Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کوہالہ پل سے کودنے والا کامران حیدر  کون تھا؟ تفصیل سامنے آ گئی

d64ac966 8a2a 4a70 aa9d 7a0702c0b489

گزشتہ روز کوہالہ پل سے دریائے جہلم میں کود کر مبینہ طور پہ خود کشی کرنے والے  سید کامران حیدر  کا تعلق سوہاوہ چڑالہ سے تھا. لیکن گزشتہ چند برسوں  سے وہ آزاد کشمیر کے علاقے کیاٹ، غازی آباد میں رہائش پذیر تھے۔

خاندانی ذرائع سے ملنے والی تفصیل کے مطابق کامران حیدر دو کمسن بچیوں کے باپ تھے اور غازی آباد ہائی سکول میں بطور استاد خدمات سر انجام دے رہے تھے ۔مقامی لوگوں کے ساتھ ان کے بہترین تعلقات تھے اور وہ ان کے دکھ سکھ میں شریک رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگوں اور اہل محلہ کو اس المناک حادثے پر شدید دکھ اور پریشانی کا سامنا ہے۔ کامران حیدر کی گمشدگی پر ان کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اشتہار بھی چلایا گیا ہے۔
کامران کے اہل خانہ کے مطابق ایک بار پہلے بھی وہ دریائے جہلم میں خود کشی کی کوشش کر چکے ہیں مگر بہ قول ان کی اہلیہ کے وہ اپنی بچیوں کی خاطر ایسا نہ کر سکے اور گھر واپس آ گئے۔
ان کے والد اور بھائی ان کی تلاش میں  مسلسل دریائے جہلم کے کنارے چلتے دیکھے گئے ہیں۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ایک بہترین تیراک ہیں اس لیے عین ممکن ہے کہ وہ دریا میں چھلانگ لگانے کے بعد تیر کر کنارے لگ گئے ہوں۔ وائرل ہونے والی وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ آخری لمحات تک تیرتے ہوئے پانی کے بہاؤ کی سمت جا رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اہل خانہ کو کامران حیدر کی زندہ واپسی کی قوی امید ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481