اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آج عظیم حریت پسند شیر میسور ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش ہے

images 45 1

فتح علی ٹیپو سلطان 20 نومبر، 1750ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد سلطان حیدر علی نے نہ صرف ان  کی تعلیم و تربیت کا خصوصی خیال رکھا بلکہ عسکری اور سیاسی امور میں بھی انھیں اپنے ساتھ شامل رکھا۔  ان کی محنت اور دلچسپی رنگ لائی اور محض سترہ سال کی عمر میں انھیں کئی امور میں خود مختارانہ فیصلہ سازی کا اختیار دے دیا گیا۔

برطانوی سامراج جو ایسٹ انڈیا کمپنی کی وساطت سے سونے کی چڑیا میں صرف تجارت کی غرض سے داخل ہوا تھا یہاں کے وسائل دیکھ کر اس کی رال ٹپکنے لگی اور ریشہ دوانیوں پر اتر آیا۔ سلطنت میسور نے درست ترجیحات قائم کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ برصغیر کے لوگوں کا پہلا مسئلہ برطانوی سامراج کا اخراج ہے۔ یہی وجہ تھی کہ سلطان حیدر علی اور ٹیپو سلطان نے سامراج کے خلاف مزاحمت کی تاریخ رقم کی۔  لیکن نظام اور مرہٹے ٹیپو کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے تھے اس لیے انھوں نے سامراج سے اتحاد کرلیا۔

ٹیپو سلطان ایک زیرک اور دور اندیش حکمران تھے۔ سلطنت میسور کو انھوں نے ایک فلاحی ریاست بنایا۔ جس میں عوام کی فلاح و بہبود اور معاشی خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے دوررس پالیسیاں تشکیل دی گئیں۔ تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی۔ بلا تخصیص مذہب و ذات سب کو پر امن زندگی گزارنے کے لیے سہولیات مہیا کی جاتیں۔ ٹیپو سلطان کے عہد میں سلطنت میسور کے انتظامی محکمہ جات کی تعداد سو کے قریب تھی۔

ملکی دفاع پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔  سامراج کے خلاف کئی اسلامی ممالک سے بھی مدد کے حصول کی کوشش کی گئی مگر کوئی بھی مسلم حکمران حالات کی سنگینی کا ادراک نہ کر سکا اور ٹیپو سلطان کو بیرونی کمک نہ مل سکی۔ شیر میسور نے ہندوستان میں سب سے پہلے جنگ میں میزائل اور راکٹ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔ فوج کو سائنسی خطوط پر منظم کیا۔ زمینی فوج کے ساتھ ساتھ بحری فوج کی بھی تشکیل کی۔

میسور کی آخری جنگ سامراج نے نہیں جیتی بلکہ آستین کے سانپوں کی غداری نے سلطان کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا۔ ان غداروں میں میر صادق کی باقیات، پنڈت پورنیا، میر غلام علی (لنگڑا)، بدر الزماں خاں نائطہ، میر معین الدین، میر قمر الدین، میر قاسم علی پٹیل اور میر نور الدین جیسے ابن الوقت شامل تھے۔

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

سرنگاپٹم کی آخری جنگ شیر میسور  ٹیپو نے قلعہ بند ہو کر لڑنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن آستین کے سانپوں نے اپنی فطرت دکھائی۔ بزدل انگریز نے جنگ لڑنے کے بجائے غداروں کے ذریعے سازشوں کا سہارا لیا۔ پہلے بارود کے ذخیرے میں آگ لگائی گئی اور پھر غدار ساتھیوں نے دشمن کے لیے قلعے کا دروازہ کھول دیا۔۔ سلطان کو اپنی جان بچانے کا مشورہ دیا گیا مگر شیر میسور نے آخری دم تک لڑنے کا فیصلہ کیا۔  یہ بطل حریت 4 مئی، 1799ء کو میدان جنگ میں دشمنوں سے لڑتے ہوئے مرتبہ شہادت پر فائز ہوا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481