں زبان کہیں نہیں آتی کہ یہ بات سب کے علم میں ہے کہ جو ملک ہوگا اسی کی زبان میں علم دیا جائے گا.
اس میں وہ کون سی بات ہے جو اس ملک کے ارباب بست و کشاد کی سمجھ سے بالا تر ہے.

پروفیسر محمد سلیم ہاشمی

images 74


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481