کے پی حکومت کی طرف سے صوبے میں بلدیاتی الیکشن ہوئے آٹھ ماہ کاعرصہ گزرنے کے باوجود بلدیاتی سسٹم کوغیرفعال رکھنے، اور ترقیاتی فنڈ جاری نہ کرنےپر مانسہرہ کے بلدیاتی نمائندوں نے پیر کو احتجاجی مظاہرہ کیا، ڈی سی آفس تک ریلی نکالی گئی۔ 24 نومبر کوپشاور صوبائی اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنے کااعلان کر دیا گیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان اور الیکشن کمیشن سے ازخودنوٹس لینے کامطالبہ۔
تحصیل مانسہرہ کے بلدیاتی نمائندوں نے صوبائی حکومت کی طرف سے تحصیل کونسلز۔ویلج ونیبرہوڈ کونسلز کو ترقیاتی فنڈ کی عدم فراہمی پر مانسہرہ میں احتجاج کیا۔ پریس کلب ہال مانسہرہ میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے تحصیل چئیر مین مانسہرہ شیخ محمدشفیع تحصیل چئیرمین بالاکوٹ ایمی شاہ ۔تحصیل چیئرمین بفہ پکھل سردارشاہ خان۔ تحصیل کونسل ممبران نادرخان ۔بشارت علی ۔اسرار احمدعدنان کھٹانہ یاسرخورشید اور دیگر نے کہاکہ صوبائی حکومت نے بلدیاتی انتخابات کو آٹھ ماہ سے زائد کاعرصہ گزرنے کے باوجود بلدیاتی سسٹم کوغیر فعال رکھاہواہے۔ بلدیاتی اداروں کے لیئے مختص فنڈ جاری نہیں کئے گئے یہاں تک کہ تحصیل سطح پرپریذائیڈنگ آفیسر کے انتخابات تک نہیں کرائے گئے جس سے تحصیل کونسلوں کے ابھی تک اجلاس تک منعقد نہیں ہوسکے اورنہ ہی تحصیل کومتعلقہ محکمے منتقل کرکے بجٹ کے اختیار دئیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کوفنڈ نہ ملنے سے عوامی مسائل حل نہیں ہورہے۔جس سےبلدیاتی ادارے بھی غیرفعال ہیں ہم بلدیاتی نمائندوں اور عوام کے حقوق کے لیئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گئے ۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جمعرات کے روز پشاور میں صوبائی اسمبلی کے سامنے صوبہ بھر کے نمائندے احتجاجی دھرنابھی دیں گئے۔اس موقع پر متفقہ طور پرقرارداد کی بھی منظوری دی گئی مطالبہ کیاگیا کہ بلدیاتی اداروں کوفوری طور پرفعال کرکے فنڈز جاری کئیے جائیں ۔ویلج نیبرہوڈکونسلز کی سطح پرچئیرمینز کے چیک دستخط کوبحال کیاجائے۔احتجاجی مظاہرین نے ڈی سی آفس تک ریلی بھی نکالی اور ڈپٹی کمشنر مانسہرہ کوپاس شدہ قرارداد پیش کی۔
