اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان۔۔۔۔ مختصر تعارف

IMG 20221119 WA0125

تفہیم و فروغ دین کے حوالے سے مدارس دینیہ کا کردار ہمیشہ کلیدی رہا ہے۔ موجودہ دور میں ہر شعبہ علم میں سائنسی بنیادوں پر کام ہوا ہے اور یوں علوم میں جامعیت و تخصص اور طریقہ کار میں تنظیم کا پہلو عام ہوا۔ ماضی قریب تک مدارسِ دینیہ کے طلباء منتشر حالت میں تھے۔  اقامت دین کے حقیقی مقاصد اور نصب العین کی آگاہی کم تھی۔ کوئی ایسی تنظیم نہیں تھی جو تمام دینی درسگاہوں کے طلباء کو اپنے مکتبہ فکر اور نکتہ نظر پر رہتے ہوئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتی ۔ فرقہ واریت اور مناظرے بازی کی وجہ سے مختلف مکاتب فکر علماء ایک دوسرے کے خلاف اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو ضائع کر رہے تھے۔ جس کا اثر مدارس سے فارغ التحصیل طلبا پر ہونا قدرتی امر تھا ۔یوں فروعی مسائل گھمبیر تر ہونے کے ساتھ ساتھ امت بھی دینی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر رہی تھی بلکہ بد قسمتی سے اب بھی گزر رہی ہے۔  دینی مدارس میں تحقیق، وسعت فکر و نظر اور تحمل و رواداری مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ نتیجتا اقامت صلات جو اتحاد مسلمین کا مظہر ہے اس کی ادائیگی کے لیے اپنی اپنی مساجد، اور الگ الگ مکتبہ فکر کے خطیب و امام متعین ہونے لگے۔

انھی حالات کی سنگینیوں کو دینی مدارس اور درسگاہوں کے طلبا نے شدت کے ساتھ محسوس کیا۔ انھوں نے فروعی اختلافات ، مسلکی تعصبات ، لسانیت اور نفرتوں کے بتوں کو توڑ کر نوجوانوں کو ” انما المؤمنون اخوۃ ” کا پیکر بنانے کا تہیہ کیا۔  فرقہ واریت کی بیخ کنی کی راہ ہموار کرنے اور امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک تنظیم کے قیام کی کوششیں تیز کر دیں۔  قبل ازاں 1962ء میں مدرسہ عالیہ مشرقی پاکستان ( موجودہ بنگلہ دیش ) میں جمعیت طلبہ عربیہ نام کی ایک تنظیم قائم ہوئی تھی۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد اس مدرسے کے ایک طالب علم اور جمعیت طلبہ عربیہ کے کارکن قاری ابوطیب پاکستان آ گئے۔

محترم قاری ابوطیب نے اکتوبر 1974ء میں پشاور کی ایک مسجد میں اسلامی ذہنیت کے حامل سکولوں، کالجوں اور دینی مدارس کے طلبا کا ایک اجلاس منعقد کیا۔  اس اجلاس میں مدارسِ دینیہ کے طلبا کو ایک لڑی میں پرونے کے لیے ایک تنظیم کے قیام پر تبادلہ خیال ہوا۔
جنوری 1975 میں لاہور میں دینی مدارس اور درسگاہوں کے طلباء کا اجلاس منعقد ہوا۔  جس میں باہمی مشاورت سے 13 جنوری 1975 بمطابق 10 محرم الحرام 1395ھ کو جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا۔

آج الحمد للّہ یہ پودا ایک تناور درخت بن چکا ہے اور بلاشبہ لاکھوں طلبا کو تفہیم دین کے ساتھ ساتھ اقامت دین کی جدوجہد کے لیے ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے میں اہم کردار ادا رہا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481