ﺍحمد شاہ، احمد ندیم قاسمی گاؤں انگہ، ضلع خوشاب میں 20 نومبر 1916 کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم انگہ میں ہی حاصل کی۔ والد کی وفات کے بعد چچا کے پاس کیمل پور چلے گئے۔ گورنمنٹ ہائی سکول شیخوپوری سے میٹرک جب کہ صادق ایجرٹن کالج سے گریجویشن پاس کیا۔
ابتدائی زندگی بے حد مشکلات سے بھری تھی۔فاقہ کشی تک کی نوبت آئی۔ لیکن انھوں نے اپنی غیرت مندی پر حرف نہ آنے دیا۔ نہ کبھی کسی سے اپنی مشکلات کا ذکر کیا اور نہ ہی کسی سے مدد مانگی۔
اختر شیرانی کی شاعری کے آپ بہت دلدادہ تھے۔ان سے ملاقات ہوئی تو ان کے شفقت بھرے رویے سے بھی بہت متاثر ہوئے۔ یہ باہمی محبت کا تعلق اختر شیرانی کی موت تک برقرار رہا۔
امتیاز علی تاج سے ملاقات ہوئی تو انھوں ﻧﮯ بچوں کے ماہانہ رسالے پھول کی ادارت پیش کر دی۔ یوں قاسمی صاحب ایک سال تک پھول کے مدیر رہے۔ اس دوران بچوں کے لیے بہت سی نظمیں لکھیں۔
مولانا جوہر کی رحلت پر آپ کی نظم روزانہ سیاست کے سرورق پر شائع ہوئی تو آپ پر شہرت کے دروازے کھل گئے۔ اس کے بعد ان کی کئی نظمیں انقلاب اور زمیندار جیسے معیاری روزناموں کے سرورق پر چھپیں۔
قاسمی صاحب انجمن ترقی پسند مصنفین کے سیکریٹری بھی رہے لیکن بعد میں اصولی اختلافات کی وجہ سے انھوں نے انجمن سے علاحدگی اختیار کر لی۔۔
قاسمی صاحب کے ادبی رسالے فنون نے اپنے اعلی معیار کی وجہ سے ایک ادبی شہکار کا مقام حاصل کیا۔ فنون میں چھپنے والی تخلیق کو معیار و اعتبار کی سند مل جاتی تھی۔
آپ کی تصنیفات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان میں شاعری، افسانے، ڈرامے، بچوں کا ادب، تنقید، مضامین وغیرہ شامل تھیں۔ کپاس کا پھول، نیلا پتھر، جلال و جمال، محیط، دوام، شعلہ گل وغیرہ شامل ہیں۔
انھیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز کے علاوہ تین کتابوں پر آدم جی ایوارڈ، اور عالمی فروغ ادب دوحہ کی طرف سے بھی ایوارڈ دیا گیا۔
احمد ندیم قاسمی 10 جولائی 2006 ﺀ کو حرکت قلب بند ہو جانے سے نوے برس کی عمر خالق حقیقی سے جا ملے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام:
کبھی نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اس کی دولت ہے فقط نقش کف پا تیرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﮐﻮﻥ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﻮﺕ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﺮ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ
ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﺭﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺷﻤﻊ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺟﻼﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﻧﺪﯾﻢؔ
ﺑﺠﮫ ﺗﻮ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ ﻣﮕﺮ ﺻﺒﺢ ﺗﻮ ﮐﺮ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ
۔۔۔۔۔۔۔
پوچھ بیٹھا ہوں میں تجھ سے ترے کوچے کا پتہ
ترے حالات نے کیسی تری صورت کر دی



