اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

صدر نے سمری روکی تو حکومت کیا کرے گی ؟ جنرل عاصم کی ریٹائرمنٹ روک لی گئی

0fd5a69b 8ae7 4b31 b304 cadb0fd97911

آرمی چیف کی تقرری سے متعلق سمری صدر مملکت کی جانب سے روکے جانے کی صورت میں حکومت نے متبادل حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے صدر کو بھیجی گئی سمری موصول ہوچکی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ وہ دستخط کرکے سمری واپس بھیج دیں گے۔ تاہم اگر کسی طے شدہ منصوبے کے تحت سمری کی منظوری میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے اور یہ زیادہ تاخیر کا شکار ہوتی ہے ہے حکومت نے اس کے لیے متبادل پلان تیار کرلیا ہے جس کے تحت حکومت سیکرٹری کابینہ سے روزہ بزنس میں ترمیم کا نوٹیفیکیشن جاری کرائے گی اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف اور آرمی چیف کے تقرر کی سفارش کو فہرست سے نکال دیا جائے گا۔
سیکرٹری کابینہ کے اس اقدام کے بعد وزیراعظم آفس صدر کو بھیجی گئی سمری واپس لے لے گا اور وزیر اعظم اپنی ایگزیکٹو اتھارٹی کو استعمال کرتے ہوئے دونوں تقرریوں کی منظوری خود دے دیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ اجلاس میں رولز آف بزنس 1783 کے رول 15 اے میں ترمیم کی منظوری لی جا سکتی ہے۔

جنرل عاصم منیر کی ریٹائرمنٹ روک لی گئی، حکومت کا اہم اقدام

حکومت نے ایک اہم اور بڑا فیصلہ کرتے ہوئے نامزد آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ریٹائرمنٹ روک لی ہے یعنی قانونی زبان میں انہیں retain کر لیا گیا ہے ۔ اس طرح جنرل عاصم منیر 27 نومبر کو اپنی ریٹائرمنٹ کے دن کے بعد بھی ریٹائر نہیں ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے  سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کابینہ کو اعتماد میں لے لیا ہے ۔ اقدام کا مقصد آرمی چیف کے تقرر کی سمری کی منظوری کی راہ میں حائل ممکنہ رکاوٹ دور کرنا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ  پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کسی بھی فوجی  افسر کی  ریٹائرمنٹ کا جب وقتآنے پر وزارت دفاع میں ایک پرمیشن کی درخواست آتی ہے ،ذرائع کے مطابق اسی طریقہ کارکے تحت جنرل عاصم منیر نے بھی وزارت دفاع میں ریٹائرمنٹ کی پرمیشن کی درخواست دی جسے وزارت دفاع نے مسترد کردیا اور انہیں ری ٹین کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

پاکستان آرمی ایکٹ میں یہ قانون موجود ہےکہ کسی بھی افسر کو  ضرورت پڑنے پر اسی طرح ری ٹین کیاجاسکتا ہے، اسی لیے وزارت دفاع نے حفاظتی انتظامات کے تحت لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کی ری ٹین کی سمری بنائی اور کابینہ سے اس کی باقاعدہ منظوری لی تاکہ صدر کی جانب سے سمری روکے جانے کی صورت میں عاصم منیر 27 نومبر کو ریٹائر نہیں ہوں گے اور یہ عمل قانونی طور پراحسن طریقے سے انجام دیا جاسکے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481