اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پر امن میڈیا ٹاک پر حملہ کے جرم میں پروفیسر پرویز ہود بھائی کو فورا گرفتار کیا جائے

FB IMG 1668790886452 2

آج کنونشن سینٹر میں بھارہ کہو بائی پاس کے حوالے سے کوہسار یونائٹڈ فرنٹ کی میڈیا ٹاک کے دوران قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ہود بھائی نے غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرنٹ کے رہنماؤں پر حملہ کر دیا۔ کے یو ایف کے نوجوان بھی چوکنا تھے اس لیے غنڈہ گردوں کو فرار ہونا پڑا۔ اس بدتہذیبی کے بعد کے یو ایف کے رہنما سفیان عباسی نے میڈیا کو بتایا کہ بھارہ کہو بائی پاس کشمیر، ہزارہ، مری اور کوٹلی ستیاں کے عوام کے علاوہ سیاحوں کے لیے بھی ایک نہایت فیض رساں منصوبہ ہے۔  بھارہ کہو میں اکثر ٹریفک جام رہتی ہے جس سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ مسافروں کے قیمتی وقت کا زیاں ہوتا ہے۔ اس مسئلے کی سنگینی کو پیش نظر رکھتے ہوئے بھارہ کہو بائی پاس منصوبے کی منظوری دی گئی تھی۔

سفیان عباسی نے میڈیا کو بتایا کہ بدقسمتی سے مری اور ہزارہ میں کوئی بڑا ہسپتال نہیں ہے۔ اس لیے وہاں سے شدید بیماروں کو راول پنڈی یا اسلام آباد کے ہسپتالوں تک پہنچانا پڑتا ہے۔ لیکن ٹریفک جام کی وجہ سے متعدد بار مریض رستے میں ہی دم توڑ چکے ہیں۔ بائی پاس کی تکمیل پر جہاں مقامی آبادی کے وقت سفر میں بچت ہوگی وہاں سیاحوں کے مسائل کم ہونے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی میں بھی خاطر خواہ کمی ہو گی۔

کے یو ایف کے رہنما نے میڈیا کو اس امر سے بھی آگاہ کیا کہ پروفیسر ہود بھائی جن درختوں کے حوالے سے پروپیگنڈہ کر کے منصوبے کے خلاف ماحول کی بنیاد پر عدالتوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ بائی پاس منصوبے سے چیڑھ کے چار درخت متاثر ہو رہے ہیں۔ جب کہ باقی سارے درخت پولن الرجی پھیلانے والے توت کے ہیں۔ کے یو ایف کے رہنماؤں نے عدالت کو یقین دھانی کروائی کہ متاثر ہونے والے درختوں کے مقابلے میں دس گنا زیادہ شجر کاری کی جائے گی۔

سفیان عباسی نے قائد اعظم یونیورسٹی میں لسانیت پھیلانے والی آرٹس کونسلز پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انھوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جامعہ قائد اعظم میں منشیات اور اسلحہ عام ہے لیکن ہود بھائی جیسے لوگوں کے منہ اس گھمبیر مسئلے کے خلاف کبھی نہیں کھلے۔

انھوں نے مزید کہا کہ قائد اعظم یونیورسٹی ہماری جامعہ ہے۔ اس کے مسائل ہمارے مسائل ہیں۔ ہم جامعہ کے مسائل کے حل کے لیے بھی جلد ہی میدان میں اتریں گے۔Screenshot 20221118 211746 1

سفیان عباسی نے مطالبہ کیا کہ ان آرٹس کونسلوں پر فورا پابندی لگائی جائے۔

غنڈہ گردی میں ملوث پرویز ہود بھائی کو فورا گرفتار کیا جائے۔

انھوں نے وائس چانسلر اور اسلام آباد انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو مری ایکسپریس وے اور جی ٹی روڈ بند کر کے اہل کوہسار دھرنے کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481