ملائیشیا میں ہفتے کے روز ہونے والے عام انتخابات میں سابق وزیراعظم اور مردآہن مہاتیر محمد کو شکست کا سامنا یے ۔اب تک کے ابتدائی غیر حتمی نتائج کے مطابق سابق وزیراعظم انور ابراہیم کی جماعت 16 نشستوں کے ساتھ آگے ہے۔
واضح رہے کہ ملائیشیا کی پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت کے لیے 112 نشستیں درکار ہوتی ہیں ۔ انتخابات کے نتائج کو دیکھتے ہوئے مبصرین ایک بار پھر یہ پیش گوئی کر رہے ہیں کہ ملائیشیا میں مخلوط حکومت بنے گی ۔
حیرت انگیز طور پر ماضی کی مقبول ترین شخصیت اور مرد آہن مہاتیر محمد اپنی نشست سے بھی الیکشن ہار رہے ہیں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مہاتیر محمد 1981 اور 2003 کے درمیان آہنی ہاتھوں سے ملائیشیا پر حکمرانی کرتے رہے۔ وہ 2018 کے عام انتخابات میں حزب اختلاف "امید کے اتحاد” کی قیادت کرنے کے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں واپس آئے تھے۔
انہوں نے اصلاح پسند اتحاد نے نجیب عبدالرزاق پر بڑی فتح حاصل کی تھی۔ نجیب عبد الرزاق وزیر اعظم رہے اور بعد میں انہیں مالیاتی سکینڈل سے منسلک بدعنوانی کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی اور وہ 12 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
مہاتیرمحمد اپنی 93 ویں سالگرہ کے صرف دو ماہ بعد ایک بار پھر وزیر اعظم بن گئے تھے لیکن ان کی حکومت کو ابتدا ہی سے مشکلات کا سامنا تھا اور یہ حکومت دو سال سے بھی کم عرصے میں اندرونی لڑائی کی وجہ سے گر گئی تھی۔
