اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آج خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر کی سالگرہ ہے

262px Parveen Shakir

اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

پروین شاکر 24 نومبر 1952ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد سید ثاقب حسین خود بھی شاعر تھے اور شاکر تخلص کرتے تھے۔

پروین شاکر نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے انگریزی کے علاوہ لسانیات میں بھی ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے ’’جنگ میں ذرائع ابلاغ کا کردار‘‘ پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کیا۔ بعد میں ہارورڈ یونیورسٹی سے بینک ایڈمنسٹریشن میں ایم۔اے کیا۔ پروین شعبہ تدریس سے منسلک رہیں۔ پھر سی ایس ایس کرنے کے بعد محکمہ کسٹمز میں کلکٹر ہو گئیں۔ بعد ازاں ترقی کرتے ہوئے پرنسپل سیکریٹری اور دیگر اعلی عہدوں پر بھی خدمات سر انجام دیں۔

پروین شاکر کی شاعری میں انسانی رویوں، معاشرتی مسائل اور نسائی جذبات و احساسات کا اظہار فنکارانہ مہارت سے کیا گیا ہے۔

پروین شاکر اپنے عہد کے ترقی پسند شعراء سے متاثر ضرور ہوئیں لیکن انھوں نے اپنا انداز منفرد رکھا۔ شروع میں احمد ندیم قاسمی سے شاعری میں اصلاح لیتی رہیں۔

دسمبر 1994ء کو اسلام آباد میں ایک سڑک حادثہ موت کا سبب بنا۔

ان کے شعری مجموعے “ خوشبو “ کو آدم جی ایواڈ سے نوازا گیا ۔ بعد ازاں انہیں پرائڈ آف پرفارمنس بھی ملا ۔

ان کے شعری مجموعوں میں خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور کلیات "ماہِ تمام” شامل ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔

ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی
اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کر دیا

میرے لبوں پہ مہر تھی ، پر شیشہ رو نے تو
شہر کے شہر کو مرا واقفِ حال کر دیا

چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آسکے
وقت نے کس شبیہہ کو خواب و خیال کر دیا

مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا
منصب دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کر دیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پسپا ہوئے
ان ہی لوگوں کو مقابل میں صرف آرا دیکھنا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زندگی جتنی بھی ہے اب مستقل صحرا میں ہے
اور اس صحرا میں تیرا دور تک سایہ نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلگ رہا ہے میرا شہر ، جل رہی ہے ہوا
یہ کیسی آگ ہے جس میں پگھل رہی ہے ہوا

یہ کون باغ میں خنجر بدست پھرتا ہے
یہ کس کے خوف سے چہرہ بدل رہی ہے ہوا

شریک ہو گئی سازش میں کس کے کہنے پر
یہ کس کے قتل پہ اب ہاتھ مل رہی ہے ہوا

پرندے سہمے ہوئے ہیں درخت خوف زدہ
یہ کس ارادے سے گھر سے نکل رہی ہے ہوا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ﮐُﮭﻠﮯ ﮔﯽ ﺍﺱ ﻧﻈﺮ ﭘﮧ ﭼﺸﻢِ ﺗﺮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ
ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ

ﮐﻮﺋﯽ ﺯﻧﺠﯿﺮ ﭘﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﻭﮨﯿﮟ ﭘﺮ ﻟﮯ ﮐﮯ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ
ﮐﭩﮭﻦ ﮨﻮ ﺭﺍﮦ ﺗﻮ ﭼُﮭﭩﺘﺎ ﮨﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ

ﺑﺪﻝ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ ﺭﺳﺘﮧ، ﯾﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﺗﮭﮑﺘﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮨﻢ ﺳﻔﺮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ

ﺧﻠﺶ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻧﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﮞ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﮯ
ﮐﮭﻨﭽﮯ ﺗﯿﺮ ﺷﻨﺎﺳﺎﺋﯽ ﻣﮕﺮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ

ﮨﻮﺍ ﺳﮯ ﺳﺮﮐﺸﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺯﯾﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﺎ
ﺳﻮ ﺟُﮭﮑﺘﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﺏ ﯾﮧ ﺳﺮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے

شہر کی چابیاں اعداء کے حوالے کر کے
تحفتا پھر انھیں مقتول سپاہی دیں گے

images 66

images 70


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481