گزشتہ روز کوہالہ پل سے دریائے جہلم میں کود کر مبینہ طور پہ خود کشی کرنے والے سید کامران حیدر کا تعلق سوہاوہ چڑالہ سے تھا. لیکن گزشتہ چند برسوں سے وہ آزاد کشمیر کے علاقے کیاٹ، غازی آباد میں رہائش پذیر تھے۔
خاندانی ذرائع سے ملنے والی تفصیل کے مطابق کامران حیدر دو کمسن بچیوں کے باپ تھے اور غازی آباد ہائی سکول میں بطور استاد خدمات سر انجام دے رہے تھے ۔مقامی لوگوں کے ساتھ ان کے بہترین تعلقات تھے اور وہ ان کے دکھ سکھ میں شریک رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگوں اور اہل محلہ کو اس المناک حادثے پر شدید دکھ اور پریشانی کا سامنا ہے۔ کامران حیدر کی گمشدگی پر ان کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اشتہار بھی چلایا گیا ہے۔
کامران کے اہل خانہ کے مطابق ایک بار پہلے بھی وہ دریائے جہلم میں خود کشی کی کوشش کر چکے ہیں مگر بہ قول ان کی اہلیہ کے وہ اپنی بچیوں کی خاطر ایسا نہ کر سکے اور گھر واپس آ گئے۔
ان کے والد اور بھائی ان کی تلاش میں مسلسل دریائے جہلم کے کنارے چلتے دیکھے گئے ہیں۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ایک بہترین تیراک ہیں اس لیے عین ممکن ہے کہ وہ دریا میں چھلانگ لگانے کے بعد تیر کر کنارے لگ گئے ہوں۔ وائرل ہونے والی وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ آخری لمحات تک تیرتے ہوئے پانی کے بہاؤ کی سمت جا رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اہل خانہ کو کامران حیدر کی زندہ واپسی کی قوی امید ہے۔
