اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آج لاکھوں دلوں میں بسنے والے شاعر فیض احمد فیض کی برسی ہے

images 46

فیض احمد فیض 13 فروری 1911ء کو کالا قادر، میں پیدا ہوئے۔ شعر و سخن سے دل چسپی بچپن سے ہی تھی۔  پہلی شعری تخلیق دسویں جماعت میں قلمبند کی۔ سکول میں آپ نے عربی اور فارسی بھی پڑھی۔ گریجویشن گورنمنٹ کالج لاہور سے کی اور انگریزی میں ماسٹرز بھی وہیں سے کیا۔ بعد ازاں اورینٹل کالج لاہور سے عربی میں بھی ماسٹرز کیا۔

فیض انگریزی کے استاد کے طور پر کالجوں میں پڑھاتے رہے۔ سجاد ظہیر اور محمود الظفر کے ساتھ مل کر انجمن ترقی پسند مصنفین کی بنیاد رکھی۔ آپ ترقی پسند تحریک کے بانیان میں شامل تھے لیکن دیگر بہت سے ترقی پسند شعراء کی طرح انھوں نے اپنی شاعری کو نعرے بازی بنانے کے بجائے سخن دلنواز بنانے کو ترجیح دی۔

فیض نے فوج میں بھی ملازمت کی۔ آپ محکمہ تعلقات عامہ میں خدمات سر انجام دیتے رہے۔ آپ فوج سے  لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے تک پہنچ کر 1947 میں مستعفی ہوئے۔ اس کے بعد آپ نے پاکستان ٹائمز کی ادارت سنبھالی۔  اسی سال آپ نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کی بنیاد رکھی۔  آپ ورلڈ پیس کونسل کے رکن بھی رہے۔

مارچ انیس سو اکاون میں فیض کو راولپنڈی سازش كیس میں معاونت كے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔  اس حساس شاعر، سچے کامریڈ اور انسان دوست دانش ور نے اپنی عمر کے قیمتی چار سال سرگودھا، ساہیوال، حیدرآباد اور کراچی كی جیلوں میں گزارے۔ زنداں نامہ كی بیشتر نظمیں پس دیوار زنداں رہ کر لکھی گئیں۔

بجھا جو روزن زنداں تو دل یہ سمجھا ہے
کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہوگی
چمک اٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے
کہ اب سحر ترے رخ پر بکھر گئی ہوگی

رہائی کے بعد آپ نے جلاوطنی اختیار کر لی اور لندن میں اپنے خاندان سمیت رہائش پزیر رہے۔

لندن سے واپسی پر آپ عبداللہ ہارون کالج کراچ میں پرنسپل کے عہدے پر فائز رہے۔

اقبال کے بعد فیض اس عہد کے سب سے بڑے شاعر تھے۔ وہ پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھر میں سامراج دشمنی اور  جبر و استبداد کے خلاف جدوجہد کی وجہ سے لاکھوں دلوں کی دھڑکن بنے۔ کوئی خوف، کوئی لالچ کوئی رعونت آپ کو اپنی راہ سے نہ ہٹا سکی۔

فیض ترقی پسند بھی تھے اور انقلابی بھی لیکن اپنی شاعری کو انھوں نے شعری معیارات کے بلند درجے سے نیچے نہیں آنے دیا۔ ان کی شاعری میں بلا کا تغزل اور موسیقیت ہے۔ فیض ایک ایسے جدا گانہ اسلوب کے شاعر ہیں جنھوں نے انقلابی نظریات کو مترنم شاعری کے ساتھ کمال ہنر مندی سے آمیز کیا۔ انھوں نے انسان دوستی اور حسن اخلاق کا وہ نمونہ پیش کیا کہ دوست تو دوست ان کے نظریاتی دشمن بھی ان کی عظمت کے منکر نہیں ہو سکتے۔

"سارے سخن ہمارے” اور "نسخہ ہائے وفا” ان کی کلیات ہیں.اس کے علاوہ نثر میں بھی ان کی درج ذیل کتب ہیں۔

"میزان”، "صلیبیں مرے دریچے میں”، "متاع لوح و قلم”، "ہماری قومی ثقافت” اور "مہ و سال آشنائی”۔

فیض احمد فیض 20 نومبر 1984ء کو لاہور میں جہان عدم کو سدھار گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم دیکھیں گے

ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اُڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارضِ خدا کے کعبے سے
سب بُت اُٹھوائے جائیں گے
ہم اہلِ صفا مردودِ حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو ناظر بھی ہے منظر بھی
اٹھّے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلقِ خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے

غرور سرو و سمن سے کہہ دو کہ پھر وہی تاجدار ہوں گے
جو خار و خس والئ چمن تھے عروج سرو و سمن سے پہلے

انہیں کے فیض سے بازار عقل روشن ہے
جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے

جوہری بند کئے جاتے ہیں بازار سخن
ہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے

مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

images 47


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481