اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بگڑتی معاشی صورت حال۔۔۔ عام آدمی کیا کرے؟

FB IMG 1629900828643 2

بگڑتی معاشی صورت حال۔۔۔ عام آدمی کیا کرے؟

بد قسمتی سے پاکستان کی معیشت کئی عشروں سے عدم استحکام کا شکار ہے۔ معاشی عدم استحکام سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے غریب ملکوں کو قرضوں کے جال میں پھنسا کر ان کے وسائل پر قبضہ کر لیتے ہیں اور پھر چند با اثر شخصیات کو ساتھ ملا کر ایسی پالیسیاں بنواتے ہیں جن سے خود انحصاری کے بجائے پسماندہ ملک اپنا نظام مملکت چلانے کے لیے ہمیشہ ان کے قرضہ جات کے محتاج رہیں۔ عالمی طور پر اس وقت سرمایہ دارانہ معاشی نظام کی فرمانروائی ہے، جو عالمی سطح پر مہنگائی اور غربت کم کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کر کے امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر بنا رہا ہے۔

پاکستان میں آئی ایم ایف کی شرائط مان کر غریب کش اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ضروریات زندگی بے حد مہنگی ہو گئی ہیں۔ عوام کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں جب کہ اشرافیہ کے اللے تللے بدستور جاری ہیں۔ اور ان کے جاری رکھنے پر آئی ایم ایف کو کبھی اعتراض نہیں ہوا۔ اگر اعتراض ہے تو ترقیاتی منصوبوں پر، قیمتیں کم رکھنے پر، فلاحی اسلامی ریاست کے اصول اپنانے پر، اپنے قدرتی وسائل کو اپنے ملک کی ترقی کے لیے استعمال کرنے پر۔

اب تو عالم یہ ہے کہ مہنگائی کے طوفان نے نہ صرف غریب کا جینا دوبھر کر دیا ہے بلکہ مڈل کلاس طبقہ بھی غربت کی لکیر تک پہنچ چکا ہے۔ حالات بدترین نہج تک پہنچ چکے ہیں اور ملک دیوالیہ ہونے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پانی سر سے گزرنے سے پہلے بحران سے نبرد آزما ہونے کے لیے پیش بندی کر لی جائے۔

ایک عام گھر کے بجٹ میں سودا سلف، بجلی، گیس اور پانی کے بل، بیماری کی صورت میں علاج معالجہ، بچوں کے تعلیمی اخراجات اور شادی و غمی کے اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ مندرجہ بالا میں سے کچھ پر تو ہمارا کوئی اختیار نہیں لیکن درج ذیل پر عمل کر کے (خصوصا کوہسار کے باسی) معاشی مسائل کی شدت کو کم کر سکتے ہیں۔

سب سے پہلا کام زراعت کا فروغ ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور آبادی کا بڑا حصہ زراعت پر انحصار کرتا آیا ہے۔
اگر آپ کے پاس دو سے 5 کنال تک زمین موجود ہے تو آپ کے کچن کی ساٹھ فیصد ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔ سال میں دو فصلیں اگائی جا سکتی ہیں۔ گندم کی فصل سے سال بھر کے آٹے کی ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔ بھوسہ جانوروں کے چارے کے طور پر کام آ سکتا ہے۔

اسی طرح موسمی سبزیاں بھی با آسانی اگائی جا سکتی ہیں۔ اور یوں خاندان کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ خصوصی توجہ سے مہنگی بکنے والی سبزیوں بروکلی ، آئس برگ وغیرہ کے علاوہ خاص پھل جیسے سٹرابری، چیری، لیچی، اواکادو کی کاشت سے اچھی خاصی آمدن بھی ہو سکتی ہے۔ نیز جو پھل علاقے میں پیدا ہوتے ہیں اور عموما جن کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے، انھیں بھی اچھی پیکنگ میں مارکیٹ تک پہنچا کر آمدن کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔

"ایک خاندان کی دوسری بڑی ضرورت "ڈیری مصنوعات ہیں، جن کی قیمتیں آج کل آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے کو آپریٹو ڈیری فارمنگ کی جا سکتی ہے۔ مثلا تین سے چار افراد مل کر ایک ڈیری فارم بنا لیں۔ جہاں محکمہ لائیو سٹاک کی ہدایات کی روشنی میں اور کوہسار کے موسم سے ہم آہنگ کم از کم چار دودھ دینے والی اچھی نسل کی گائیں رکھی جائیں۔ جن کی تعداد میں بہ تدریج اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ان خاندانوں کو تازہ اور خالص دودھ ،دہی اور مکھن بھی مل جائے گا اور دودھ کی فروخت سے ڈیری فارم کے ضروری اخراجات بھی پورے ہوتے رہیں گے۔ خدا نخواستہ کسی نقصان کی صورت میں خسارہ بھی چاروں میں تقسیم ہو جائے گا۔ جانوروں کا گوبر کھاد کے طور پر استعمال ہو جائے گا۔ فصل سے حاصل ہونے والا بھوسہ بھی جانوروں کے چارے کے طور پر استعمال میں آ جائے گا۔

