اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کوہسار کے مسائل کا حل کیسے ممکن ہے؟

images 39 1

موسم سرما کے آغاز میں ہی کوہسار کے بعض علاقوں میں برف باری کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اکثر لوگوں کو امید تھی کی سردی کی شدت میں اس درجے کا اضافہ کہیں دسمبر میں جا کر ہو گا۔ اسی لیے سردی کے حوالے سے انتظامات مثلا سوختی لکڑی کی تجمیع، گرم کپڑوں کی خریداری، مال مویشی (اگرچہ اب یہ تکلف گنے چنے لوک ہی کرتے ہیں) کے کمروں کو گرم رکھنے کے انتظامات وغیرہ ابھی نہیں کیے گئے تھے۔

کوہسار سیاحت کے حوالے سے پاکستان کا مقبول ترین علاقہ ہے۔ پچھلے سال کے سانحہ مری نے جہاں اداروں کی اپنے فرائض کے معاملے میں مجرمانہ غفلت کا بھانڈا پھوڑا وہیں بہت سے اور حقائق بھی طشت از بام ہوئے۔ تعمیرات کے سلسلے میں جس طرح حکومت پنجاب کے بائی لاز کی دھجیاں بکھیری گئی ہیں اس کی مثال پورے ملک میں کہیں نہیں ملتی۔۔ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والوں نے تین کے بجائے چودہ چودہ منزلہ ہوٹل اور فلیٹس کھڑے کر رکھے ہیں۔ اہل جاہ و حشم کے مالی مفادات کو تحفظ دینے کے لئے جس طرح جنگلات کو تباہ کیا گیا اس کے مجرموں کو سزائے موت دے کر بھی قرار واقعی سزا نہیں دی جا سکتی۔images 27

میڈیا، عدالتیں، افسران اور ادارے کبھی کبھار سیاحوں کے حقوق کے حوالے سے بات کرتے ہیں تاکہ انگلی کٹا کر وہ بھی شہیدوں میں اسم شماری کروا لیں۔ سیاسی نمائندے بھی کمرشل علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے ہیں کہ ان کے اپنے مالی فائدے بھی کسی نہ کسی طرح سے کوہسار کے کمرشل ایریا سے وابستہ ہیں۔ لیکن کوہسار کے باسی، جو اس نعمت خداوندی کے اصل مالک ہیں، ان کے مسائل کے بارے میں نہ کسی سیاسی نمائندے کو پروا ہے، نہ کسی ادارے کو اس بارے میں کچھ کرنے کی توفیق ہوئی اور نہ ہی اعلی افسران نے کمرشل ایریا سے نکلنے کی زحمت گوارا کی۔

سیاحت کے فروغ سے حکومت پنجاب کو جو ریونیو ملتا ہے وہ حق تو یہ ہے کہ اسی علاقے کی ترقی اور مقامی لوگوں کی بہبود پر خرچ کیا جائے۔ چلیے سارا نہ سہی ۔۔ نصف ہی خرچ کر دیں۔ مگر یہاں گنگا الٹی ، بلکہ الٹی پلٹی، بہتی ہے۔ جیسے ہی آپ مین روڈ سے لنک روڈ پر آتے ہیں سڑک کھنڈرات کا منظر پیش کرتی ہے۔

تمام کی تمام سہولیات کمرشل ایریا میں فراہم کی گئی ہیں۔ ہسپتال، سکول وغیرہ اکثر مین روڈ پر یا اس کے قریب واقع ہیں۔ دفاتر ہیں تو وہ بھی کمرشل ایریا میں ہیں۔ جب کہ مقامی آبادی میلوں دور بستیوں اور گاؤں میں آباد ہے۔ سیاحت کے سیزن میں ٹریفک جام سے مقامی آبادی کی زندگی اجیرن ہوتی ہے تو سردیوں میں برف باری کی وجہ سے لنک روڈز بند ہو جاتی ہیں اور مقامی لوگوں کے لیے کمرشل ایریا تک رسائی جوئے شیر لانے کے مترادف ہو جاتی ہے۔

جنگلات سے ملحقہ آبادیاں سوختی لکڑی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اب بھی درختوں کا نقصان کرتی ہیں۔ لیکن یہ سرگرمی اب وسیع پیمانے پر نہیں ہوتی۔ حکومت نے کچھ علاقوں میں گیس کی سہولت پہنچائی ہے لیکن ابھی نسبتا بہت کم علاقے اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ کبھی راشن کی سوختی لکڑی عام تھی اب وہ بھی عنقا ہے۔ گیس سلنڈر کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور کوہسار کے دور دراز علاقوں میں تو قیمتوں پر کوئی کنٹرول ہی نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس شدت کے سرد موسم میں مقامی آبادی کیا کرے؟

برف باری کے بعد رابطہ سڑکیں بند ہو جائیں گی۔ مقامی آبادی کے پاس سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کے ووٹوں سے منتخب ہو کر وی آئی پی بننے والی شخصیات کو اسلام آباد، ایبٹ آباد یا دیگر بڑے شہروں میں پرتعیش زندگی کی سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے ووٹرز کہاں یاد آئیں گے۔

سوال یہ ہے کہ اہل کوہسار کے دکھوں کا مداوا کون کرے گا؟ کیا اس جنت ارضی کے مکین اپنے سیاسی نمائندوں کے جھوٹے وعدوں پر مزید دو چار دھائیوں کا ضیاع برداشت کر سکتے ہیں؟ کیا رہی سہی آبادی بھی بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی کر جائے؟ کیا ان مسائل کا حل ممکن نہیں ہے؟ میرا خیال ہے رفاہ ڈویلپمنٹ فورم نے ہمیں ایک راہ سجھائی ہے۔ اگر سارا کوہسار متحد ہو کر ان منصوبوں پر عمل درآمد شروع کر دے تو ان سب مسائل کے حل کے لیے دھائیاں نہیں صرف چند برس درکار ہوں گے۔

 

Screenshot 20220811 212017 1


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481