اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

نواز شریف پر سنگین الزامات لگانے والا قتل کا مفرور ملزم نکلا

4c74b720 02ff 425f b2df 7f771b6bfb5e

سابق وزیراعظم  اور مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف پر صحافی ارشد شریف کے قتل  کی منصوبہ بندی کا الزام لگانے والا تسنیم حیدر خود قتل کیس کا مفرور ملزم نکلا۔

پولیس ذرائع سے حاصل کردہ دستاویز کے مطابق ملزم 15 مئی 2004 کو تھانہ صدرگجرات میں درج ہونے والے  قتل کیس کی تفتیش کاملزم ہے۔ذرائع کے مطابق قتل کے مذکورہ ہولناک  واقعے میں تقریباً 17 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔پنجاب پولیس کے ذرائع کے مطابق تسنیم حیدر شاہ قتل کیس کی تفتیش کے دوران ملزم نامزدہوا۔ ملزم تسنیم حیدر کا تعلق ضلع گجرات کے علاقے مدینہ سیداں سے بتایا جاتا ہے۔

تسنیم حیدر نے کیا الزامات لگائے ؟ 

لندن میں مسلم لیگ نون کا ترجمان ہونےکا دعوٰی کرنے والے  تسنیم حیدر شاہ نے  اتوار کے روز سابق وزیر اعظم نواز شریف پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل کی سازش لندن میں نواز شریف کی موجودگی میں تیار ہوئی۔ تحریک انصاف کے سربراہ پر وزیر آباد میں حملے کے لیے اسے شوٹر فراہم کرنے کو کہا گیا تھا۔ تاہم  اس نے معذرت کر لی تھی۔ جس کے بعد نواز لیگ کے ناصر بٹ کو یہ کام سونپا گیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں تسنیم حیدر نے دعوی کیا تھا کہ وہ گزشتہ 20 برس سے نواز لیگ کے ساتھ منسلک ہے۔  جب کہ پانچ سال سے لندن میں پارٹی کا ترجمان ہے۔ تسنیم شاہ کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف کے ساتھ حسن نواز کے دفتر میں ان کی ملاقات ہوئی۔ اس کا کہنا ہے کہ مجھے میٹنگ کے لیے بلا کر کہا گیا کہ ارشد شریف اور عمران خان کو قتل کرنا ہے اور یہ کام آرمی چیف کے تقرر سے پہلے ہونا چاہیے۔ اس سوال پر کہ اس کام کے لیے آپ کا انتخاب ہی کیوں کیا گیا؟  تسنیم حیدر کے مطابق ناصر بٹ نے نواز شریف سے اس کا تعارف اس طرح کرایا تھا کہ وہ گجرات کا تگڑا  آدمی ہے اور اس قسم کی واردات کے لیے شوٹر فراہم کر سکتا ہے۔ تسنیم کا کہنا ہے کہ اس پر نواز شریف نے اسے کہا کہ شوٹر وہ مہیا کرے، وزیرآباد میں جگہ ن لیگ والے دیں گے اور الزام پنجاب حکومت پر آئے گا۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بعد میں اسے بتایا گیا کہ شوٹرز کا انتظام کر لیا گیا ہے۔
جب میڈیا نے تسنیم حیدر سے الزامات کے حوالے سے ثبوت مانگے تو اس کا جواب تسلی بخش نہیں تھا اور اس کا کہنا تھا کہ اس کے پاس تصاویر موجود ہیں تاہم وہ بعد میں فراہم کرے گا۔

تسنیم حیدر کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں، نواز لیگ کا شدید ردعمل

نواز لیگ نے سنگین الزام لگانے والے تسنیم حیدرشاہ کو پارٹی ترجمان یا عہدیدار ماننے سے انکار کرتے ہوئے مذکورہ شخص کے الزامات کو  لغو قرار دے دیا اور انھیں مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ تسنیم حیدر نامی شخص مسلم لیگ ن لندن کا ترجمان نہیں ہے اور نہ ہی اس کا جماعت سے کوئی تعلق ہے۔

ایک بیان میں مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ تسنیم حیدر کے پاس  اگر کوئی ثبوت ہیں تو جے آئی ٹی کے قانونی فورم پر پیش کرے۔ من گھڑت خبروں سے ارشد شریف کے اصل قاتلوں سے توجہ ہٹائی نہیں جاسکتی۔ مسلم لیگ ن برطانیہ کے صدر زبیر گل نے بھی ایک بیان میں کہا ہےکہ تسنیم حیدر مسلم لیگ ن کے ترجمان ہرگز نہیں۔  تسنیم حیدر کے الزامات پر انھیں برطانوی عدالت لے کر جائیں گے۔

زبیر گل کا کہنا تھا کہ یہ ڈرامہ ارشد شریف کے اصل قاتلوں سے توجہ ہٹانے کے لیے رچایا گیا ہے۔ تسنیم حیدر کے ساتھ بیٹھے دونوں افراد تحریک انصاف کے لیڈر ہیں جو لندن میں نواز شریف کے گھر کے باہر مظاہرے کراتے ہیں۔ زبیر گل کا کہنا ہے کہ یہ شخص نہ تو پارٹی کا ترجمان ہے اور نہ ہی ذمہ دار یا کارکن ۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ سوشل میڈیا پر زیر گردش تصویروں میں مذکورہ شخص کی نواز شریف سے ہاتھ ملاتے ہوئے تصاویر موجود ہیں۔ جس کے حوالے سے زبیر گل کا کہنا ہے کہ یہ شخص لندن میں پارٹی آفس کے باہر آتا رہتا ہے۔ جہاں دیگر کارکنوں کے ساتھ اس نے بھی نواز شریف کے ساتھ تصویر بنوا لی ہوگی۔
ادھر مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے پولیٹیکل سیکریٹری ذیشان ملک نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ شخص ترجمان تو دور کی بات، اس نے اسے پہلی بار دیکھا ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے تسنیم حیدر کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شخص شریف فیملی کا خاص آدمی ہے ، اس کے الزامات کی تحقیقات ضروری ہے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481