پولٹری بھی تقریبا ہر گھر کی ضرورت ہے۔ ایک گھر میں اگر چھ سٹارٹر مرغیاں لا کر رکھی جائیں تو اتنے ہی انڈے روزانہ مل سکتے ہیں۔ مرغیوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اپنا رزق خود تلاش کر لیتی ہیں۔ نیز گھر کی بچی کچھی روٹی وغیرہ سے بھی ان کی خوراک پوری کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح کسی پولٹری فارم سے شیور مرغی جس کا وزن ایک کلو سے کم ہو دس, بارہ کی تعداد میں زندہ خرید لی جائیں۔ انھیں فیڈ کے بجائے عام خوراک دی جائے۔ ضرورت پڑنے پر انھیں ذبح کر کے گوشت کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ دیسی خوراک کی وجہ سے اس گوشت کے ذائقے میں فرق محسوس کیا جا سکتا ہے اور اس میں غذائیت بھی زیادہ ملے گی نیز چار ہفتے گزرنے پر بھی ادویات کا اثر بھی خاصی حد تک رفع ہو جائے گا۔

اناج، سبزیاں اور ڈیری و پولٹری کی مصنوعات اگر خالص ملیں گی تو بیماریوں کی شرح بھی کم ہو گی۔ کھیتوں میں کام کر کے ذوق کی تسکین بھی ہو گی، مالی فوائد بھی حاصل ہوں گے اور ورزش بھی ہوتی رہے گی۔ جو موبائل، کمپیوٹر اور ڈیجیٹل میڈیا کی وجہ سے ہماری زندگی کا اب حصہ نہیں رہی۔

اسی طرح طلبا و طالبات کو دوران تعلیم ہی روزگار کے مواقع تلاش کرنے ہوں گے۔ فری لانسنگ، اور آنلائن بزنس کی صورت میں ایک وسیع دنیا ان کے سامنے موجود ہے۔

بجلی کی ضرورت اور طلب دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور بھاری بلوں سے غریب آدمی سخت پریشان ہے۔ گھر کی چھت پر دو سولر پینل لگا دیئے جائیں تو کسی حد تک معاونت ضرور ہو سکتی ہے۔ سوال یہ ہو گا کہ پینل مہنگے ہیں، خریدے کیسے جائیں تو عرض ہے کہ کوئی گھر ایسا نہیں ہے جہاں دو تین اچھی قیمت کے اینڈرائڈ موبائل فون موجود نہ ہوں۔ اگر موبائل خریدے جا سکتے ہیں اور مہینے بھر کے مہنگے پیکجز کروائے جا سکتے ہیں تو یہ بھی ناممکن نہیں ہے۔ مسئلہ صرف ترجیحات کا ہے۔

گھریلو صنعتوں کے حوالے سے بھی کئی منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے لیے بہت سے سمال بزنس ایسے ہیں جن کا معمولی رقم سے آغاز کیا جا سکتا ہے۔

اسراف سے بچنا، خواہشات کے پیچھے نہ بھاگنا اور سادہ زندگی گزارنا مسلمان کے لیے حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ اگر ہم کامیابی چاہتے ہیں تو دین کے ان زریں اصولوں پر عمل کر کے نہ صرف زندگی سکون و طمانیت سے گزار سکتے ہیں بلکہ اپنی آخرت بھی بہتر بنا سکتے ہیں ۔

مذکورہ بالا چند کام ہماری معاشی مشکلات میں خاطر خواہ کمی کا ذریعہ بن سکتے ہیں لیکن یاد رہے کہ یہ کام صرف سوچتے رہنے، شیخ چلی جیسے منصوبے بنا لینے یا خالی خولی تقریریں کرنے سے نہیں ہوں گے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا پڑھا لکھا طبقہ عملا معذور ہوتا جا رہا ہے۔ یعنی تعلیم بڑھتی جا رہی ہے اور معذوروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کیونکہ یہ طبقہ ہاتھ سے کام کرنے کو اپنی توہین سمجھتا ہے۔ گھر اور سکول میں بچوں کو یہی سکھایا جاتا ہے کہ پڑھو لکھو گے تو افسر بنو گے ، کرسی پر بیٹھو گے اور کام بھی نہیں کرنا پڑے گا۔

ہم نے رفاہ ڈویلپمنٹ فورم کے پلیٹ فارم سے گزشتہ کچھ سالوں میں عملی طور چھوٹی چھوٹی تنظیمیں بنا کر عملی کام کیا ہے اور الحمد للّٰہ ہمارے اکثر تجربات کامیاب رہے ہیں۔ ہم کوہسار کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے احباب سے گزارش کریں گے کہ وہ ہمارے جاری اور مکمل پروجیکٹ دیکھنے کے لیے تشریف لائیں۔۔ ہم ہر قسم کی رہنمائی مہیا کریں گے۔

اگر ہمیں عظیم قوم بننا ہے تو محنت و مشقت کی طرف پلٹنا ہو گا۔ آغاز اپنے آپ سے کرنا ہو گا۔ فرد سے افراد اور افراد سے قومیں تشکیل پاتی ہیں۔ حالات بہتر بنانے کے لیے بنیادی شرط خود احتسابی ہے۔ ہمیں اپنا اپنا محاسبہ کرنا ہو گا اور خود کو جواب دینا ہو گا کہ اس ملک کے لیے ہم نے آج تک کیا کیا؟ کیا اپنی بساط میں جو کچھ تھا اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے ہم نے کیا؟

سوچیں۔۔۔منصوبہ بندی کریں اور پہلا قطرہ بنتے ہوئے
پہلا قدم اٹھا دیں کہ ہزاروں میل کے سفر کا آغاز پہلا قدم اٹھانے سے ہوتا ہے۔

IMG 20210918 164940 401

اللہ پاک ہم سب کو ملک کی ترقی اور اپنے لوگوں کی خدمت کے لیے عملی طور پر اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

احسن سراج عباسی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481