اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

انجمن اتحاد عباسیہ رفاہ عامہ کے کاموں میں اپنا کردار ادا کرے

IMG 20221119 WA0057

اہل علم و دانش میرے ساتھ اتفاق کریں گے کہ خاندان عباسیہ کا اتحاد ضروری سہی مگر اس سے زیادہ ضروری اجتماعی کوششوں سے کمیونٹی کے مسائل کا حل یے۔  ہماری کمیونٹی ہمارے لیے اپنا سرمایہ خرچ کرتی ہے، خوبصورت سٹیج سجائے جاتے ہیں، نعرے لگائے جاتے ہیں اور ہمارے پروگراموں میں ہمارے لوگ بڑی تعداد میں شامل ہوتے ہیں۔ مگر اس کے عوض انھیں ملتا کیا ہے؟ گو کہ یہ سوال اٹھانے میں بہت تاخیر ہو چکی ہے لیکن ابھی بھی وقت ہے۔۔۔ کہ اس جانب توجہ دی جائے۔ کیونکہ صبح کا بھولا شام کو گھر آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔

اس سے انکار ممکن نہیں کہ یہ تنظیم مختلف علاقوں کے عباسیوں کو باہم مربوط کرنے کا ذریعہ ہے۔ مگر اس انسلاک کی مقصدیت اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ میری ذاتی رائے میں اس پلیٹ فارم کو اپنی کمیونٹی کے مختلف مسائل حل کرنے کے لیے ہمیں استعمال کرنا چاہیے۔ تاکہ ہمارے قبیلے کے عام آدمی کو ہمارے اس اتحاد سے فائدہ ہو۔ شعور و آگہی عام کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم اشرافیہ کی خدمت گزاری کے لیے پیدا نہیں کیے گئے۔ سیاسی شعبدہ باز جو ستر سالوں سے ہمارے ووٹ کے ذریعے ہمارا ہی استحصال کر رہے ہیں وہ نجات دہندہ کیسے ہو سکتے ہیں۔

اتحاد عباسیہ کو اب تقریروں کے بجائے اپنی کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔ ہمیں مستحق بچوں کی تعلیم کے لیے فنڈ قائم کرنا چاہیے۔ ذہین اور غیر معمولی کارکردگی کے حامل طلبا کو وظائف دینے چاہییں۔ مختلف علاقوں میں یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیے مفت سکول کی سہولت مہیا کرنی چاہیے۔ ہم غریب بچیوں کی شادیوں کے لیے ایک شعبہ قائم کر کے اپنی کمیونٹی کی خدمت کر سکتے ہیں۔ رفاہ ڈویلپمنٹ فورم کے اشتراک و تعاون سے مقامی روزگار اور کاروبار میں معاونت کر کے ہم اپنی کمیونٹی کے ایک بڑے حصے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکتے ہیں۔ ہم ایک بیت المال قائم کر کے جہاں ضرورت ہو مالی مدد اور امداد فراہم کر سکتے ہیں۔ قدرتی آفات کی صورت میں ہماری ٹیمیں مدد اور بحالی کا فریضہ سر انجام دے سکتی ہیں۔
اگر ہم محض نمود و نمائش کی خاطر کثیر سرمایہ اکھٹا کر سکتے ہیں تو کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لیے کیوں نہیں؟
بدقسمتی سے اسی سراب کے گرد گھومتے ہماری عمریں بیت گئیں۔ ہمیں سمجھ جانا چاہیے کہ حکومتوں کی ترجیحات میں عام آدمی کے مسائل کو حل کرنا شامل ہی نہیں ہے۔ انجمن اتحاد عباسیہ کے پلیٹ فارم سے ملک کے نہ سہی اپنی کمیونٹی کے مسائل حل کرنے کے لیے تو جدوجہد کی جا سکتی ہے۔ اب ہمارے پاس مہلت بالکل نہیں ہے۔ ہم ابھی یا کبھی نہیں والی صورت حال میں آ چکے ہیں۔ ہماری کمیونٹی ہم سے مایوس ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے کہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے اور وہ ہم سے لا تعلقی کا اظہار کر دیں ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے کسی عملی سرگرمی کا آغاز کرنا چاہیے۔

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

محمد رفیق عباسی

مرکزی سیکرٹری جنرل وچئرمین لٹریری ونگ

انجمن اتحاد عباسیہ پاکستان


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481