اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ایک خوش فہمی کے گرداب میں کھوئے ہوئے لوگ

c75c90ff cc5d 49b6 8a2d 8e48f248ef22

وطن عزیز کے بارے میں ایک  چلا ہوا جملہ ہے’’ پاکستان جیسا امیر ملک کوئی نہیں ہر ایک اسے نوچ رہا ہے لیکن یہ پھر بھی کھڑا ہے‘‘۔  خوش فہمی کے بجائے  معاملہ فہمی کا مظاہرہ کیا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ یہ ملک کھڑا تو ہے لیکن اس عصائے  سلمانی کے سہارے کہ جسے  زمین کی دیمک  لحظہ بہ لحظہ کھائے جا رہی ہے اور ’’ ہمارے منہ میں خاک ‘‘ کچھ  خبر نہیں کب  یہ جثہ زمیں بوس ہو جائے ۔

کہا جاتا  ہے کہ ترکی ہمارا بھائی ہے۔ ہمیں اس بھائی چارے  پر کوئی اعتراض نہیں  بلکہ خوشی ہے۔ لیکن  ہماری ایک بہن ’’ سلطنت عثمانیہ ‘‘ بھی تو ہوا کرتی تھی جو کہ نہیں رہی۔  یونان، البانیہ، سربیا، بوسنیا، یوگو سلاویہ، یوکرین، سعودی عرب،  مصر، شام،  اردن ، فلسطین، ہنگری، اٹلی ، رومانیہ، لیبیا، مراکش اور سوڈان سمیت کتنے ہی ملک ’’ہماری اس مرحومہ بہن ‘‘ نے اپنے بطن میں سمیٹے ہوئے تھے کہ جنھیں جنم دے کر یہ  خود فنا کے گھاٹ اتر گئی ۔

سلطان عبد العزیز عثمانی وہ پہلے عثمانی خلیفہ تھے  جو جہاد  کے بجائے خیر سگالی اور ڈپلومیسی کے   دورہ یورپ پر روانہ ہوئے۔ ورنہ ان کے اجداد لشکروں  کے سالار بن کر یورپ میں داخل ہوا کرتے تھے۔ برطانیہ فرانس،  آسڑیا وغیرہ  کے اس طویل دورے (۲۴ جون ۱۸۶۷  تا ۷ اگست ۱۸۶۷ء) میں سلطان کے بھتیجے اور مستقبل کے خلیفہ، سلطان عبدالحمید اور سلطنت کے صدرالاعظم  فواد پاشا بھی ہمراہ تھے۔ کسی اخبار نویس نے عثمانی صدرالاعظم سے پوچھا کہ دنیا کا طاقتور ترین ملک کون سا ہے تو انھوں نے وہی ’’پاکستانی‘‘  جواب دیا کہ ’’ اس وقت  دنیا کا طاقت ور ترین ملک سلطنت عثمانیہ ہے۔ اس لیے کہ تم لوگ  باہر سے اسے گرانے کے درپے ہو اور ہم اندر سے اسے کھوکھلا کرنے کی کوشش میں لگے ہیں لیکن ہم دونوں مل کر بھی اسے ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے‘‘(الدولة العُثمانية -عَلي محمد الصَّلاَّبی) صدرالاعظم کی یہ خوش فہمی  عارضی ثابت ہوئی۔ اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی کوششیں رنگ لائیں۔ اس فرمان عالی کے صدور کو تقریباً پچاس ہی برس گزرے تھے کہ جنگ عظیم اول کے بعد روئے ارضی پر سلطنت عثمانیہ نام کی کوئی بادشاہی  موجود نہ تھی۔

جس خوش فہمی میں وہ ’’ترک ناداں‘‘ گرفتار تھا اسی میں ہم پاکستانی مبتلا ہیں۔ معاشی کسمپرسی اور سیاسی عدم استحکام اور قومی یکجہتی کا فقدان  ہمیں مار چکا ہے۔ بس ایک لاٹھی، اور وہ بھی دیمک خوردہ لاٹھی کے سہارے کھڑے ہیں  :

ستون  اپنے شکوہ  رفتہ میں گم کھڑا ہے
جب اک ذرا  انہماک ٹوٹے  گا، تب کرے گا

خان کو گولی ٹانگ میں لگی، سینے پر لگتی تو کیا ’’انہماک‘‘ ٹوٹ جاتا۔ حکمران نئی جیل بستیاں بنانے میں مصروف ہیں اور اپوزیشن لیڈران، مرکز کو بندوق دکھانے میں  لگے ہیں۔ صوبے، مرکز کے منہ کو آ رہے ہیں  اور سیاسیان، افواج کو ٹھینگا دکھا رہے ہیں نیز ادارے اداروں سے ٹکرا رہے ہیں۔ ایسے میں کوئی دھماکہ ہماری قومی عمارت کو دھڑام سے گرا سکتا ہے۔ لیکن ایک ہم ہیں کہ بالکل شانت و مطمئن کہ یہ ملک رہنے کے لیے بنا ہے، یہ باقی رہنے کو بنا ہے۔ دعا ہماری بھی یہی ہے لیکن دعا الگ شے ہے اور (حقائق اور) خدشات الگ شےلیکن ہم لوگ ہیں کہ خوش فہمیوں سے نکلنے کے لیے تیار ہی نہیں :

ایک خوش فہمی کے گرداب میں کھوئے ہوئے لوگ
آنکھ کھلنے پہ بھی ہیں خواب میں کھوئے ہوئے لوگ

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481