اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ایک ہی موضوع پر بیدل اور غالب کے دو اشعار کا تقابل

square 1669013677510

بیدل نے کہا تھا۔۔۔

در آں مقام کہ عرضِ جلالِ معبود است
غبارِ نیستیِ ماست آنچہ موجود است

اُس مقام پر کہ جہاں خدا کا جلال ظہور پذیر ہو رہا ہے، وہاں جو کچھ موجود ہے وہ ہمارے عدم وجود کا غبار ہے۔  یعنی اب جب کہ ہم موجود ہیں تو ہم خدا سے دور ہیں لیکن جب ہم موجود نہیں تھے تو ہماری عدم موجودگی کی وجہ سے ہم ہر اس مقام پر تھے جہاں خدا کا جلال ظہور پذیر ہو رہا ہے (یعنی ہر جگہ)

جب کہ غالب نے کہا تھا
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

غالب کے اس شعر میں یہ کہا گیا ہے کہ سوچیے، اگر میں نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔  چونکہ کچھ بھی موجود نہ ہونے کی صورت میں بھی خدا موجود تھا۔ اس لیے اگر میں نہ ہوتا تو میں خدا ہوتا۔ اکثر نقاد اس شعر کو غالب کے بہت بڑے اشعار میں شامل کرتے ہیں اور ہونا بھی یہی چاہیے۔ کیونکہ یہ بہت بڑا فلسفیانہ تصور ہے۔ لیکن اگر اس شعر کو بیدل کے شعر کے مقابلے میں دیکھیں تو غالب کا شعر بچگانہ معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کی منطق سیدھی سادی ہے اور دوسرے مصرعے کا بیان قدرے سطحی ہے۔ اس کے برعکس بیدل کے دوسرے مصرعے کو دیکھ کر انسان عش عش کر اٹھتا ہے۔ اپنی عدم موجودگی کو غبار کہنا اور پھر اس غبار کو موجود کہنا کس قدر بلند بیان ہے۔  بیدل نے اس بیان کی کوئی دلیل نہیں دی بلکہ اسے ایک فیکٹ کے طور پر بیان کیا ہے یعنی اسے نہ تو خود اس بیان میں کوئی شک ہے اور نہ ہی اسے اس بیان کو کسی دلیل سے درست ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بیان self evident ہے۔

بیدل کے بیان کو ماڈرن کاسمالوجی کے تناظر میں دیکھیے تو بگ بینگ سے صرف قابل مشاہدہ کائنات ہی پیدا نہیں ہوئی بلکہ ‘ہر’ کائنات پیدا ہوئی اور نئی کائناتیں مسلسل پیدا ہو رہی ہیں۔ یہ تمام خدا کے جلال کا ظہور ہے۔ اگر ہم ‘ہم’ نہ ہوتے تو ہمارا وجود (غبار) اس ملٹی ورس میں ہر جگہ ہوتا۔ اپنے عدم وجود کو غبار کہنا اس انرجی کی طرف اشارہ ہے جو بگ بینگ کے ‘وقت’ ‘ہر جگہ’ موجود تھی۔

(قابل توجہ بات یہ ہے کہ) بیدل کا یہ شعر سترہویں صدی میں کہا گیا جب کم از کم برصغیر میں نیوٹونین فزکس کا تصور بھی نہیں پہنچا تھا۔ اور ماڈرن کاسمالوجی کی ایجاد میں ابھی تین صدیاں باقی تھیں۔ سترہویں صدی کی برصغیر میں مروج سوچ اور پیراڈائم کے تناظر میں ایسا شعر کہنا، اس قدر پیچیدہ اور فلسفیانہ خیال کو اس صفائی اور اختصار سے کہنا اور پھر بحر کی پابندی میں کہنا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔
(قدیر قریشی)


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481