اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مفتی اعظم پاکستان مولانا رفیع عثمانی اللہ کو پیارے ہو گئے

images 39

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی (پیدائش: 21 جولائی 1936ء) آج بروز جمعہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔

آپ مشہور دینی درسگاہ جامعہ دارالعلوم کراچی کے رئیس الجامعہ بھی تھے۔

مولانا مفتی رفیع عثمانی، مولانا مفتی تقی عثمانی اور مولانا مفتی  ولی رازی  کے بھائی اور معروف شاعر سعود عثمانی کے چچا تھے۔

مفتی رفیع عثمانی ۔۔ ایک تعارف (بحوالہ وکی پیڈیا)

آپ برصغیر کے بلند پایہ عالم دین ، فقیہ اور مصنف تھے۔ جامعہ دار العلوم کراچی کے رئیس الجامعہ اور صدر مفتی تھے۔

ملک وملت کےلیے  آپ کی گرانقدر علمی اور سماجی خدمات ہیں، دو درجن سے زائد ضخیم تحقیقی ، علمی و اصلاحی کتب اور دیگر شا ہکارکتب تصنیف فرمائیں۔

مفتی محمد رفیع عثمانی 1936  میں اترپردیش  کے ضلع سہارنپور  کے مشہور قصبہ دیوبند میں تحریک پاکستان کے سرکردہ رہنماء مفتی اعظم محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ کے گھر پیدا ہوئے۔

بتدائی تعلیم اور حفظ قرآن کا آغاز دارلعلوم دیوبند سے کیا۔ 1947ء میں خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے پاکستان آئے تو عمر 12 سال تھی، 1948ء میں مسجد باب السلام آرام باغ کراچی سے حفظ قرآن کی تعلیم مکمل کی۔ 1951ء میں اپنے والد کی قائم کردہ دینی درسگاہ  جامعہ دارالعلوم سے درس نظامی کی تعلیم کے لئے داخلہ لیا ،آپ کا شمار دارالعلوم کے اولین طلبا میں ہوتا ہے۔ جہاں سے 1960ء میں عالم فاضل، مفتی کی تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی کی ڈگری حاصل کی ۔

جامعہ دارالعلوم کراچی سے ہی تدریس کا آغاز کیا، 1971ء میں دارالافتاء اور دارالحدیث کی ذمہ داریاں آپ کے سپرد ہوئیں اور 1976ء میں مفتی شفیع رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد دارالعلوم کے انتظام وانصرام آپ کے کندھوں پر آیا، آپ کی شبانہ روز انتھک جدوجہد ہے کہ دارالعلوم کا شمار آج پاکستان کی منفرد ، منظم بڑی جامعات میں ہوتا ہے۔

1995ء مفتی اعظم ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ کے انتقال ہوا تو اعلیٰ ترین علمی خدمات پر مشاہیر علما کرام نے مفتی اعظم پاکستان کا عہدہ آپ کے سپرد کردیا،

مفتی محمد رفیع عثمانی و فاق المدارس العربیہ پاکستان کے نائب صدر، کراچی یونیورسٹی اور ڈاو یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ ممبر، اسلامی نظریاتی کونسل ، رویت ہلال کمیٹی اور زکوۃ و عشر کمیٹی سندھ کے ممبر اور سپریم کورٹ آف پاکستان اپیلٹ بنچ کے مشیر بھی رہے ، تحریک ختم نبوت، دفاع صحابہ ،مذہبی سیاسی تحریکوں میں نمایاں کردار رہا،

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481