اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کالم شالم . . . . . . محکمہ میراثیات

FB IMG 1618206927786 1

"پہاگ لگے رہن”، "دودھ بُوٹا قائم”، "خُوشیاں مانڑوں”، "بچے جیون”، "مولا آباد رکھے”

یہ وہ دُعائیہ کلمات ہیں جو محکمہ میراثیات کے عظیم لوگوں کی زبان پر سب کے لیے ہمیشہ رہتے ہیں۔  میراثی میراث سے نکلا ہے یعنی اپنی اور معاشرے کی روایات اور ثقافت کی میراث کو محفوظ رکھنے والا۔
ہم اکثر سوچتے تھے کہ نارمل پیدائش، دو ہاتھ ، دو کان، دو آنکھیں۔۔۔ ہماری طرح کی مکمل انسانی شکل ۔۔۔ پھر ایسے لوگوں کو نگاہِ کم تر سے دیکھنے کا کیا جواز ہے؟ غور و فکر کے بعد ہم پر کھلا کہ ہمارا ہندوستانی سماج صدیوں غلامی کی زنجیروں میں جکڑا رہا۔ آریاؤں سے مغلوں تک جو بھی یہاں آیا فاتح ہی بن کر آیا۔ یہاں ذات پات، اونچ نیچ کا مسخ شدہ طبقاتی سماج ابھی تک انسانی سطح تک نہیں پہنچ سکا۔ کسی دانش ور کا قول ہے۔۔۔۔۔
"غلام باشاہوں کی غلطیوں کی پیداوار ہوتے ہیں”

ہم نے اپنی فنی زندگی میں فنِ موسیقی سے وابستہ لوگوں، عرف عام میں میراثیوں، کو اعلی اخلاق کا حامل اور خوش گفتار پایا۔ یہ لوگ ادب آداب کا خیال رکھنے والے اور اعلی تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ برے سے برے حالات میں بھی صابر و شاکر رہتے ہیں- آج ہم ماضی وحال کی جن مدھر دھنوں کو سن کر سر دھنتے ہیں یہ بھی زیادہ تر پیشہ میراثیہ سے تعلق رکھنے والوں کی ہی تخلیق کردہ ہیں۔
ہماری منافقت کا کوئی جواب نہیں۔ ہم ان فن کاروں کو سر محفل تو سراہتے ہیں، داد دیتے ہیں، ان کے ساتھ فخر سے تصاویر بنواتے ہیں مگر جب عزت و تکریم کا معاملہ ہو تو ہم انھی ہستیوں کا کمال ڈھٹائی سے تمسخر اڑاتے ہیں۔

انسانی معاشرے کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ مختلف لوگ مختلف کام کریں تاکہ ہر طرح کی ضروریات پوری ہو سکیں۔ اسی لیے لوگوں نے مختلف پیشے اختیار کر لیے۔۔ لہذا کوئی پیشہ چھوٹا یا بڑا یا ادنی و اعلی نہیں ہوتا۔ چشم تصور کو وا کیجیے۔۔۔۔ اور دیکھیے کہ اگر تمام پیشے ختم ہو جائیں تو کیا معاشرے کا نظام باقی رہ سکے گا؟

اسلام نے بنی نوع انسان کو غلامی سے نجات دلائی۔ خدائے بزرگ و برتر اور نبی آخر زماں علیہ سلام نے واضح کر دیا کہ آدم کی اولاد مٹی سے تخلیق ہوئی ہے۔ اس لیے آدم کی اولاد برابری کے درجے پر فائز ہے۔ قبیلوں اور برادریوں کی تقسیم صرف ان کی پہچان کے لیے کی گئی ہے۔ تکریم و بڑائی کا معیار تقوی، کردار اور علم و فضل ہے۔ محنت کش کمی کمین نہیں ہوتے بلکہ ان کو دین اسلام خدا کا پیارا گردانتا ہے۔۔۔
الکاسب حبیب اللہ۔
اکثر بیرون ملک فنی خدمات کے سلسلے میں جانا ہوتا ہے۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہاں غیر پاکستانی بھی نصرت فتح علی خان، مہدی حسن، مادام نورجہاں، عطاء اللہ عیسی خیلوی، شوکت علی، پٹھانے خان جیسے فنکاروں کو پاکستان کی پہچان قرار دیتے ہیں۔ دو سال پہلے ہم فیض فاؤنڈیشن، لندن کی دعوت پر برطانیہ گئے تو وہاں پروگرام میں دنیا بھر سے آئے لوگوں نے ہماری ثقافت کی تعریف کی۔ ایک پاکستانی دوست نے ایجور روڈ ریستوران پر ہماری ضیافت کی۔ جس میں ان کے گورے دوست بھی شامل تھے۔ بات ثقافت سے سیاست تک پہنچی تو گورے دوستوں نے مےفئر فلیٹ کا ذکر چھیڑ دیا۔ ان کا موقف تھا کہ تیسری دنیا کا ایک ترقی پذیر ملک کیسے سروائیو کرسکتا ہے جب اس کی قسمت اتنے کرپٹ سیاست دانوں، ججوں، بیوروکریٹس اور جرنیلوں کے ہاتھ میں ہو، جو ملکی دولت لوٹ کر اربوں ڈالر کی جائیدادیں اور محلات بیرون ملک بنارہے ہیں۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ گورے اتنا کچھ بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتے حالانکہ ان کی معیشت ہم سے بدرجہا بہتر ہے، معاشی مواقع ان کے ہاں زیادہ ہیں، نظام ان کا منصفانہ ہے۔ لیکن برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا اور دوبئی میں جا بجا ہماری کرپٹ اشرافیہ، بدمعاشیہ کی جاگیریں اور کوٹھیاں خبروں میں رہتی ہیں۔ ان کی نالائق اولادوں کی عیاشیاں ان سے بھی بڑھ کر ہیں کہ حرام کے مال پر پلنے والوں سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے۔

گوروں کی باتیں سن کر ہمارے کان "رتّے لال ” ہوگئے۔ چند لقمے بڑی مشکل سے زہر مار کیے۔ کھانے کہ بعد ہم شرمندہ شرمندہ، بوجھل قدموں سے مے فئر اپارٹمنٹس کے پاس چہل قدمی کرتے ہوئے سوچ رہے تھے۔۔۔۔
خدایا تیرا لاکھ لاکھ شُکر ہے کہ تُو نے ہمیں محکمہ میراثیات سے وابستہ کیا۔ ہماری لاج رکھ لی۔ ورنہ ہماری ” ستھن تمبی شلوار” ایئرپورٹ سے لے کر لندن کے ریستوران تک اتروائی جاچکی ہے ان کرپٹ بندروں کے ہاتھوں؟

. "پہاگ لگے رہین تے مولا خوش رکھے "


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481